تبلیغ میں شدت پسندی سے گریز
لوگوں کو حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف دعوت دینےاور انہیں اہل بیت اطہار علیہم السلام کے اعلیٰ و ارفع درجات سے آشنا کرنے کے لئے سختی اور انتہا پسندی سے گریز کرنا چاہئے، ان کے ساتھ رواداری سے پیش آنا چاہئے اور ان کے لئے سخت اور دشوار اقدامات سے بھی پرہیز کیا جانا چاہئے ۔اگر شروع ہی سے کچھ لوگوں کو سخت کاموں، دعاؤں اور اعمال کی انجام دہی کا کہا جائے کہ جو عام لوگوں کے لئے مشکل اور ناقابل برداشت ہوں تو ممکن ہے کہ یہ اعمال فائدے سے زیادہ نقصان دہ ہوں اور ان کے مثبت اثرات سے زیادہ منفی اثرات ہوں، نیز ممکن ہے کہ وہ شروع ہی سے پچھتائیں اور راہ فرار اختیار کر لیں۔
واضح رہے کہ عام لوگ شروع میں بعض سنگین دعاؤں اور اذکار کو پڑھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور اگر انہیں یہ دعائیں پڑھنے پر مجبور کیا جائے اور ان پریہ مسلط کر دی جائیں تو کچھ عرصے بعد ان کے لئے انہیں انجام دینا ناقابل برداشت ہو جائے گا ، جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اصل کام سے بھی دور ہوئے جائیں گے اور اس راہ سے منحرف ہو جائیں گے۔اس صورت میں وہ شخص وہ مقصر ہو گا جو انہیں یہ اعمال بجا لانے کے لئے مجبور کرے ۔
اہل بیت اطہار علیہم السلام کی روایات میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے اور فرمایا ہے کہ لوگوں کو پیار ، محبت، دوستی اور رواداری کے ساتھ اعلیٰ مراحل کی طرف دعوت دیں اور زور زبردستی ،مشقت اور ناقابل برداشت مشکلات کو ان پر مسلط نہ کیا جائے۔








