حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
سقیفہ کے اثرات اور نتائج

سقیفہ  کے اثرات اور نتائج

سقیفہ کےاہم آثار اور نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ سقیفہ کی وجہ سے ہی بنی امیہ اور بنی عباس برسراقتدار آ ئے ۔ اگر سقیفہ تشکیل نہ پاتا تو حکومت ؛ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے اختیار میں ہوتی اور کسی بھی صورت میں بنی امیہ اور بنی عباس کو قدرت و طاقت نہ ملتی اور وہ خلافت کی کرسی پر براجمان نہ ہوتے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آل سے دوری  اختیار کرنے اور انہیں حکومت سے دور کر دینے کی وجہ سے صدیوں تک بنی امیہ اور بنی العباس نے لوگوں پر حکومت کی اور خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام سے اپنی دشمنی کو آشکار کیا  ، حلانکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بارہا ان کے بارے میں فرمایا تھا :

«إنِّي تارِكٌ فيكم الثَّقَلَيْنِ كتابَ اللهِ  عزّوِجَل ،و عِتْرتي  أهلَ بَيْتي»[1]

میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ، کتاب خدا اور میری اہل بیت ۔

لیکن اس تاکید کے باوجود انہوں نے نہ صرف یہ کہ عترت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا احترام نہیں کیا بلکہ اہل بیت اطہار علیہم السلام کو شہید کرنے کا حتمی ارادہ کیا اور  پھر اپنے اس غیر انسانی ارادے کو عملی جامہ پہنایا ۔

 


[1] ۔ بحارالانوار:۲۳/۱۲۶.

    مراجعین : 4184