امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
ابو حنیفہ اور مرجئہ

ابو حنیفہ اور مرجئہ

 جس طرح مؤرخین اور مصنّفین فرق و مذاہب کی کتابوں میں ابوحنیفہ کو مرجئہ میں سے شمار کرتے ہیں کیونکہ اس کا یہ عقیدہ تھا کہ ایمان زبان سے اقرار اور قلبی تصدیق کا نام ہے اور ایمان انہی دو سے تشکیل پاتا ہے  اور اسلام و ایمان ایک دوسرے کا لازمہ ہیں۔

 جہم بن صفوان اور اس میں ہونے والے مناظرے (جسے حلی نے کتاب''مناقب ابی حنیفہ!'' میں ذکر کیا ہے) میں ابو حنیفہ نے کہا ہے:اگر کوئی مرجائے جب کہ وہ خدا اور اس کی صفات کو پہچانتاہو اور خدا کو وحدہ لا شریک مانتا ہولیکن زبان سے ان کا اقرار نہ کرے تو وہ کافر مرا اور وہ اہل دوزخ میں سے ہے۔مؤمن اس وقت مؤمن ہے کہ جس کی اسے معرفت ہے اس کا زبان سے اقرار کرے اور اس پر ایمان بھی رکھے۔

 اس سے نقل ہوا ہے کہ اس نے ایمان کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے:

 ١۔ دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرے،اس لحاظ سے وہ  خدااور لوگوں کے سامنے مؤمن شمار ہوگا۔

 ٢۔ دل سے تصدیق کرے لیکن تقیہ یا خوف کی وجہ سے زبان سے اقرار نہ کرے تو وہ خدا کے نزدیک تو مؤمن ہے لیکن لوگوں کی نظر میں مؤمن شمار نہیں ہو گا۔

 ٣۔ زبان سے اقرار کرے لیکن دل سے اس کی تصدیق نہ کرے ۔اس صورت میں وہ لوگوں کی نظر میں تو مؤمن ہے لیکن خدا کے نزدیک کافر ہے۔

 یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے کامل ایمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ زبان سے اقرار کرے لیکن احکامات پر عمل کرنا صدق ایمان کی شرط نہیں ہے!اسی بنیاد پر ابو حنیفہ معتقد تھا کہ ایمان کم یا زیادہ نہیں ہوتا اور ان دونو ں مورد میں ایمان کی توصیف بے مورد ہے۔لیکن اس میں جو فرق ہے وہ احکامات کو انجام دینے اور محرمات کو ترک کرنے میں  ہے اور یہ اس وجہ سے ہے تاکہ لوگوں میں فرق  پیدا کیا جا سکے اور برتری قرار دی جا سکے ۔ لیکن ایمان کے لحاظ سے کسی کو دوسرے پر برتری حاصل نہیں ہے!۔([1])

 


[1]۔ شیعہ دربرابر معتزلہ و اشاعرہ: ٣٠٧

 

 

    بازدید : 2155
    بازديد امروز : 112895
    بازديد ديروز : 160547
    بازديد کل : 145148592
    بازديد کل : 99931053