حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
اس بارے میں امام صادق علیہ السلام کا فرمان

اس بارے میں امام صادق علیہ السلام کا فرمان

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

وكذلك بنواُميّة وبنوالعبّاس لمّا وقفوا على أنَّ زوال ملكهم وملك الأمراء[1]و الجبابرة منهم على يد القائم عليه ‏السلام ناصبونا العداوة، ووضعوا سيوفهم في قتل آل ‏الرسول صلّى الله عليه وآله[2]  و إيادة نسله طمعاً منهم في‏ الوصول إلى قتل القائم، و يأبي الله عزّوجلّ أن يكشف ‏أمره لواحد من الظلمة إلاّ أن يتمّ نوره ولو كره ‏المشركون.[3]

بنی امیہ اور بنی العباس یہ بات سمجھ گئے تھے کہ قائم (صلوات اللہ علیہ ) کے ہاتھوں ان کی اور تمام ظالم و جابر بادشاہوں کی حکومت و سلطنت کا خاتمہ ہو جائے گا، اس وجہ سے وہ ان کے دشمن بن گئے اور وہ اہل بیت پیغمبرعلیہم السلام کو قتل کرنے اور ان کی نسل کو منقطع کرنے کے لئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لائے تا کہ مهدى موعود (صلوات الله عليه) دنيا میں نہ آ سکیں اور انہیں ان کی ولادت سے پہلے ہی قتل کر دیا جائے ، لیکن خداوند تبارک و تعالیٰ نے ایسا نہیں ہونے دیا ، اور یہ ارادہ کیا کہ وہ اپنے نور کومکمل کرے اور مهدى (صلوات الله عليه) کے ظہور کے ذریعہ دنیا کو بطور کامل روشن کرے ، چاہےمشرکوں پر یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرے ۔ [4]

 


[1]۔کچھ نسخوں میں «زوال ملكهم والامراء–الخ»وارد ہوا ہے۔

[2]۔ کچھ نسخوں میں«في قتل أهل بيت رسول الله صلّى الله عليه وآله»وارد ہوا ہے۔

[3]۔ كمال الدين:۳۵۴.

[4] ۔ قطره‏ اى از درياى فضائل اهل بيت عليهم السلام: ۱/۷۶۳.

    مراجعین : 4426