کسی ایک شخص کو امام زمانہ ارواحنا فداہ سے آشنا کرنا سو سال کی عبادت سے افضل ہے!
خداوند متعال کو جو چیزیں پسند ہیں ، ان میں سے ایک اہم ترین چیز یہ ہے کہ جو لوگ اپنے زمانے کے امام سے آشنا نہیں ہیں وہ اپنے وقت کے امام کی معرفت حاصل کریں اور یہ جانیں کہ ان کے زمانے کے امام کی شخصیت اور مقام ومرتبہ کیسا ہے؟ ان کی قدرت و طاقت اور ولایت کی حد کیا ہے ؟ وہ دنیا کی تدبیرکیسے کرتے ہیں؟ اور کائنات میں اس کا کیا کردار ہے؟
جو لوگ اپنے زمانے کے امام کی معرفت نہ رکھتے ہوں ، انہیں ان کے زمانےکے امام سے آشنا کروانا بہت ہی اہم اور مفید ہے ۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے ایک روایت میں اس طرح بیان فرمایا ہے :
قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ عليه السلام:قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليهما السلام:أَوْحَي الله تَعَالَي إِلَي مُوسَي،حَبِّبْنِي إِلَيخَلْقِي وَحَبِّبْ خَلْقِي إِلَيَّ.قَالَ:يَارَبِّ كَيْفَ أَفْعَلُ؟ قَالَ:ذَكِّرْهُمْآلَائِي وَنَعْمَائِي لِيُحِبُّونِي فَلَأَنْ تَرُدَّ آبِقاً عَنْ بَابِي أَوْ ضَالاًّعَنْ فِنَائِي أَفْضَلُ لَكَ مِنْ عِبَادَهِ مِائَهِ سَنَهٍ بِصِيَامِ نَهَارِهَا وَقِيَامِ لَيْلِهَا.قَالَ مُوسَي:وَ مَنْ هَذَا الْعَبْدُ الآْبِقُ مِنْكَ؟قَالَ:الْعَاصِي الْمُتَمَرِّدُ. قَالَ:فَمَنِ الضَّالُّ عَنْ فِنَائِكَ؟قَالَ:الْجَاهِلُ بِإِمَامِ زَمَانِهِ، تُعَرِّفُهُ وَالْغَائِبُ عَنْهُ بَعْدَ مَا عَرَفَهُ الْجَاهِلُ بِشَرِيعَۃِ دِينِهِ تُعَرِّفُهُ شَرِيعَتَهُ وَ مَا يَعْبُدُ بِهِ رَبَّهُ وَ يَتَوَصَّلُ بِهِ إِلَي مَرْضَاتِهِ.قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِعليهما السلام :فَأَبْشِرُوا عُلَمَاءَ شِيعَتِنَا بِالثَّوَابِ الْأَعْظَمِ وَالْجَزَاءِ الْأَوْفَرِ. [1]
امام حسن عسكرى عليه السلام فرماتے ہیں:امام سجاد عليه السلام نے فرمایا: خدا نے موسىٰ پر وحى کی کہ مجھے میری مخلوق میں محبوب بنا دو اور میری مخلوق کو میرا محبوب بنا دو! موسیٰ نے عرض کی : پروردگارا! میں یہ کام کیسے کروں؟ فرمایا : انہیں میری ظاہری اور باطنی نعمتوں کے بارے میں بتاؤتا کہ وہ مجھ سے محبت کریں ؛ پس اگر تم مجھ سے فرار کرنے والے میرے بندے کو میری طرف واپس بھیجو گے یا کسی گمراہ کو میرے در پر لے آؤ گے تو یہ تمہارے لئے سو سال کی عبادت سے بہتر ہے کہ جس میں تم دن کو روزہ رکھو اور راتوں کو نماز پڑھتے رہو۔موسیٰ نے عرض کیا : پروردگارا! تجھ سے بھاگا ہوا بندہ کون ہے ؟ فرمایا:وہ گناہگار جو ہمارے حکم کی خلاف ورزی کرے ۔ عرض کیا:تیرے در کا گمراہ کون ہے ؟ فرمایا :وہ نادان ! جو اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانتا ہو، تم اسے پہچنواؤ اور دوسرا وہ جو امام سے غائب ہے، تم اسے زمانے کے امام سے آگاہ کرو اور پھر اسے شریعت ، دین کے احکام سے آشنا کرو تا کہ وہ اس سے اپنے ربّ کی بندگی کرے اور اس کے ذریعہ اس کی رضا تک پہنچ جائے ۔ امام سجادعليه السلام فرماتے ہیں :پس ہمارے شیعہ علماء کو اس عظیم ثواب اور وافر جزا کی خوشخبری دو۔
اس روایت کی رو سےخدا کو لوگوں کامحبوب بنانے کے لئے انہیں خدا کی نعمتیں یاد دلائی جائیں اور پھر مزید کہا گیا کہ اگر کوئی درگاہ الٰہی سے فرار کرنے والے یا اپنے زمانے کے امام سے بے خبر شخص کی ہدایت کرے تو یہ سو سال کی عبادت سے افضل ہے کہ جس میں وہ رات کے وقت نماز پڑھنے میں مشغول رہے اور دن میں روزہ رکھے۔ اس روایت پر غور و فکر کرنے سے ہمیں پتاچلتا ہے کہ وقت کے امام کی معرفت ،دینی فرائض کا علم اور خدا سے فرار کرنے والے یا امام عصر ارواحنا فداہ سے بے خبر لوگوں کو ا ن سے آگاہ کرنا کس قدر اہمیت کا حامل ہے ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ روایت کے آخر میں امام سجادعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہمارے شیعہ علماء کو اس عظم ثواب اور بہت زیادہ اجر کی بشارت دو ۔
اس وجہ سے شیعہ علماء کو خدا سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ انہیں یہ توفیق عطا فرمائے اور انہیں خدا اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے تقرب اور ہدایت و رہنمائی کا وسیلہ قرار دے تا کہ وہ انہیں درگاہ الٰہی سے بھاگے ہوئے اور گمراہی میں گرفتار ہونے والے لوگوں کو اہل بیت اطہار علیہم السلام کے مقام ولایت اور دور حاضر میں حضرت اما م مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے منصب امامت سے آشنا کروا سکیں ۔ نیز وہ خدا سے دعا کریں کہ وہ غیبت کے تاریک زمانے میں امام عصر ارواحنا فداہ کی پناہگاہوں میں ایک پناہگاہ ہوں اور حضرت کی امت کو حیرت و سرگردانی سے نجات دلائیں ۔ ہمیں اس کی پابندی کرنی چاہئے اور خداوند کریم سے اس کی توفیق کے لئے دعا کرنی چاہئے اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام نے دعاؤں میں اس اہم اور بنیادی نکتہ کو بیان کیا ہے اور ہمیں حکم دیا کہ ہم خدا سے لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ بننے کی دعا کریں۔ اس حقیقت کو جاننے کے لئے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی دعائے قنوت کے ایک حصے پر توجہ فرمائیں:








