حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
دشمن کی جدیدسازشوں کا ایک نمونہ

دشمن کی جدیدسازشوں کا ایک نمونہ

یہاں تک ہم لوگوں کو خدا اور خدا کی حکومت سے دور کرنے کے لئے شیطان کی قدیمی سازشوں اور حربوں سے آشنا ہوئے، جن میں لوگ اب بھی مبتلا ہیں ۔

اب ہم شیطان کے ایک جدید حربوں سے آگاہ ہوتے ہیں کہ دور حاضر  میں شیطان کس طرح لوگوں کے افکار کو خدا سے دور کر رہا ہے اور انہیں الٰہی حکومت کی طرف توجہ کرنے کی بجائے شیطانی حکومت کی طرف متوجہ کر دیتا ہے ۔

یہودی خود کو دنیا کے تمام لوگوں سے برتر سمجھتے ہیں ، اسی وجہ سے وہ یہ نہیں چاہتے کہ کوئی غیر یہودی ان کے دین کو قبول کرے اور یہودیوں سے ملحق ہو۔ کیونکہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ صرف بنی اسرائیل میں یہودی ہونے کی لیاقت ہے اور بقیہ سب لوگ یہودیوں کے غلام ہیں ۔

وہ سمجھتے ہیں کہ آخر کار یہودی دنیاکی حکومت سنبھالیں گے اور اور پوری دنیا پر حکومت کریں گے۔انہوں نے اپنی اس آرزو  کے حصول کے لئے مختلف منصوبے بنائے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا بھر کے لوگوں کو اس طرح اپنے جال میں پھنسانا چاہئے  کہ ہماری پناہ میں آنے کے علاوہ انہیں ان کی نجات کا کوئی اور راستہ دکھائی نہ دے ۔ 

وہ اختلافات،تفرقہ بازی ، مصنوعی قحط اور وائرس کے ذریعہ مختلف قسم کی  بیماریاں پھیلا کر لوگوں کو اپنی اطاعت اور پیروی پر مجبور کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں :

«وہ مختلف ممالک میں کچھ ایسے اسباب و عوامل پیدا کئے جائیں جو لوگوں کے ذہنوں کو اپنی طرف مشغول کریں اور ان کے لئے پریشانی اور بدامنی کے عوامل پیدا کئے جائیں ، جس سے حکومتوں اور لوگوں کے درمیان تعلقات خراب  ہوتے جائیں۔ان حالات کا تسلسل انسانی اقدار  کو ختم کر دیتا ہے اور ان کی زندگیوں میں مہلک اختلافات جنم لیتے ہیں ، لوگوں میں نفرت، سازش، حسد، قحط اور مختلف قسم کی جان لیوا بیماریاں پھیل جاتی ہیں کہ جن کے جراثیم ہم نے خود جان بوجھ کر پھیلائے ہوتے ہیں ۔اس کے نتیجہ میں ہم یہ کہتے ہیں  کہ لوگوں کو ان مصیبتوں سے نجات دلانے کا ایک ہی راستہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ کسی قدرت  کی پناہ میں آ جائیں جس کے پاس دنیا کا مال و دولت اور دوسری تمام اشیاء اور آلات ہیں۔

ظاہر ہے کہ اگر ہم اقوام عالم کو سانس لینے اور آرام کرنے کا وقت دے دیں تو ان میں اس دن تک پہنچنے کی امید بہت کم ہو جائے گی جس کا ہم انتظار کر رہے ہیں»۔[1]

وہ کہتے ہیں:«معاشرے میں معاشی، سماجی، صحافتی اور اخلاقی بگاڑ اور متعدی جرثوموں کا پھیلاؤ ایسے مواد ہیں جن پر مذکورہ چوبیسویں اجلاس میں تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ قارئین کے لئےبہتر ہے کہ وہ چوبیس حصوں پر مشتمل اس پروگرام کا ایک بار پھر سےمطالعہ کریں اور اس کے ہر فقرے کا جائزہ لیں، ان کے ہر حربے کو جانیں اور ان کے ہدف اور مقصد کو سمجھیں»۔[2]

ان کا یہ کہنا ہے کہ اسلام اور عیسائیت جیسےمذاہب کو نیست و  نابود کر دینا چاہئے تا کہ ہم دنیا پر حکومت کر سکیں، مذاہب اور تہذیبوں کے خاتمے اور داؤدی سلطنت کے قیام سے دنیا میں صرف موسیٰ (علیہ السلام) کا دین ہو گا اور یہودیوں کا بادشاہ پوری دنیا کا پوپ ہو گا»۔

نیز وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم عیسائیت کے مکمل خاتمے سے زیادہ دور نہیں ہیں۔[3]

یہ دشمنان دین کے تکبر اور ان کی خیال بافی کی کچھ مثالیں ہیں۔ وہ ’’فوکویاما‘‘اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی خدمات حاصل کرکے  اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، لیکن دنیا کے مصلح، امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے نور سے ان کے تمام منصوبے خاک میں مل جائیں گے۔

 


[1] ۔ پروتكل ‏هاى دانشوران صهيون برنامه عمل صهيونيسم جهانى: ۳۰۱.

[2] ۔ پروتكل ‏هاى دانشوران صهيون برنامه عمل صهيونيسم جهانى: ۳۸۳.

[3] ۔ پروتكل ‏هاى دانشوران صهيون برنامه عمل صهيونيسم جهانى: ۳۸۸.

    مراجعین : 4326