حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی دعائے قنوت کا ایک اہم حصہ

امام حسن عسکری علیہ السلام کی دعائے قنوت کا ایک اہم حصہ

أَللَّهُمَّ اجْعَلْنا سَبَباً مِنْ أَسْبابِهِ، وَ عَلَماً مِنْ أَعْلامِهِ، وَ مَعْقَلاً مِنْ مَعاقِلِهِ، وَ نَضِّرْ وُجُوهَنا بِتَحْلِيَتِهِ، وَ أَكْرِمْنَا بِنُصْرَتِهِ،وَاجْعَلْ فِيْنَا خَيْراً تُظْهِرُنَا لَهُ بِهِ، وَ لاتُشْمِتْ بِنَا حَاسِدِى‏النِّعَمِ، وَالْمُتَرَبِّصِيْنَ بِنَا حُلُولَ النَّدَمِ، وَنُزُولَ الْمُثَلِ.[1]

خدايا!ہمیں اس کے اسباب میں سبب،اس کے علم میں سے علم اور اس کی پناہگاہوں میں سے پناہگاہ قرار دے، اسے زینت عطا کرنے کے ذریعہ ہمارے چہرے کو حسین بنا دے، اس کی مدد کے ذریعہ ہمارا اکرام فرما، ہمارے لئے خیر قرار دے  تا کہ اس کے ذریعہ ہمیں اس کا مورد نظر قرار دےاور ہمیں ہماری  نعمتوں پر حسد کرنے والوں کی سرزنش، پشیمان ہونے والوں کی کمین اور عقوبت کے نزول سے محفوظ رکھ ۔

امام حسن عسكرى عليه السلامنے اس دعا کے آخر میں بہت ہی اہم نکات بیان فرمائے ہیں کہ جن پر ہمیں توجہ کرنی چاہئے :

جو لوگ امام زمان کی پناہگاہوں میں سے ایک پناہگاہ یا آپ کے پرچموں میں سے ایک پرچم ہوں  اور لوگوں کو حضرت کی طرف متوجہ کریں تو کچھ لوگ ان کی سرزنش کریں گے ، ان پر تہمتیں لگائیں گے تا کہ وہ پشیمان ہو کر اس راہ کو چھوڑ دیں ۔

عقل و وجدان کی رو سے یہ معلوم ہے کہ جو شخص لوگوں کو اپنی طرف نہیں بلکہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف دعوت دے تو اس کا زیادہ احترام کیا جانا چاہئے ، لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں کی طرف سے ان کی سرزنش اور مذمت  کی جاتی ہے ۔

یہ دشمن کا منصوبہ اور سوچی سمجھی سازش ہے کہ ایسے لوگوں کی سرزنش اور مذمت کی جائے ۔ اسی وجہ سے امام حسن عسکری علیہ السلام نے ایسے لوگوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ خدا سے دعا کریں کہ انہیں دوسروں کی سرزنش کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

جو شخص لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینے کے بجائے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف دعوت دے، اسے اس اہم نکتہ پر توجہ کرنی چاہئے کہ غیبت کادور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے غفلت کا زمانہ ہے کہ جس میں سماج نے امام کوتنہا چھوڑ دیا  ہے، لہذا اگر کوئی شخص اس زمانے میں لوگوں کو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف آنے کی دعوت دے تو وہ لوگوں کی نظروں میں برا بن جائے گا،اگر کوئی آنحضرت کا دم بھرے اور لوگوں کو کائنات کی اس عظیم ہستی کی طرف دعوت دے تو  اسے لوگوں کے بغض و عداوت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ پس اگر کوئی شخص امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا سپاہی بننا چاہئے تو اسے لوگوں کے سخت رویّوں اور محرومیوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے اور اسے معاشرے میں تنہا ہو جانے کی وجہ سے غمزدہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے سماج میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی تنہائی کی وجہ سے پریشان اور غمزدہ ہونا چاہئے ۔یہ کام وہی شخص کر سکتا ہے جو خود کو اپنے زمانے کے امام کے لئے چاہتا ہو نہ کہ اپنے زمانے کے امام کو اپنے لئے چاہتا ہو۔

 


[1]۔مهج الدعوات: ۸۵، البلد الامين:۶۶۰، مصباح المتهجّد:۱۵۶(کچھ اختلاف کے ساتھ)صحیفۂ مہدیہ : ۱۸۱.

    مراجعین : 4139