حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
ائمہ اطہار علیہم ا لسلام صاحبان امر ہیں

ائمہ اطہار علیہم ا لسلام صاحبان امر ہیں

مذکورہ روایات سے یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے ائمہ اطہار علیہم السلام کے شئون میں سے ایک یہ ہے کہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکامات و دستورات کی طرح ائمہ علیہم السلام کے احکامات کی اطاعت کرنا بھی واجب ہے اور کسی کے لئے بھی ائمہ علیہم السلام کے احکامات کی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے ۔

قرآن کریم میں ائمہ اطہار علیہم السلام کے دستورات کی اطاعت کو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی اطاعت کی طرح قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

 «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ».[1]

اے ایمان والوں خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبان امر ہیں۔

اس آیۂ شریفہ میں ایک مرتبہ«أَطِيعُوا» کا حکم خدا کے لئے استعمال ہوا ہے اور دوسری مرتبہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اولی الأمر کے لئے بیان ہوا ہے ۔ یعنی اولی الأمر کی اطاعت بھی خدا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی اطاعت کی طرح سب پر واجب ہے ۔

اس آیۂ شریفہ کی تفسیر میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں ، جنہیں بزرگ  شیعہ اور اہل سنت علماء نے انہیں اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔

ان روایات پر غور و فکر کریں کیونکہ ان میں بہت ہی اہم مطالب موجود ہیں ، جو ائمۂ اطہار علیہم السلام کے فضائل کی عظمت کو بیان کر رہے ہیں ۔ ہم اس آیۂ مبارکہ  «أَطِيعُوا اللَّهَ» کی تفسیر میں وارد ہونے والی روایات میں سے چار روایات ذکر کرتے ہیں : 

 


[1] ۔ سوره نساء، آیت : ۵۹.

    مراجعین : 4261