حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
اہل بیت علیہم السلام کی عظمت

اہل بیت علیہم السلام کی عظمت

بہت سے پراسرار اور باعظمت عوالم موجود ہیں ، جن کے حیرت انگیز اسرار کے بارے میں ہمارے پاس معلومات نہیں ہیں ۔

ہم عالم انوار ، عالم ارواح ، عالم اشباح، عالم ملك و ملكوت، عالم غيب و شهود... کے بارے میں کیا جانتے ہیں ؟!

ہم عالم مادّى اور غير مادّى کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ہم عالم مرئى و نامرئى کے بارے میں کیا جانتے ہیں ؟!ہمارے پاس عرش الهٰى سے لے کر آسمانوں اور زمینوں کے بارے میں کیامعلومات ہیں ؟ہم اربوں کھربوں کہکشاؤں اور ستاروں کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ ہم جس زمین میں رہتے ہیں اس کے عجیب و غریب رازوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ہم زمین اور کائنات میں موجود دوسری مخلوقات کے بارے میں کیا جانتے ہیں ؟!

کیا خداوند متعال  نے ان تمام جہانوں اور ان میں موجود مخلوقات کو بے کار اور بیہودہ خلق کیا ہے ؟!

قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :

«الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ ‏وَ يَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّماوَاتِ وَ الْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ».[1]

جو لوگ اٹھتے ، بیٹھتے ، لیٹتے خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی تخلیق میں غوروفکر کرتےہیں کہ خدا نے یہ سب بےکار پیدا نہیں کیا ،تو  پاک و بے نیاز ہے ، پس ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما ۔

یہ واضح سی بات ہے کہ یہ تمام کائنات بے کار اور بیہودہ نہیں ہے اور  خدا نے آسمانوں اور زمینو ں کو کسی مقصد کے بغیر خلق نہیں کیا ۔

سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے :

«بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ إِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ‏كُنْ فَيَكُونُ».[2]

وہ آسمان و زمین کا موجد ہے اور جب کسی امر کا فیصلہ کر لیتا ہے تو صرف کن کہتا ہے اور وہ چیز ہو جاتی ہے۔

***

جس خدا نے تمام چیزوں کو اپنے ارادے سے خلق کیا ہے ، اس نے کسے اپنا خلیفہ اور جانشین قرار دیا ہے ؟

ہم جس زمین پر زندگی بسر کر رہے ہیں،اس میں موجودات و مخلوقات پر خلیفہ اور حجت الٰہی کون ہے ؟کیا ان کی خلافت صرف کرۂ ارض تک محدود ہے ؟يا ان کی ولايت زمین اور اہل زمین پر محیط ہے ؟

ان سوالوں کے جواب میں کہنا چاہئے :

جو لوگ قرآن مجید اور اہل بیتعلیہم السلام کی احادیث سے آشنا ہیں ، وہ کبھی بھی خدا کے خلفاء کی ولایت کو صرف زمین اور اس پر بسنے والوں کے لئے مخصوص نہیں سمجھتے ۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے سورۂ احزاب کی بہتّرویں  آیت کی طرف توجہ فرمائیں:

«إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّماوَاتِ وَالْأَرْضِ وَ الْجِبَالِ ‏فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ إِنَّهُ كَانَ ‏ظَلُوماً جَهُولاً».[3]

بیشک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش  کیا مگر ان سب  نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے (بلا تأمل) اٹھا لیا ، بیشک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے ۔

حضرت امام صادق عليه السلاماس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں :

مَا مِنْ شَيْ‏ءٍ وَ لَا مِنْ آدَمِيٍّ وَ لَا إِنْسِيٍّ وَ لَا جِنِّيٍّ وَ لَا مَلَكٍ ‏فِي السَّمَاوَاتِ إِلَّا وَ نَحْنُ الْحُجَجُ عَلَيْهِمْ وَ مَا خَلَقَ الله خَلْقاً إِلَّا وَ قَدْ عُرِضَ وَلَايَتُنَا عَلَيْهِ وَ احْتُجَّ بِنَا عَلَيْهِ فَمُؤْمِنٌ بِنَا وَكَافِرٌ وَ جَاحِدٌ حَتَّي السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ الْجِبَالِ.[4]

سليمان بن خالدنے کہا : میں نے امام صادقعلیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا : کوئی ایسی شیء نہیں ہے ، نہ کوئی ایسا آدمی ہے ،جنّ و انس اور آسمان میں موجود ملائکہ میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ جس پر ہم حجت نہ ہوں ۔ خدا نے کسی بھی ایسی مخلوق کو خلق نہیں کیا  مگر یہ کہ ہماری ولایت اس کے سامنے پیش کی گئی ہو اور ہمارے ذریعہ اس پر حجت تمام کی گئی ہو ۔ کچھ لوگ ہم پر ایمان رکھتے ہیں ، اور کچھ کافر و منکر ہیں،حتی آسمان و زمین اور پہاڑ ۔

اس روايت میں حضرت امام جعفر صادق علیه السلام فرماتے ہیں کہ ہم (معصومين علیهم السلام) زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوقات پر حجتِ خدا ہیں، ہماری ولایت سب کے سامنے پیش کی گئی ہے ، کچھ نے اسے قبول کیا ہے اور کچھ نے اس کا انکار کر دیاہے ۔معصومین علیہم السلام کی ولایت مادیّات پر جیسے آسمان و زمین اور پہاڑوں کے سامنے بھی پیش گئی اور وہ سب اپنے مادّی شعور کی حد تک اس سے آگاہ ہیں ۔

نیز یہ بات ثابت شدہ ہے کہ تمام موجودات ادراک و شعور رکھتی ہیں ،حتی مادّی اشیاء بھی مادّی ادراک و شعور کی حامل ہیں ۔

 


[1] ۔ سوره آل عمران، آیت: ۱۹۱.

[2] ۔ سورهٔ بقره، آيت :۱۱۷.

[3]۔ سورۂ احزاب ، آیت :۷۲.

[4]۔ تفسير اهل بيت عليهم السلام ج ۱۲، ص ۲۹۲، بحارالأنوار: ۲۷ / ۴۶.

    مراجعین : 4519