حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
امام حسن عسكرى علیہ السلام کے قنوت کا دوسرا حصہ

امام حسن عسكرى علیہ السلام کے قنوت کا دوسرا حصہ

ہم حضرت امام حسن عسكرى علیہ السلام کے قنوت کے دوسرے حصہ میں پڑھتے ہیں:

أَللَّهُمَّ وَأَظْهِرِ الْحَقَّ،وَأَصْبِحْ بِهِ في غَسَقِ الظُّلَمِ وَبُهَمِ ‏الْحَيْرَةِ.أَللَّهُمَّ وَ أَحْيِ بِهِ الْقُلُوبَ الْمَيِّتَةَ، و َاجْمَعْ بِهِ الْأَهْواءَ الْمُتَفَرِّقَةَ،وَالْآراءَ الْمُخْتَلِفَةَ، وَأَقِمْ بِهِ الْحُدُودَ الْمُعَطَّلَةَ،وَ الْأَحْكامَ الْمُهْمَلَةَ، وَ أَشْبِعْ بِهِ الْخِماصَ السَّاغِبَةَ،وَ أَرِحْ بِهِ ‏الْأَبْدانَ اللّاغِبَةَ الْمُتْعَبَةَ، كَما أَلْهَجْتَنا بِذِكْرِهِ،وَ أَخْطَرْتَ‏بِبالِنا دُعاءَكَ لَهُ،وَ وَفَّقْتَنا لِلدُّعاءِ إِلَيْهِ، وَحِياشَةِ أَهْلِ الْغَفْلَةِعَنْهُ، وَأَسْكَنْتَ في قُلُوبِنا مَحَبَّتَهُ، وَالطَّمَعَ فيهِ،وَحُسْنَ‏الظَّنِّ بِكَ، لِإِقامَةِ مَراسِمِهِ. أَللَّهُمَّ فَأْتِ لَنا مِنْهُ عَلى أَحْسَنِ يَقينٍ، يَا مُحَقِّقَ الظُّنُونِ‏الْحَسَنَةِ، وَيا مُصَدِّقَ الْآمالِ الْمُبْطِنَةِ. أَللَّهُمَّ وَأَكْذِبْ بِهِ ‏الْمُتَأَلّينَ عَلَيْكَ فيهِ،وَ أَخْلِفْ بِهِ ظُنُونَ الْقانِطينَ مِنْ‏رَحْمَتِكَ، وَالْآيِسينَ مِنْهُ.[1]

خدایا!حق کو آشکار فرما  اور تاریکی و سرگردانی کا خاتمہ فرما۔ خدایا!اس کے ذریعہ مردہ دلوں کو زندہ کر اور متفرقہ تمناؤں اور خواہشوں کو جمع فرما ، اور مختلف نظریات کو متحد کر دے اور معطل حدود اور مہمل دینی احکامات کو دوبارہ قائم اور برپا فرما،  اور بھوکوں کو سیر کر دے ، رنجیدہ اور سختی برداشت کرنے والے جسموں کو راحت عطا فرما ، جس طرح ہماری زبانوں کو اس کی یاد سے گویا فرمایا ہے۔اور تو نے ہمارے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ تکھ سے دعا کی جائے اور ہمیں کامیاب فرما کہ لوگوں کو اس کی طرف بلا سکیں ، غافلوں کو اس سے دور کر سکیں اور تو نے اس کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دی اور اس کی طرف دلچسپی اور اس کی حکومت کے قیام کے لئے تیرا حسن ظن عطا فرما۔ خدایا!اس کے ذریعہ ان لوگوں کی تکذیب فرما جو اس کے بارے میں تیرے خلاف حکم کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ تیری رحمت سے مأیوس ہونے والوں کو ان کے گمان سے ناامید فرما ۔

ظاہر ہے کہ اگر ہم لوگوں کو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف دعوت دیں تو یہ ایک بہت عظیم توفیق ہے جو خدا نے ہمیں عنائت فرمائی ہے ،جیسا کہ ہم اس دعا میں خداوند کریم کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:’’ وَوَفَّقْتَنا لِلدُّعاءِ إِلَيْهِ‘‘ یعنی تو نے ہمیں لوگوں کو حضرت کی طرف بلانے میں کامیاب کیا ہے ۔

اگرچہ تمام شیعوں کو چاہئے کہ وہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی تبلیغ کریں اور ہم میں سے ہر ایک کو اپنی استطاعت کے مطابق اس راہ میں قدم بڑھانا چاہئے، لیکن اس سلسلے میں بعض شیعوں پر عام شیعوں سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔چونکہ وہ معاشرے میں عالم،دانشور، اثر و رسوخ رکھنے والے، طاقتور اور صاحب ثروت ہیں،لہذا انہیں اپنی ان سہولیات کی وجہ سے اس معاملے پر دوسروں سے زیادہ توجہ دینی چاہئے۔

اس میں کوئی دوراہے نہیں ہے کہ لوگوں کو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے آشنا کرنا مذہبی پیشواؤں اور رہنماؤں کی ذمہ داری ہے،کیونکہ اگر وہ اس اہم معاملے پر توجہ نہیں دیں گے تو یوسف زہراء امام زمانہ ارواحنا فداہ کے متعلق لوگوں کی بے حسی اور کوتاہی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا ، بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا ۔

جس طرح کوئی بھی شیعہ اپنی زندگی میں خدا سے بے توجہ نہیں رہ سکتا، اسی طرح اسے یہ بھی جان لینا چاہئے کہ وہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریفسے بھی بے توجہ نہیں رہ سکتا، کیونکہ حضرت  خدا کے جانشین ہیں۔

 


[1]۔مهج الدعوات:۸۵، البلد الامين:۶۶۰، مصباح المتهجّد:۱۵۶(کچھ فرق کے ساتھ)صحيفه مهديّه:۱۸۲.

    مراجعین : 4361