حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
غدیر کے خطبہ میں امام زمانہ ارواحنا فداہ کے بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمودات

غدیر کے خطبہ  میں امام زمانہ ارواحنا فداہ کے بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمودات

مَعاشِرَ النّاسِ إِنِّي نَبِيٌّ وَعَلِيٌّ وَصِيّي.

أَلا إِنَّ خاتَمَ الْأَئِمَةِ مِنَّا الْقائِمَ الْمَهْدِي.

أَلا إِنَّهُ الظّاهِرُ عَلَى الدِّينِ.

أَلا إِنَّهُ الْمُنْتَقِمُ مِنَ الظّالِمينَ.

أَلا إِنَّهُ فاتِحُ الْحُصُونِ وَهادِمُها.

أَلا إِنَّهُ غالِبُ كُلِّ قَبيلَةٍ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ.

أَلا إِنَّهُ مُدْرِكُ بِكُلِّ ثارٍ لِاَوْلِياءِ اللَّه.

أَلا إِنَّهُ النّاصِرُ لِدينِ اللَّه.

أَلا إِنَّهُ الْغَرّافُ مِنْ بَحْرٍ عَميقٍ.

أَلا إِنَّهُ يَسِمُ كُلَّ ذي فَضْلٍ بِفَضْلِهِ.

وَكُلَّ ذي جَهْلٍ بِجَهْلِهِ.

أَلا إِنَّهُ خِيَرَةُ اللَّه وَمُخْتارُهُ.

أَلا إِنَّهُ وارِثُ كُلِّ عِلْمٍ وَالْمُحيطُ بِهِ.

أَلا إِنَّهُ المُخْبِرُ عَنْ رَبِّهِ عَزَّوَجَلَّ وَالْمُنَبِّهُ بِأَمْرِ ايمانِهِ.

أَلا إِنَّهُ الرَّشيدُ السَّديدُ.

أَلا إِنَّهُ الْمُفَوَّضُ إِلَيْهِ.

أَلا إِنَّهُ قَدْ بَشَّرَ بِهِ مَنْ سَلَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ.

أَلا إِنَّهُ الْباقي حُجَّةً وَلاحُجَّةَ بَعْدَهُ وَلا حَقَّ إِلاّ مَعَهُ وَ لاَ نُورَ إِلاّ عِنْدَهُ.

أَلا إِنَّهُ لاَغالِبَ لَهُ وَ لاَمَنْصورَ عَلَيْهِ.

أَلاَ وَ إِنَّهُ وَلِي اللَّه في أَرْضِهِ،وَحَكَمُهُ في خَلْقِهِ،وَ أَمينُهُ في ‏سِرِّهِ وَ عَلاَنِيَتِهِ.[1]

اے لوگو! میں نبى ہوں اور على میرے وصى ہیں۔

جان لو! خاتم الائمہ قائم مهدى؛ ہم میں سے ہیں۔

جان لو! وہ دین کو آشكار کرنے والے ہیں۔

جان لو! وہ ظالموں سے انتقام لیں گے۔

جان لو! وہ قلعوں کے فاتح اور انہیں نابود کرنے والے ہیں ۔

جان لو! وہ مشرکوں اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کریں گے۔

جان لو! وہ الیاء خدا کے خون کا انتقام لیں گے۔

جان لو! وہ دین خدا کی نصرت کرنے والے ہیں۔

جان لو! وہ حقیقت و معرفت کے بحر عمیق ہیں۔

جان لو! وہ ہر ایک کو اس کے فضل کے مطابق مقام عطا کریں گے۔

جان لو! وہ خدا کے برگزیدہ اور منتخب کردہ ہیں۔

جان لو!وہ وارث انبیاء اور ان کے حقائق کے حامل ہیں۔

جان لو! وہ خداکی طرف سےخبر دینے والے اور اس پر ایمان لانے والوں کو متعارف کرنے والے ہے۔

جان لو!وہ صاحب عقل اور قول و عمل میں استحکام کے مالک ہیں۔

جان لو! دين الهٰى کے امور ان کے سپرد کئے گئے ہیں۔

جان لو!گذشتہ انبیاءنے ان کے وجود کی بشارت دی ہے۔

جان لو!وہ خدا کی باقی (اور آخری)حجت  ہیں اور ان کے بعد کوئی حضت نہیں ہے، حق صرف ان کے ساتھ ہے اور نور صرف ان کے پاس ہے ۔

جان لو! وہ ہمیشہ  غالب ہیں اور کوئی انہیں شکست نہیں دے سکتا ۔

جان لو! وہ روئے زمین پر خدا کے ولی ، بندوں میں اس کے حاکم اور خدا کے اسرار و ظواہر کے امین ہیں۔

حضرت رسول اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غدیر کے خطبہ میں ایک دوسرے مقام پر بھی لوگوں کو امام زمانہ عجل اللہ تعالٰى فرجه الشریف کے مقام و مرتبہ سے  آگاہ فرمایا ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غدیر کے عظیم خطبہ میں امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام مقام ولایت کی عظمت اور آپ کے اوصیاء بالخصوص امام زمانہ عجل اللہ تعالٰى‏ فرجه الشریف کے مقام و مرتبہ کی عظمت کو بيان فرمایا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ سب لوگوں کو چاہئے کہ وہ قیامت تک یہ حقائق دوسروں تک پہنچائیں اور لوگوں کو ان سے آگاہ کریں ۔ہم تیسرے باب میں اس بارے میں مزید کچھ مطالب بیان کریں گے۔

***

حضرت صاحب العصر و الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے مقام و مرتبہ سے آشنا ہونے کے لئے اہل بیت اطہار علیہم السلام کی ولایت کی عظمت کو پہچاننا بہت ضروری ہے۔ اس لئے ہم ایک الگ باب میں اس کی وضاحت کریں گے۔

 


[1]۔الاحتجاج:۱/۸۰، ترجمه احتجاج طبرسى:۱/۲۰۰.

    مراجعین : 4124