حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی تنبیہ

امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی تنبیہ

حضرت امام علی عليه السلام اس بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

من تشاغل بالزمان شغله.[1]

جو زمانے میں مشغول ہو جائےتو زمانہ اسے اسے خود میں مشغول کر لیتا ہے ۔

امیر المؤمنین حضرت امام علیعلیہ السلام کا یہ فرمان ایک عام تنبیہ ہے کہ لوگوں کا روزمرّہ کی خبروں اور واقعات میں مشغول ہونا اس کی ایک اہم مثال ہے جس نے بدقسمتی سے دنیا کے لوگوں کو موبائل فون، ٹیلی ویژن اور دیگر آلات کے ذریعہ اپنی طرف مشغول کر دیا ہے۔

بلکہ امیر المؤمنین حضرت امام علیعلیہ السلام کا فرمان اس سے وسیع ہے ، جس میں کسی بھی طریقہ سے دنیا کی طرف مشغول ہونا شامل ہے۔

كتاب ’’غررالحكم و دررالكلم‘‘کےشارح مرحوم آقا جمال خوانسارى اس روایت کی  شرح میں فرماتے ہیں :

یعنی وہ ہمیشہ خود کو اس میں مشغول رکھے اور اس سے چھٹکارا  نہ پا سکے ، وہ کوئی بھی کام شروع کرے تو اسے چھوڑ کر کوئی اور کام شروع کر دے اور اس عادت سے نجات نہ پا سکے ، یہاں تک کہ اس کی موت کا وقت آ پہنچے اور آخرت کے لئے زاد راہ فراہم نہ کر سکے ۔ پس اس سے چھٹکارا پانے کا صرف یہ طریقہ ہے کہ خود کوضرورت سے زیادہ  اس میں مشغول نہ ہونے دیا جائے ۔

جس شخص نے خود کو دنیا میں مشغول رکھا ہو ،اگر وہ اپنے کسی دنیوی مقصد تک پہنچ جائے تو پھر وہ کسی دوسری منزل تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے اور دنیا کی اسی دلدل  میں پھنس جاتا ہے لیکن کبھی وہ شخص کسی ایک دنیوی مقصد کے بجائے مختلف مادی مقاصد میں گرفتار ہو جاتا ہے اور مختلف مادی مقاصد اور دنیا کی شدید کشش کی وجہ سے وہ اس کی طرف راغب ہو کر اس کا عادی ہو جاتا ہے۔

ہمیں دنیا میں اس قدر مگن ہونے سے خدا کی پناہ مانگنی چاہئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ  ہم دنیا کی کشمکش میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے ہی غافل ہو جائیں اور حضرت کو یاد ہی نہ کریں۔ یہ کس قدر ناگوار ہے کہ ہم اس عظیم ہستی کی طرف توجہ نہ کریں اور جلد ختم ہو جانے والی دنیا میں ہی مگن رہیں ۔

 


[1]۔ شرح غرر الحكم و درر الكلم: ۵/۱۸۴.

    مراجعین : 4815