غدیر کا جاودانہ خطبہ اور امام زمانہ ارواحنا فداہ کی تبلیغ
حضرت امام زمانہعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے مقام و مرتبہ کی عظمت سے آشنا ہونے کا ایک بہترین طریقہ ان چیزوں کو جاننا اور انہیں قبول کرنا ہے جو عید غدیر کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امیر المؤمنین حضرت امام علیعلیہ السلام اور حضرت بقيّة اللہ الأعظم ارواحنا فداه تک آپ کے اوصیاء کے بارے میں بیان کی اور فرمایا کہ قیامت تک کے لوگوں کو ان سے آگاہ کرو۔
قابل غوربات یہ ہے کہ غدیر کے دن بنی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو غدیر کا خطبہ ارشاد فرمایاتھا ، اس سے اس سرزمین پر ایک لاکھ بیس ہزار لوگ آگاہ ہوئے، جس کا شمار متوتر احادیث میں ہوتا ہے ، جس کے صحیح ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے،سینکڑوں اصحاب اور تابعین نے اسے نقل کیا ہے اور بڑے بڑے شیعہ اور سنی علماء نے اسے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غدیر کے خطبہ میں جو اہم مطالب بیان فرمائےہیں، ہم سب کو ان سے آگاہ ہونا چاہئے اور انہیں اپنے عزیز و اقارب تک پہنچانا چاہئے تاکہ وہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دستورات پر عمل کر سکیں۔ آنحضرت نے اس خطبہ میں بہت ہی اہم امور بیان فرمائے ہیں جن میں سب سے اہم امر امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اور آپ کے بعد کے ائمہ اطہار علیہم السلام کا مقام ولایت و امامت ہے۔
غدیر کے خطبہ میں حضرت بقیۃ اللہ الاعظم ارواحنا فداه کےمقام ولایت و امامت کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کےفرمودات ہمیں حضرت امام مهدى عجل اللہ تعالٰى فرجه الشریف کے عظیم مقام و مرتبہ سے آگاہ کرتے ہیں کہ حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ کا مقام و مرتبہ کس قدر باعظمت اور وسیع ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں پر کس حد تک یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حضرت کے صفات و خصوصیات سے آشنا ہوں اور دوسروں کو بھی ان حقائق سے آگاہ کریں۔ اس کی وضاحت کے لئے ہم حضرت مهدى عجل اللہ تعالى فرجه الشریف کے بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرامین نقل کرتے ہیں:








