حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
مہدویت کے دعویدار…

مہدویت کے دعویدار…

دین کے دشمنوں کا ایک اور اہم منصوبہ یہ ہے کہ مہدویت کے دعویداروں کی مدد کی جائے ،بلکہ لالچی اور اپنا فائدہ دیکھنے والے افراد کو خریدا جائے تا کہ وہ مہدویت کا دعویٰ کریں ، جس سے سادہ لوح لوگوں کو اس جال میں پھنسایا جا سکے  اور شیعوں میں تفرقہ اور اختلاف پیدا کیا جائے ۔مہدویت کے دعویدار لوگوں کو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف توجہ کرنے  اور انہیں امام سے  غافل رکھنے کے اہم ترین عوامل میں سے ہیں۔
مہدویت کا جھوٹا دعویٰ شیعہ سماج اور حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے متعلق اصل عقیدہ کے لئے بہت زیادہ نقصانات کا حامل ہے ، بعض نادان یا نفع کے متلاشی لوگوں کو پھنسانا اورپھر  ان کے ذریعہ شیعوں میں اختلافات اور تفرقہ پیدا کرنا اس کے مضر اثرات میں سے ایک ہے۔
 بعض اوقات لوگ خواب ، نفسانی و شیطانی خیالات کی وجہ سے ایسے دعوے کرتے ہیں اور کبھی سادہ لوح مرید ان کی دست بوسی کرتے ہیں اور ان کے بارے میں اپنے مختلف خیالات کا اظہار کرتے ہیں  تو ان سے متاثر ہو کر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کچھ بیرونی ممالک ایسے افراد کی خدمات حاصل کرتے ہیں ، ان پر بھاری رقم خرچ کرکے ان کی تربیت کرتے ہیں تا کہ ان کے ذریعہ باطل راہ کی ترویج کریں اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکیں۔
مہدویت کے دعویدار-یا دیگر حکام - بعض اوقات مافوق الفطرت قوتوں سے بھی استفادہ کرتے ہیں اور شیطانی ریاضتوں سے کچھ چیزیں حاصل کرنے کے کے بعد سادہ ولوح اور جاہل لوگوں کے خیالات اور ضمیر کو پڑھ کر انہیں دھوکہ دیتے ہیں اور انہیں اپنا فریفتہ بنا لیتے ہیں۔ مہدویت یا دیگر مقام ومراتب کا دعویٰ کرنے والے دھوکے باز بھی ان امور سے استفادہ کرتے ہیں اور حتی الامکان ان سے منافع حاصل کرتے ہیں۔
یہاں دو نکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے :
۱۔ایسےافراد اور گروہوں کو جواب دینا ضروری ہے تاکہ جو لوگ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی صفات اور خصوصیات کی صحیح معرفت نہیں رکھتے؛ وہ ان کے دھوکے میں نہ آئیں اور ان پر فدا نہ ہوں ۔ لیکن بدقسمتی سے بعض اوقات گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرقوں کو جواب دینے میں عظیم،بزرگ ،عالم اور ہمدرد ہستیوں کا اتنا وقت صرف ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہ لوگوں کو لوگوں کو دین کے اصولوں اور تعلیمات اہل بیت علیہم السلام سے آگاہ کرنے کے بجائے ان گمراہ کرنے والے لوگوں کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں، اور کبھی کبھار ان کے اس عمل سے انجانے میں گمراہ لوگ مشہورہو جاتے ہیں ۔
۲۔ گذشتہ مطالب کے سلسلے میں ایک اور نکتہ کا تذکرہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض اوقات دشمنان دین خاص ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے غافل رکھا جائے ۔ یعنی وہ مخصوص لوگوں کے لئے ایک منصوبہ تیار کرتے ہیں ، جس پر عمل درآمد سے معاشرے کے عام افراد کو بہت زیادہ تفصان ہوتا ہے ۔ اس حقیقت کے واضح ہونے کے لئے اس مضمون پر توجہ کریں:
بعض روحانی افراد  غیر معمولی معنوی کیفیت کے حامل ہوتے ہیں اور  وہ غیر مرئی امور کو بھی درک کرتے ہیں، اور ان چیزوں کی وجہ سے ان میں یہ کشش ہوتی ہے کہ لوگ ان کی گفتار و  رفتار اور روحانی کیفیت کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔ اسی وجہ سے وہ ان کے گرد جمع ہوتے ہیں اور انہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ اس کام کے نتیجے میں ان کے لئے خدا اور اہل بیت علیہما السلام سے قریب ہونے کا راستہ کھل جاتا ہے ۔
اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں بھی ہم نشینی کے اثرات کو بیان کیا گیا ہے ،لیکن جس بات کو مدنظر رکھا جانا چاہئے ،وہ یہ ہے کہ دین کے جنّی و انسانی دشمن ان امور سے سوء استفادہ کر سکتے ہیں اور یہ صرف مرید کے لئے ہی نہیں بلکہ مراد(پیر) کو بھی تباہ و برباد کر سکتے ہیں!
بعض اوقات جاہل مرید یا دست بوسی کرنے  والے چاپلوس افراد  اپنے پیر کا اس قدر احترام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اس سے اس قدر مرعوب ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا طرز عمل اور گفتگو پیر پر اثر انداز ہوتی ہے اور وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی گمراہ کن تجاویز کا یقین کر لیتا ہے ۔ 
مرید ، جاہل افراد یا  دوسروں کے بھیجے ہوئے کارندے پیر کے ساتھ ایسے پیش آتے ہیں جیسے دنیا میں اس سے بڑا اور اہم شخص کوئی نہیں ہے،جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے پیر کو بھی تباہی و بربادی کی دلدل کی طرف دھکیلتے ہیں۔
پیروں کے مریدوں اور ان کے گرد گھومنے والے جاہل افراد کو معلوم ہونا چاہئےان کے پیر اعلیٰ روحانی مرتبہ کے حامل ہوں تو  وہ ان کے لئے دین اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے آشنا ہونے کا ذریعہ ہونے چاہئیں، نہ یہ کہ وہ خود موضوعیت پیدا کرکے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے ہی غافل ہو جائیں اور ان کے لئے خطا کے امکان کو ردّ کرتے ہوئےان کی ہر بات کو قبول کر لیا جائے ۔ حضرت امام صادق علیہ السلام ایک روایت میں فرماتے ہیں :
إيّاك ان تنصب رجلاً دون الحجّة فتصدقه في كلّ ما قال.  
ہوشیار رہو کہ کسی ایسے شخص کو اپنے سامنے (معتبر) قرار مت دو  کہ جو حجت خدا نہیں ہے اور اس کی ہر بات کو قبول کرو۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اہل بیت علیہم السلام کے احکامات و فرمودات  سے آگاہی بہت کم ہے اور اکثر اوقات جاہل مرید کسی بھی لبادہ اور فرقہ میں اپنے پیر کو بت بنا لیتے ہیں ، جس کی وجہ سے وہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے غافل ہو جاتے ہیں۔  یہی شیاطین اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے عادلانہ الٰہی و  آفاقی حکومت کے دشمنوں کی دیرینہ خواہش ہے ۔


***

ہمارے اس بیان کی رو سے شیعہ سماج کو مہدویت کے دعویداروں کے فریب میں نہیں آنا چاہئے اور کسی سے دل بستگی کی وجہ سے انہیں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔
دشمنان دین نہ صرف بعض لوگوں کو مہدویت یا دیگر مقامات کا دعویٰ کرنے کے لئے خرید کر کچھ لوگوں کو  گمراہ کرتے ہیں ، بلکہ لوگوں کو دین اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف پر ایمان لانے سے روکنے کے لئے دوسرے حربے بھی استعمال کرتے ہیں۔

 

    مراجعین : 4666