حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
اس بارے میں امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرمان

اس بارے میں امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرمان

قال أبومحمّد بن شاذان عليه الرّحمه: حدّثنا أبو عبد الله ابن‏ الحسين بن سعد الكاتب رضي الله عنه، قال أبو محمّد عليه السلام: قد وضع بنو اميّة و بنو العبّاس سيوفهم علينا لعلّتين: أحدهما انّهم كانوا يعلمون ليس لهم في الخلافة حقّ، فيخافون من ادّعائنا ايّاها وتستقرّ في مركزها، و ثانيهما انّهم قد وقفوا من الأخبار المتواترة على أنّ زوال ‏ملك الجبابرة و الظلمة على يد القائم منّا،و كانوا لا يشكون ‏انّهم من الجبابرة و الظلمة، فسعوا في قتل أهل بيت رسول‏ الله صلّى الله عليه و آله و إيادة[1] نسله طمعاً منهم، في ‏الوصول إلى منع تولّد القائم عليه السلام أو قتله، فأبى الله ‏أن يكشف أمره لواحد منهم إلاً يتمّ نوره ولو كره ‏المشركون.

يعنى: حسين بن سعد كاتب نے کہا :حضرت امام حسن عسكرى عليه لسلام نے فرمایا: بنى اميه اور بنى عباس ‏نے دو وجوہات کی وجہ سے ہم پر تلوار اٹھائی:ایک یہ کہ وہ جانتے تھے کہ خلافت میں ان کا کوئی حق نہیں ہے اور انہیں اس بات کا خوف تھا کہ (کہیں) ہم خلافت کا دعویٰ نہ کر دیں اور خلافت اپنے حقدار کے پاس واپس آ جائے ۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ متواتر روایات سے واقف تھے کہ ہمارے قائم کے ہاتھوں ظالم و جابر حکمرانوں کی حکومت کا خاتمہ ہو گا اور انہیں اس بات پر کوئی شک و شبہ نہ تھا کہ وہ ظالم و جابر ہیں ۔ پس انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اہل بیت علیہم السلام کو قتل کرنے  اور ان کی نسل کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کی تا کہ وہ اپنی خواہش کے مطابق حضرت قائم علیہ السلام کی ولادت کو روک سکیں یا حضرت کو قتل کر دیں (یعنی وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آل کو اس امید میں ہر طرح سے تہہ تیغ کرتے کہ شاید حضرت قائم علیہ السلام وجود میں نہ آئیں یا قتل ہو جائیں تا کہ یہ حکومت ان کے ہاتھ سے خارج نہ ہونے پائے)پس خدا نے ان میں سے کسی کے لئے بھی اپنے امر کو کشف کرنے سے گریز کیا تا کہ خدا اپنے نور کو مکمل کرے اور اگرچہ مشرکوں  کو یہ پسند نہ ہو ۔[2]

 


[1]۔اثبات الهداة: إبارة.

[2]۔كشف الحق (اربعين خاتون آبادى): ۵۲، اثبات الهداة، جلد۷/۱۳۹ حديث۶۸۵، كفاية المهتدى، حديث۳۴، بحارالانوار:۵۱ /۲۱۹.

    مراجعین : 4294