حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
دشمن کی قدیم سازشوں کا ایک نمونہ

دشمن کی قدیم سازشوں کا ایک نمونہ

مرحوم علامه نهاوندى کتاب’’ العبقرى الحسان‘‘ میں دشمن کے ان منصوبوں اور سازشوں میں سے ایک نمونہ بیان کرتے ہیں ، جس پر غور کرنے سے ہمیں یہ معلوم ہو گا کہ شیطان کس طرح لوگوں کو خدا کی یاد ، خدا کے دین ، خدا کی محبت اور خدا کی عادلانہ حکومت سے غافل کرتا ہے ۔

اب اس واقعہ پر توجہ فرمائیں :

جامى نے اپنی كتاب ’’نفحات الانس‘‘[1]میں ابومحمد خفّاف سے نقل کیا ہے :

وہ شیراز کے بزرگوں کے  ساتھ بیٹھے تھے اور ’’مشاہدہ‘‘ کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی اور ہر کوئی اپنے مزاج کے مطابق اپنے نظریات بیان کر رہا تھا ۔ مؤمّل ‏جصّاص نے خاموش بیٹھے ہوئے ابو محمد خفّاف سے کہا: آپ بھی اس بارے میں کچھ کہیں!

ابومحمد خفّاف نے کہا:آپ نے جو کچھ کہا ، یہ علم کی حد تھی نہ کہ حقیقت مشاہدہ ! حقیقت مشاہدہ یہ ہے کہ حجاب منکشف ہو جائے ، پردے ہٹ جائیں اور اسے یعنی خدا کو آنکھوں کے  ساتھ دیکھیں ۔

 اس سے کہا گیا : آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں اور آپ پر یہ بات کیسے آشکار ہوئی ؟!

ابو محمّد خفّاف نے کہا: میں تبوک کے ایک دیہات میں تھا ، مجھے  فاقه اور بہت زیادہ مشقت کا سامنا کرنا پڑا ، میں  مناجات کر رہا ہے کہ اچانک پردے ہٹ گئے اور میں نے خدا کو دیکھا کہ وہ عرش پر بیٹھا ہوا ہے ، میں نے اسے سجدہ کیا اور کہا : اے میرے مولا ! هذا مكانى و موضعى منك.

جب ان لوگوں نے ابومحمد خفّاف کی یہ بات سنی تو سب خاموش ہو گئے ۔مؤمّل جصّاص نے اس سے کہا : اٹھو ! چلیں اور کچھ بزرگوں اور ارباب حديث کی زيارت کریں ۔

مؤمّل نے ابومحمد خفّاف کا ہاتھ پکڑا اور ابن سعدان کے گھر چلے گئے ۔اس نے ان کی بہت زیادہ  تعظيم و تکریم کی ۔

مؤمّل نے اس سے کہا:

«ايّها الشّيخ! نريد أن تروى لنا الحديث المروىّ‏ عن النبيّ (صلّى الله عليه و آله) أنّه قال: انّ للشيطان، عرشاً بين السّماء والأرض إذا أراد بعبد فتنةكشف له عنه»[2]

 يعنى پيغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے روايت ہے کہ آپ نے فرمایا : آسمان و زمین کے درمیان شیطان کے لئے ایک عرش اور تخت ہے ۔ جب بھی خداوند تبارك و تعالىٰ کسی بندے کے امتحان اور اختبار کا ارادہ کرے تو شیطان کا تحت اس کے لئے نمایاں کر دیتا ہے ۔

ابومحمد خفّاف نے جب یہ حدیث سنی تو کہا : آپ ایک بار بھر یہ حدیث بیان فرمائیں! ابن سعدان نے یہ حدیث دوبارہ بیان کیا تو ابو محمد خفّاف رونے لگے اور روتے روتے باہر چلے گئے ۔

مؤمّل کہتے ہیں: میں نےچند دنوں تک انہیں نہ دیکھا۔ کچھ دنوں کے بعد وہ میرے پاس آئے تو میں نے ان سے کہا : آپ کہاں غائب ہو گئے تھے ، کہاں گئے تھے ؟

انہوں نے کہا:اس وقت سے اب تک میں نے جو نمازیں پڑھیں تھیں ، میں ان کی قضا بجا لا رہا تھا ، کیونکہ اس وقت میں نے شیطان کی پرستش کی تھی ۔

پھر انہوں نے کہا : اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے کہ میں نے جہاں جہاں اسے سجدہ کیا تھا ، اسی جگہ جا کر اس ملعون پر لعنت کروں ۔ پھر وہ اس نیت سے باہر چلے گئے اور اس کے بعد مجھے ان کی کوئی خبر نہیں ہے ۔[3]

اس واقعہ پر غور کرنے سےیہ واضح ہو جاتا ہے کہ ایک مدت سے خدا کی بجائے شیطان کی عبادت کرنے والا شخص رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک روایت کے ذریعہ ہدایت پا گیا اور اس نے راہ حق کا انتخاب کیا ۔

اس بناء پر قدیم یا جدید گمراہ کن فرقوں میں گرفتار ہونے والے افراد کو چاہئے کہ وہ  اہل بیت اطہار علیہم السلام کی پناہ میں آ ئیں اور ان مقدس ہستیوں کے فرمودات پر عمل پیرا ہو کر شیطانی راہوں سے کنارہ کشی اختیار  کریں اور حضرت  امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو اپنی پناہ گاہ قرار دیں ۔

اس واقعہ سے جو نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ عظیم روحانی اور معنوی مقامات تک پہنچنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے بہت زیادہ کوششیں کرتے ہیں لیکن ان تمام مصائب و مشکلات کے باوجود نہ صرف اس سے نتائج حاصل ہوتے ہیں بلکہ وہ شیطان کے جال میں پھنس کر صراط مستقیم  سے منحرف ہو جاتے ہیں ۔

اس انحراف کی اصل وجہ صرف ایک سمت نہیں ہے بلکہ شیطان ایک شخص کو ایک راستے سے اور دوسرے کو دوسرے راستے سے گمراہ کرتا ہے ۔

اس وجہ سے خدا اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف  کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم آپ اور سراب کو بہچانیں، ترقی کے عوامل کو تشخیص دیں اور گمراہ کن پہلوؤں کو پہچانیں۔

 


[1] ۔ نفحات الانس : ۲۵۱.

[2] ۔ خيراتيّه: ۲۴۶، عرفان اسلامى و عرفان التقاطى: ۲۵۸.

[3] ۔ العبقرى الحسان: ۲ / ۲۵۴.

    مراجعین : 4425