حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
دشمن کا مقابلہ

دشمن کا  مقابلہ

بدقسمتی سے دین کے دشمن شیعوں کو تباہ و برباد کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے آئےہیں اور وہ ایک طرف سےقتل و غارت اور دوسری طرف سے لوگوں کے مذہبی مسائل میں شکوک و شبہات پیداکرکے شیعوں کے جسم و روح کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ اگرچہ خداوند بذات خود دین کا محافظ اور اس کی حفاظت و نگہداری کرنے والا ہے ۔لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو دین کے دشمنوں کے مہلک اور خونی منصوبوں کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں،یا پھر وہ دشمنوں کے شیطانی پروگراموں کی نشریات کی وجہ سے شکوک و شبہات اور حیرت و سرگردانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان حالات میں انہیں کیا کرنا چاہئے؟کس کا دامن تھامنا چاہئے ؟ کس کی پناہ میں آنا چاہئے؟کس سے اپنی مشکلات بیان کرنی چاہئیں؟ اور کس سے اپنا درد دل بیان کرنا چاہئے ؟

اس صورت حال کے ساتھ ان شیعوں کا کیا فرض ہے جو علمی، مادی اور دیگر سہولیات کے حوالے سے معاشرے میں عقیدتی اور مادی طور پر پھنسے ہوئے لوگوں کو نجات کا راستہ دکھانے کی طاقت رکھتے ہیں؟

معاشرے کو مختلف قسم کے مسائل اور مشکلات درپیش ہیں ،بہت سے افراد  کسی نہ کسی صورت میں دینی یا دنیوی مسائل میں گرفتار ہیں۔ ایسے حالات میں ان میں سے کس قسم کے لوگوں کی مدد کرنا اور انہیں تباہی اور ہلاکت سے بچانا بہتر ہے؟

کیا ان لوگوں کی مدد کرنا بہتر ہے جن کے پاس پہننے کے لیے کپڑے نہیں ہیں یا جن کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہے؟

کیا ان لوگوں کی مدد کرنا بہتر ہے جن کے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے یا جن کے پاس شادی بیاہ کرنے کی استطاعت نہیں ہے اور وہ ان سماجی برائیوں میں اپنی حفاظت نہیں کر سکتے؟یا ہمیں ان  لوگوں کی مدد اور دستگیری کرنی چاہئے ،جن کا دین خطرے میں ہے اور روز بروز ان کے شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے؟

    مراجعین : 4051