حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
امام زمانہ ارواحنا فداہ کی خدمت کرنے کے بارے میں قم کے ایک عالم کا مکاشفہ

امام زمانہ ارواحنا فداہ کی خدمت کرنے کے بارے میں قم کے ایک عالم کا مکاشفہ

مرحوم آیت اللہ سید مہدی لنگرودی لکھتے ہیں:

محرم الحرام سنہ ۱۴۲۱ھ کے آخر میں خواب اور بیداری کی درمیانی حالت میں میرے ساتھ ایک مکاشفہ پیش آیا اور وہ یہ کہ میں فقہ کے بارے میں ایک تحقیقی کتاب لکھنے میں مصروف تھا کہ میرے سامنے ایک جلیل القدر اور نورانی سید آئے ، جن کے سر پر سبز رنگ کا عمامہ تھا ۔ انہوں نے مجھے میرے نام سے مخاطب کیا اور فرمایا : تم اس کتاب کا مطالعہ کیوں نہیں کرتے ؟ میں نے عرض کیا کہ آقا! میری مصروفیات بہت زیادہ ہیں اور میرے پاس وقت نہیں ہے کہ میں اس کتاب کا مطالعہ کروں ۔

انہوں نے فرمایا : نہیں ! یہ اس طرح کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کا موسم ہے ، یہ کتاب یعنی  (بوستان ولايت) ، جو ہم اہل بیت علیہم السلام کے  فضائل و مناقب کے بارے میں لکھی گئی ہے ۔

میں نے عرض کیا : آپ کون ہیں ؟

فرمایا : میں تمہارا جدّ حسين بن على بن ابى طالب علیهم السلام هوں ۔ میں نے جیسے ہی یہ جملہ سنا تو میں نے آپ کی دست بوسی کی اور عرض کیا کہ آپ کا حکم سر آنکھوں پر ! میں اس کتاب کا مطالعہ کروں گا ۔ میں نے اس مکاشفہ کےفوراً بعد اس کتاب کا مطالعہ کیا ۔ حق اور حقیقت یہ ہے کہ اس میں بہت ہی بہترین اور مفید مطالب تھے ۔ کچھ دنوں نے بعد پھر عالم مکاشفہ میں حضرت نے مجھ سے فرمایا : وہ کتاب کیسی تھی ؟

میں نےعرض كیا  کہ اس کے مطالب بہت ہی بہترین ہیں ۔

فرمایا : ان میں سب سے بہترین مطالب کون سے تھے ؟ میں عرض کیا کہ میں نے یہ نہیں سوچا کہ ان میں سے کون سے مطالب سب سے بہترین تھے ۔اس بار مطالعہ کے دوران میں اس پر غور کروں گا اور آپ کی خدمت میں عرض کروں گا۔

اس مکاشفہ کے بعد میں مطالعہ کے دوران اس بات پر غور کرتا رہا کہ کتاب کے چودہ مضامین میں سے کون سامضمون سب سے بہترین ہے ۔

تیسری دفعہ میں نے اسی سید بزرگوار کو خواب میں دیکھا اور عرض کیا :جدّ بزرگوار ! میرے خیال میں جناب آقا تهرانى کا مضمون سب سے بہترین ہے ۔

فرمایا:ہاں ! ایسا ہی ہے۔ہمارا مہدی اپنے زمانے میں بھی مظلوم ہے ۔ جہاں تک ہو سکے مہدی (امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے بارے میں بیان کرو  اور  لکھو ،  تم اس معصوم کی شخصیت کے بارے میں بیان کرو گے تو گویا تم نے تمام معصومین علیہم السلام کے بارے میں بیان کیا ، کیونکہ تمام حضرات معصومین علیہم السلام عصمت و ولایت و امامت میں ایک ہی ہیں، اور چونکہ یہ ہمارے مہدی کا زمانہ ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ ان کے بارے میں بیان کیا جائے ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا : شیخ حسین [1]سے کہو کہ ہمارے پاس اس کے لئے بہت اجر و ثواب ہے ، اگرچہ دوسروں کے لئے بھی اجر و ثواب ہے ، لیکن ان کا اجر زیادہ ہے ۔

میں نے عرض کیا : کیا ان مضامین کو ترتیب و تنظیم دینے والا بھی آپ معصومین علیہم السلام کے نزدیک  اجر و پاداش کا مستحق ہے ؟ فرمایا : ہاں ! اس کتاب اور اس طرح کی دوسری کتب  کا مطالعہ کرنے والوں، اس کے مطالب لوگوں تک پہنچانے والوں ، اس کتاب کی نشر و اشاعت کرنے والوں ، مزدوری لے کر اسے چھاپنے والوں ،اسے فروخت کرنے والوں ، اس کی تعریف و تمجید کرنے والوں  اور اسے پڑھنے کی ترغیب دلانے والوں کے لئے بھی اجر و پاداش ہے ۔ آخر میں آپ نے فرمایا : ہمارے مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیان کرو اور  لکھو ؛ کیونکہ ہمارا مہدی(عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) مظلوم ہے ۔ ان کے بارے میں جو کچھ لکھا اور  گیا ہے ، اس سے زیادہ لکھا اور کہا جانا چاہئے ۔ [2]

                                                                                                العبد الفانى

                  السيد محمّدمهدى مرتضوى لنگرودى(عبدالصاحب)

                                    ۲۹/ربيع الاول۱۴۲۱ھ

 


[1] ۔ يعنى آقاى شيخ حسين تهرانى.

[2] ۔ بوستان ولايت: ۲ / ۱۸.

    مراجعین : 4674