لوگوں کو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف دعوت دینا
صاحب کتاب ’’مکیال المکارم‘‘ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
یہ عمل سب سے اہم اطاعت اور سب سے زیادہ واجب عبادات میں سے ہے اور اس کی فضیلت پر ہر وہ چیز دلالت کرتی ہے جوآیات و روایات میں امر بالمعروف اور نہی از منکراور لوگوں کی راہ حق کی طرف ہدایت دینے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے ۔ نیز حضرت کے بعد بہترین مخلوق وہ ہے جو آپ سے محبت کرے اور لوگوں کو آپ کی طرف آنے کی دعوت دے ، جیسا کہ روایت میں وارد ہوا ہے:[1]
وإنّ العالم الّذي يعلّم النّاس معالم دينهم ويدعوهم إلى إمامهم، أفضل من سبعين ألف عابد.
وروي الكلينى رحمه الله بسند صحيح، عن سليمان بن خالد قال:قلت لأبي عبدالله: إنّ لي أهل بيت وهم يسمعون منّي، أفأدعوهم إلى هذا الأمر؟ فقال عليه السلام:نعم إنّ الله عزّوجلّ يقول في كتابه:«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَاراً وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلاَئِكَةٌ غِلاَظٌ شِدَادٌ لاَيَعْصُونَ الله مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ»[2] انتهى. [3]
اور بیشک وہ عالم جو لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دے اور انہیں ان کے امام کی طرف دعوت دے، وہ ستر ہزار عابدوں سے افضل ہے۔
شيخ كلينى رحمه الله صحيح سند سے سليمان بن خالد سے روايت روایت ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : میں نے امام صادق عليه السلام سے عرض کیا: میرا خاندان میری بات سنتا ہے ، کیا میں انہیں اس امر کی طرف دعوت دو ں؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! خدائےعزّوجلّ اپنی کتاب میں فرماتا ہے :«اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آتشِ دوزخ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گےاس پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو تُندخو اور درشت مزا ج ہیں،انہیں جس بات کا حکم دیا گیا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا گیا ہے۔»۔[4]،[5]








