عمروعاص اور معاویه کی ایک دوسرے سے ناراضگی
شعبی نے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمرو بن عاص ،معاویہ سے کوئی حاجت طلب کرنے کے لئے اس کے پاس آیا۔ اتفاق سے عمرو کے بارے میں معاویہ کو کچھ ایسی خبریں پہنچ چکی تھیں جن کی وجہ سے وہ اس کی ضرورت پوری کرنا پسند نہیں کرتا تھا، اس لئے اس نے خود کو مصروف ظاہر کیا۔
عمرو نے کہا: اے معاویہ! بخشش کرنا زیرکی ہے، اور اپنی پستی کو غفلت سے چھپانا بھی عقل مندی نہیں، اور بے وفائی مؤمنوں کی عادت نہیں۔
معاویہ نے کہا: اے عمرو! تم خود کو کس بنیاد پر اس قابل سمجھتے ہو کہ ہم تمہاری بڑی بڑی حاجتیں پوری کریں؟
عمرو غصے میں آ گیا اور کہا: ایک سب سے بڑے اور ضروری حق کی بنیاد پر! کیونکہ تم ایک موجزن اور گہرے سمندر میں ڈوبے ہوئے تھے، اگر عمرو نہ ہوتا تو تم اس کے کم ترین حصے میں بھی غرق ہو جاتے۔ میں نے تمہیں ہلایا تو تم اس کے درمیان آ گئے، پھر دوبارہ ہلایا تو تم اس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
تمہارا حکم و اقتدار چل پڑا، تمہاری زبان بند ہونے کے بعد دوبارہ کھل گئی، تمہارا چہرہ تاریکی کے بعد روشن ہو گیا، اور سورج تمہارے لئے بے معنی ہو گیا، اور چاند بھی تاریک رات کی طرح تمہارے لئے بے نور ہو گیا۔
معاویہ نے ظاہر کیا کہ وہ سو گیا ہے اور کچھ دیر اپنی پلکیں بند رکھیں، یہاں تک کہ عمرو وہاں سے چلا گیا۔ پھر معاویہ سیدھا بیٹھ گیا اور اپنے ہم نشینوں سے کہا: کیا تم نے دیکھا کہ اس آدمی کی زبان سے کیا نکلا؟ اسے کیا ہو گیا تھا؟ اگر وہ اشارے کنائے میں بھی بات کرتا تو کافی تھا، لیکن اس نے اپنی باتوں سے مجھے ذلیل کیا اور اپنے زہریلے تیروں سے مجھے نشانہ بنایا۔
معاویہ کے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا: اے امیرالمؤمنین! حاجتیں تین وجوہات سے پوری کی جاتی ہیں: یا تو حاجت مند واقعی اس کا مستحق ہوتا ہے اور اس کی ضرورت کسی حق کی وجہ سے پوری کی جاتی ہے، یا جس سے حاجت طلب کی جائے وہ خود کریم اور سخی ہوتا ہے جو چھوٹی بڑی ہر حاجت پوری کر دیتا ہے، یا پھر حاجت مانگنے والا ذلیل اور کم تر ہوتا ہے اور شریف انسان اپنی عزتِ نفس کو اس کے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے اس کی حاجت پوری کر دیتا ہے۔
معاویہ نے کہا: خدا تمہارے باپ پر رحم کرے، تم نے بہت اچھی بات کہی ہے۔ پھر اس نے عمرو کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ واپس آئے۔ جب عمرو واپس آیا تو معاویہ نے اس کی حاجت پوری کی اور اسے ایک بڑا انعام بھی دیا۔
عمرو جب وہ انعام لے کر پیٹھ پھیر کر واپس جانے لگا تو معاویہ نے یہ آیت پڑھی: ’’اگر انہیں صدقات میں سے کچھ دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں، اور اگر نہ دیا جائے تو فوراً ناراض ہو جاتے ہیں‘‘۔[1]
عمرو نے یہ سن کر غصے میں واپس پلٹ کر کہا: اے معاویہ! خدا کی قسم! میں ہمیشہ تجھ سے زبردستی اپنا حق لوں گا اور تیری کوئی بات نہیں مانوں گا، اور میں تیرے لئے ایک گہرا گڑھا کھودوں گا کہ جب تو اس میں گرے گا تو ہڈیوں سمیت بوسیدہ ہو جائے گا۔
معاویہ ہنس پڑا اور کہا: اے ابو عبداللہ! میری اس بات سے میرا مقصد تم نہیں تھے، یہ تو قرآن کی ایک آیت تھی جو میرے دل میں آئی اور میں نے اسے پڑھ دیا۔ تم جو چاہو کر لو۔[2]








