حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
پہلی روایت

پہلی روایت

جَابِرَ بْنَ عَبْدِالله يَقُولُ لَمَّا أَنْزَلَ الله عَزَّوَجَلَّ عَلَي نَبِيِّهِ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم «يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ ‏وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِى الْأَمْرِ مِنْكُمْ»[1] قُلْتُ يَا رَسُولَ الله‏ عَرَفْنَا الله وَرَسُولَهُ فَمَنْ أُولُوا الْأَمْرِ الَّذِينَ قَرَنَ الله طَاعَتَهُمْ ‏بِطَاعَتِكَ قَالَ هُمْ خُلَفَائِي يَا جَابِرُ وَأَئِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ بَعْدِي ‏أَوَّلُهُمْ عليّ بن أبي طالب، ثُمَّ الْحَسَنُ ثُمَّ الْحُسَيْنُ ثُمَّ عَلِيّ ‏بْنُ الْحُسَيْنِ ثُمَّ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ (الْمَعْرُوفُ فِي التَّوْرَاة بِالْبَاقِرِوَسَتُدْرِكُهُ يَا جَابِرُ فَإِذَا لَقِيتَهُ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ) ثُمَّ الصَّادِقُ‏ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثُمَّ مُوسَى بْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ عَلِيّ بْنُ مُوسَى ثُمّ‏ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ثُمَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ثُمّ ‏سَمِيِّي وَكَنِيِّي حُجَّةُ الله فِي أَرْضِهِ وَبَقِيَّتُهُ فِي عِبَادِهِ ابْنُ ‏الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ذَاكَ الَّذِي يَفْتَحُ الله تَعَالَي ذِكْرُهُ عَلَي يَدَيْهِ ‏مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا ذَاكَ الَّذِي يَغِيبُ عَنْ شِيعَتِهِ وَ أَوْلِيَائِهِ غَيْبَةً لَايَثْبُتُ فِيهَا عَلَي الْقَوْلِ بِإِمَامَتِهِ إِلَّا مَنِ امْتَحَنَ‏ الله قَلْبَهُ لِلْإِيمَان.[2]

جابر بن عبدالله انصارى کہتے ہیں:جب خدا نے یہ آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ »اپنے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل كی تو میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ!ہم نے خدا اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کو پہچان لیا ، لیکن یہ اولی الأمر کون ہیں ، جن کی اطاعت کو خدا نے واجب قرار دیا ہے ؟

 آپ نے فرمایا: اے جابر!وہ میرے خلیفہ اور جانشین ہیں اور میرے بعد مسلمانوں کے امام ہیں ۔ ان میں سے پہلے على بن ابى طالب ہیں،پھر‏حسن،ان کے بعد حسين، پھرعلى بن حسين،ان کےبعدمحمد بن علی ہیں جو توریت میں باقر سے معروف ہیں ؛ تم انہیں دیکھو گے ، پس‏ جب ان سے ملو تو ان تک میرا سلام پہنچاؤ۔ان کے بعد صادق، جعفر بن محمد ، ان کے بعد موسى بن جعفر، پھر علی بن ‏موسى، پھر محمد بن على، پھر على بن محمد،پھر  حسن بن على اور پھر وہ امام جو میرے ہم نام اور ہم کنیہ ہیں ، وہ زمین پر حجت خدا اور اس کے بندوں میں بقیۃ اللہ ہیں ،وہ حسن بن على کے فرزند ہیں، یہ وہ ہیں جن کے ذریعہ خدا اپنے ذکر اور یاد کو زمین کے مشرق و مغرب میں وسعت دے گا ، یہ وہ ہیں جو اپنے شیعوں اور دستوں کی نظروں سے غائب ہوں گے اور ان کی  امامت پر کوئی بھی شخص ثابت قدم نہیں ہو گا مگر یہ کہ خدا نے اس کے قلبی ایمان کو آزمایا ہو ۔

ہم یہاں اس روایت کے چند  اہم نکات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں:

۱۔جس طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرامین کی اطاعت کرنا واجب ہے ، اسی طرح اولی الأمر کے احکامات و دستورات کی اطاعت کرنا بھی واجب ہے۔

۲۔اس روایت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اولی الأمر کے نام ذکر کئے ہیں تا کہ کوئی اور اولی الأمر ہونے کا دعویٰ نہ کر سکے اور خود کو اولی الأمر نہ سمجھے ۔

۳۔اس روایت میں جن بزرگ ہستیوں کے نام ذکر ہوئے ہیں ، وہ شیعوں کے امام ہیں ۔ اس میں بارہویں امام کا نام ذکر نہیں ہوا لیکن آنحضرت نے انہیں ’’ثمّ سمّيتى وكنيتي‘‘ کے عنوان سے بیان کیا ہے ، یعنی وہ میرے ہم نام اور ہم کنیہ ہیں ... لیکن بارہویں امام کا نام بیان نہیں ہوا ، جو (کم از کم اس زمانے میں) حضرت کے نام کو ذکر کرنے کے عدم جواز پر دلالت کرتا ہے  ۔

۴۔ اس روایت میں یہ بیان ہوا ہے کہ بارہویں امام ؛ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں ۔ پس اس سے بعض اہل سنت کا وہ قول باطل ہو جاتا ہے ، جو کہتے ہیں کہ حضرت کی اب تک ولادت نہیں ہوئی اور آپ اپنے ظہور کے قریب پیدا ہوں گے  ۔

۵۔اس روایت میں تصریح ہوئی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلفاء کی تعداد بارہ ہے،  اس بنا پر باب (انّ الأمّة اثنى عشر) کی رو سے یہ استدلا ل کیا جا سکتا ہے کہ ائمہ علیہم السلام کی تعداد بارہ ہے ۔ 

۶۔اس روایت میں یہ واضح طور پر بیان ہوا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پہلے خلیفہ على بن ابى طالب عليهماالسلام هیں ، جس سے اميرالمؤمنين حضرت امام علی عليه السلام کے چوتھے خلیفہ ہونے کا قول باطل ہو جاتا ہے ۔

۷۔ پانچویں امام کا نام توریت میں بھی ذکر ہوا ہے  جو’’باقر ‘‘ہے ۔

۸۔رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امام باقر علیہ السلام کے زمانے تک جناب جابر کے زندہ ہونے کی پیشنگوئی بیان فرمائی ہے ۔

۹۔اس روایت میں امام باقر علیہ السلام سے جناب جابر کی ملاقات کو بیان کیا گیا ہے ۔

۱۰ ۔ اس روایت میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت کے مسئلہ کو بھی بیان کیا گیا ہے اور آنحضرت نے اس زمانے کی سختیوں کے بارے میں یوں فرمایا ہے کہ کوئی بھی شخص ان کی امامت کے عقیدہ پر باقی نہیں ہو گا مگر یہ کہ خدا نے اس کے ایمان قلبی کا امتحان لیا ہو ۔

 


[1] ۔ سوره نساء، آیت : ۵۹.

[2]۔تفسير اهل بيت عليهم السلام: ۳ / ۲۵۶ ، بحارالأنوار: ۳۶ / ۲۴۹ ، كمال الدين: ۱ /  ۲۵۳ ، العدد القويه: ۸۵، المناقب: ۱ /  ۲۸۲ ، إعلام الورى: ۳۹۷، كشف الغمه:  ۲ / ۵۰۹ ، قصص الأنبياء: ۳۶۰، كفايه الأثر: ۵۳، عوالى اللئالى: ۴ / ۸۹ ، الصراط المستقيم: ۲ / ۱۴۳.

    مراجعین : 4629