حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
ظہور کے زمانے کی آمد سے ناامید کر دینا

ظہور کے زمانے کی آمد سے ناامید کر دینا

ہماری ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ’’ایّام اللہ‘‘ کی امید رکھیں، جن میں سے ایک حضرت بقیۃ اللہ الأعظم ارواحنا فداہ کی عالمی حکومت کا قیام ہے ۔یہ حقیقت اتنی اہم اور عظیم ہے کہ ہمیں اس سے غافل ہونے سے خدا کی پناہ مانگنی چاہئے۔

خدا جانتا ہے کہ ظہورکے زمانے سے غافل ہونے کی وجہ سے ہم کن کن عظیم نعمتوں سے محروم ہیں۔ اس حقیقت سے غافل ہونے کے ایسے مضر اثرات ہیں کہ اہل بیت علیہم السلام نے ہمیں اس حقیقت سے غافل ہونے کی وجہ سے خدا کی پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے۔

امیر المومنین حضرت امام علیعلیہ السلام کے نزدیک فکر ایک مقناطیس کی مانند ہے کہ انسان جس چیز کے بارے میں سوچتا ہے تو اسی کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے۔ ظہور کے بارے میں سوچنےکےبھی یہی اثرات ہیں اور ظہور کے بارے میں سوچنے والے شخص میں یہ اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ فکر لوگوں کو عدل و انصاف کی طرف کھینچتی ہے اور انہیں ظلم و ستم ، خونریزی اور خونخواری سے بھری دنیا سے متنفر کر دیتی ہے۔

اسی وجہ سے دین کے سرکردہ دشمنوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ لوگوں کو زمانۂ ظہور سے غافل رکھ کر انہیں ظلم و ستم اور جرائم سے بھری ہوئی دنیا کا عادی بنا دیا جائے ۔ دشمن نے مختلف سازشوں، حربوں  اور منصوبوں سے عوام کو ظہور کے زمانے سے غافل رکھا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلامنے عصر ظہور سے غافل رہنے کے نقصانات سے بچنے کے لئے اور ہمیں اس بات کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لئےعاشورا کے دن ظہر کے وقت یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا ہے :

أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَكُونَ مِنَ الَّذينَ لايَرْجُونَ أَيَّامَكَ فَأَعِذْني يا إِلهي بِرَحْمَتِكَ مِنْ ذلِكَ.[1]

خدايا!میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں ان لوگوں میں سے ہو جاؤں جنہیں تیرے (بزرگ) ایّام کی امید نہیں نہ ہو ،  پس اپنی رحمت سے مجھے اس ناامیدی سے پناہ مانگتا ہوں۔

پس ہمیں خدا کی بارگاہ میں یہ دعا کرنی چاہئے کہ ہمیں اپنی رحمت سے ایّام اللہ (یعنی روز ظہور اور ...) سے غافل رہنے کے شرّ سے پناہ دے ۔

اگر خدا نے ہمیں پناہ دی تو ہم دین کے دشمنوں کے ناپاک منصوبوں کے شرّسے محفوظ رہیں گے اور اپنے زمانے کے امام کی طرف توجہ کرنےکی وجہ سے حضرت سے غافل اور بے توجہ رہنے سے محفوظ رہیں گے۔

امام زمانہ عجل اللَّه تعالى فرجه الشریف کے دشمنوں کی کوشش ہے کہ لوگ زمانۂ ظہور سے کسی طرح سے بھی آشنا نہ ہوں اور وہ حضرت کا نام لینے سے بھی غافل رہیں اور کسی طرح بھی اس بزرگ ہستی کو یاد نہ کریں ۔

ان دشمنوں سے بھی زیادہ ناپاک وہ لوگ ہیں جن کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جہاں کہیں بھی امام زمانہ ارواحنا فداہ کا نام لیا جائے، وہ لوگوں کو دین کے خلاف بھڑکائیں ، امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو سماج میں بدنام کریں ، جھوٹے دعوؤں سے لوگوں کو حضرت سے دور کریں، لوگوں کے دل و زبان سے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی یاد اور ذکر کو چھین لیں تا کہ وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح زمانے کے امام سے غافل ہو جائیں اور انہیں بھول جائیں ۔

ایسے دشمن جو لوگوں کو گمراہ کرنے اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریفسے دور کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں؛ وہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے سب سے پست اور ناپاک دشمن ہیں۔

اہل بیت عصمت و طہار علیھم السلام سے وارد ہونے والی روایات اور دعاؤں میں ایسے افراد پر لعنت و نفرین کی گئی ہے ۔ایسی ہی دعاؤں میں سے ایک دعا حضرت امام حسن عسکریعلیہ السلام کی دعائے قنوت ہے ، جس بہت ہی اہم مطالب پائے جاتے ہیں اور سب شیعوں کے لئے لازم ہے کہ وہ اس دعا میں پائے جانے والے حقائق پر غور و فکر کریں ۔ اس دعا کے مطالب پر غور و فکر کرنے سے انسان کے دل میں اہل بیت اطہار علیہم السلام کی محبت اور ان کے دشمنوں سے نفرت میں اضافہ  ہو جاتا ہے ۔

اس دعا میں ان لوگوں پر لعنت کی گئی ہے جو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور اسی طرح ان لوگوں پر بھی لعنت و نفرین کی گئی ہے جو اس عظیم ہستی کے دوستوں کے دلوں سے ان کی یاد اور ذکر  کو ان مٹانےاور اس ہستی کی تنہائی میں اضافہ کرنے  کی کوشش کرتے ہیں ۔

اب آپ دعا کے اس حصہ پر توجہ فرمائیں :

أَللَّهُمَّ وَ أَذْلِلْ بِهِ مَنْ لَمْ تُسْهِمْ لَهُ فِي الرُّجُوعِ إِلى مَحَبَّتِكَ، وَ مَنْ نَصَبَ لَهُ الْعَداوَةَ، وَ ارْمِ بِحَجَرِكَ الدَّامِغِ مَنْ أَرادَالتَأْليبَ عَلى دينِكَ بِإِذْلالِهِ، وَ تَشْتيتِ أَمْرِهِ، وَ اغْضَبْ لِمَنْ‏لا تِرَةَ لَهُ وَ لاَ طآئِلَةَ، وَ عادَى الْأَقْرَبينَ وَ الْأَبْعَدينَ فيكَ مَنّاًمِنْكَ عَلَيْهِ، لا مَنّاً مِنْهُ عَلَيْكَ.[2]

خدايا!انہیں ذلیل فرما جن کے لئے تو نے اپنی محبت کی طرف رجوع کرنے کاکوئی حصہ قرار نہیں دیا ، اور انہیں بھی خوار کر کن کے لئے دشمنی قرار دی اور ان سب کی طرف نابود کرنے والا پتھر پھینک ، جو تیرے دین کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا چاہتے ہیں اور ان کے امور پراکندہ فرما۔(خدايا)  اس شخص پر غضب فرما جو ان کے لئے خون طلب کرنے والا نہ ہو  اور جس کے لئے قوت نہ ہو  اور جو تیری راہ میں قریب و بعید والوں سے دشمنی کرتا ہے ، اور یہ تیری طرف سے ان پر احسان ہے ، نہ ان کی طرف سے تجھ پر احسان ہے ۔

حضرت امام صادق علیہ السلام  سے روز عاشورا کی دعا میں وارد ہوا ہے :

أَللَّهُمَّ فَزَلْزِلْ أَقْدامَ أَعْدائِكَ وَأَعْداءِ رَسُولِكَ وَأَهْلِ بَيْتِ‏رَسُولِكَ. أَللَّهُمَّ وَأَخْرِبْ دِيارَهُمْ، وَافْلُلْ سِلاحَهُمْ، وَخالِفْ‏بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَفُتَّ في أَعْضادِهِمْ وَأَوْهِنْ كَيْدَهُمْ، وَاضْرِبْهُمْ‏بِسَيْفِكَ الْقاطِعِ، وَارْمِهِمْ بَحَجَرِكَ الدَّامِغِ، وَطُمَّهُمْ بِالْبَلاءِطَمّاً، وَقُمَّهُمْ بِالْعَذابِ قَمّاً، وَعَذِّبْهُمْ عَذاباً نُكْراً، وَخُذْهُمْ‏ بِالسِّنينَ وَالْمَثُلاتِ الَّتي أَهْلَكْتَ بِها أَعْدائَكَ، إِنَّكَ ذُو نَقِمَةٍمِنَ الْمُجْرِمينَ.[3]

خدایا !اپنے  اور  اپنے رسول اور اپنے رسول  کی اہل بیت کے دشمنوں کے قدموں کو متزلزل فرما ، خدایا! ان کے سرزمین کو ویران فرما ، ان کے اتحاد کو ختم فرما، اور ان کے مددگاروں میں پراکندگی اور پریشانی ایجاد فرما  اور ان کے مکر و فریب کو ختم کر ، اور انہیں اپنی شمشیر قاطع سے دچار فرما ، اور ان پر ہلاک کرنے والے پتھر برسا ، اور انہیں شدت سے مصیبت میں مبتلا فرما ، اور ان پر اپنا وسیع عذاب مسلط فرما ، اور انہیں دشوار ارو زشت عذاب دے ، اور انہیں قحط و عقوبت میں مبتلا فرما کہ جس طرح تو نے اپنے دشمنوں کو اس سے ہلاک کیا تھا ، بیشک تو مجرموں سے سخت انتقام لے گا ۔

اس قسم کی دعاؤں سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ دین کے دشمن دین کو نقصان پہنچانے کے لئے کس قدر کوشاں ہیں اور ان پر اہل بیت علیہم السلام نے لعنت اور نفرین کی ہے۔

***

ہمارے اس بیان کی رو سے ناپاک دشمنوں کے منصوبوں میں سے ایک یہ ہے کہ مذہبی اور دین دار لوگوں کو بے دین بنا کر امام زمانہ ارواحنا فداہ کو فراموش کر دیا جائے اور حضرت کی غربت اور تنہائی میں مزید اضافہ کیا جائے تا کہ غیبت کا سیاہ اور تاریک دور اسی طرح جاری رہ سکے۔

 


[1]۔ مصباح المتہجد :۷۸۲، بحار الأنوار :۱۰۱/۳۰۳،صحیفۂ مہدیہ : ۲۸۰.

[2] ۔ مهج الدعوات: ۸۵، البلد الامين: ۶۶۰، مصباح المتهجّد: ۱۵۶(کچھ فرق کے ساتھ)،صحيفه مهديّه:۱۷۳.

[3] ۔ مصباح المتهجّد:۷۸۲، بحارالأنوار:۱۰۱/۳۰۳،صحیفۂ مہدیہ :۲۹۰.

    مراجعین : 4673