امام حسین علیہ السلام کی نگاہ میں شیعوں کے لئے فکری اور عقیدتی کام کرنے کی اہمیت
ان مذکورہ سوالات کے جوابات جاننے کے لئے اس مضمون پر توجہ فرمائیں:
یہ صحیح ہے کہ شیعوں میں برہنہ کو لباس فراہم کرنے یا بھوکے کو کھانا کھلانے کا بہت زیادہ اجروثواب ہے لیکن امام حسین علیہ السلام کے نقطۂ نظر سے شیعوں کے لئے فکری اور عقیدتی کام کرنے کااجر و ثواب باقی تمام کاموں سے زیادہ ہے۔ اس بارے میں حضرت امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں:
أيُّهُماأَحَبُّ إِلَيْكَ:رَجُلٌ يَرُومُ قَتْلَ مِسْكينٍ قَدْ ضَعُفَ تُنْقِذُهُ مِنْ يَدِهِ؟أَوْ نَاصِبٌ يُريدُ إِضْلاَلَ مِسْكِينٍ مُؤْمِنٍ مِنْ ضُعَفَاءِ شيعَتِنا تَفْتَحُ عَلَيْهِ مَا يَمْتَنِعُ الْمِسْكينُ بِهِ مِنْهُ وَيُفْحِمُهُ وَيُكْسِرُهُ بِحُجَجِ الله تَعَالى؟
آپ کے لئے کون سا امر زیادہ محبوب ہے؟ کسی مسکین اور ناتواں کو بچانا جسے کوئی قتل کرنے کی کوشش کر رہا ہو؟ یا ہمارے شیعوں میں سے اس مؤمن کو بچانا جسے کوئی توہین کرنے والا بے دین فکری اور قلبی طور سےمنحرف کرنے کی کوشش کر رہا ہو؟اگر آپ اس کے لئے بند راستہ کھول دیں تاکہ وہ الٰہی دلیل و برہان کےذریعہ اس بے دین اور پست شخص کے شبہات کا دندان شکن جواب دے؟
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں:
اور اگر اس شخص کو توہین کرنے والے دشمن سے نجات دلائیں تو یہ عمل زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جس کے بارے میں خدا کا ارشاد ہے :«اور جس نے کسی ایک جان کو بچا لیا تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا»۔[1]پس آپ جس کی فکر کو زندہ کریں اور اسے کفر سے ایمان کی طرف لے جائیں تو گویا آپ نے تمام انسانوں کو آہنی تلواروں سے قتل ہونے سے پہلے زندہ کر دیا ۔
پھر آپ نے فرمایا:
فَضْلُ كافِلِ يَتيمِ آلِ مُحَمَّدٍ-اَلْمُنْقَطِعِ عَنْ مَوَالِيهِ، اَلنَّاشِبِ في رُتْبَةِ الْجَهْلِ، يُخْرِجُهُ مِنْ جَهْلِهِ،وَ يُوَضِحُ لَهُ ما اِشْتَبَهَ عَلَيْهِ-عَلى فَضْلِ كافِلِ يَتيمٍ يُعْعِمُهُ وَ يَسْقيهِ، كَفَضْلِ الشَّمْسِ عَلَى السَّهاءِ.
جو شخص اپنے رہبر سے جدا ہونے والے اور جہل و نادانی سے زوال پذیر ہونے والے یتیمانِ آل محمد علیہم السلام کی فکری لحاظ سے کفالت کرے اور انہیں جہل و نادانی سے نجات دلائے اور ان کے شکوک و شبہات اور اعتراضات کا جواب دے تو وہ انہیں کھلانے اور پلانے والوں کے مقابلے میں ایسے ہی ہے جیسے ایک مدہم ستارے کے مقابلہ میں سورج ۔ [2]،[3]
ایک دوسری حدیث میں سید الشہداء حضرت امام حسینعلیہ السلامسے حضرت امام حسن عسكرى عليه السلام روایت فرماتے ہیں:
أَبِي مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيِّ عليه السلام قَالَ قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عليهما السلام مَنْ كَفَلَ لَنَا يَتِيماً قَطَعَتْهُ عَنَّا مِحْنَتُنا بِاسْتِتَارِنَا فَوَاسَاهُ مِنْ عُلُومِنَا الَّتِي سَقَطَتْ إِلَيْهِ حَتَّي أَرْشَدَهُ وَ هَدَاهُ قَالَ الله عَزَّوَجَلَّ:يَا أَيُّهَا الْعَبْدُ الْكَرِيمُ الْمُوَاسِي أَنَا أَوْلَي بِالْكَرَمِ مِنْكَ اجْعَلُوا لَهُ يَا مَلَائِكَتِي فِي الْجِنَانِ بِعَدَدِ كُلِّ حَرْفٍ عَلَّمَهُ أَلْفَ أَلْفِ قَصْرٍ وَ ضُمُّوا إِلَيْهَا مَا يَلِيقُ بِهَا مِنْ سَائِرِ النِّعَمِ.[4]
امام حسن عسكرى عليه السلام نے امام حسين عليه السلام سےنقل كیا ہے کہ آپ نے فرمایا : جو ہم میں سے کسی یتیم کی کفالت کرےکہ جو غیبت کے مصائب کی وجہ سے ہم سے منقطع ہو گیا ہو اور ہمارے علوم کے ذریعہ اس کا ساتھ دے اور اس کی مدد کرے تاکہ اس کی ہدایت ہو سکےتو خداوند عزّوجل فرماتا ہے:اے میرے کریم عبد! کہ جس نے (اپنے بھائی کی) مدد کی، میں تم سے زیادہ کرم کا حقدار ہوں ، اے میرے فرشتو ! اس کے تعلیم کردہ ہر حرف کے بدلے جنت میں ہزار ہزار محل قرار دو اور ان میں ہر قسم کی نعمتیں فراہم کرو ۔
[1]۔سورۂ مائدہ کی بتیسویں آیت کا ترجمہ۔
[2]۔احتجاج: ۱/۱۶ ، تفسير الامام العسكری علیه السلام:۳۴۱ حديث ۲۱۷، بحارالأنوار:۲/۳،ح۴،ج۲/ ۹ ح ۱۷، ج ۲/۴ ح۵ (یہ روایت حضرت امام حسن مجتبى علیه السلام سے بھی نقل ہوئی ہے).
[3]۔ فرهنگ سخنان امام حسين علیه السلام: ۴۷۶.
[4]۔ تفسير امام حسن عسكرى عليه السلام: ۳۴۱.








