امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۲) رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شہادت کے موقع پر خاندان رسالت کے لئے خدا کی جانب سے تسلیت

(۲)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شہادت کے

موقع پر خاندان رسالت کے لئے خدا کی جانب سے تسلیت

كتاب شريف «كافى» میں لکھتے ہیں:ایک شخص امام باقر عليه السلام سے نقل کرتا ہے کہ آپ  نے فرمایا:

جب رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے رحلت فرمائی تو وہ رات آل محمّد عليهم السلام پر غم و اندوہ کی وجہ سے سخت دشوار گذری اور شدت غم کی وجہ سے نہ تو انہیں آسمان کی خبر تھی جو ان کے سروں پر سائبان تھا اور نہ زمین کا کوئی پتہ تھا جو انہیں اپنے دوش پر سوار کئے ہوئے تھی۔ کیونکہ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے اپنوں اور بیگانوں میں سب کو خدا  کی راہ میں بے نظیر بنا دیا تھا۔

اسی دوران ان کے پاس ایک ایسا شخص آیا کہ جس کی آواز تو سنائی دے رہی تھی لیکن وہ دکھائی نہیں دے رہا تھا؛ اس نے کہا:

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان پر خدا کا درود و سلام اور رحمت و برکات ہوں ۔ خدا کے ہوتے ہوئے ہر مصیبت کو تحمل کیا جا سکتا ہے اور ہر قسم کے قفدان کی تلافی و جبران کیا جا سکتا ہے۔ اور اس کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی:

 « كُلُّ نَفْسٍ ذائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّما تُوَفَّوْنَ اُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فازَ وَمَا الْحَياةُ الدُّنْيا إِلّا مَتاعُ الْغُرُورِ »(105) ؛

 «ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور قیامت کے دن تم کو تمہارے اجر پورے پورے دیئے جائیں گے پس جو شخص آتش جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہ یقیناً کامیاب ہو گیا اور یہ زندگانی دنیا صرف دھوکے کی جگہ ہے» .

بیشک خداوند متعال نے آپ کو منتخب کر لیا ہے، آپ کو بزرگی عطا فرمائی ہے ، پاک و پاکیزہ کیا ہے اور اپنے پیغمبر کے خاندان سے قرار دیا ہے ، اپنا علم آپ کے حوالہ کیا ہے، اپنی کتاب آپ کے لئے میراث قرار دی ہے، آپ کو اپنے علم کا خزانہ اور اپنی عزت کا روشن مینارہ قرار دیا ہے اور آپ کو اپنے نور سے تشبیہ دی ہے۔

آپ کو لغزش سے محفوظ اور فتنوں سے امان میں رکھا ہے۔ پس خداوند آپ کو تسلیت دیتا ہے اور آپ کی دل داری کرتا ہے پس آپ صبر کریں اور مطمئن رہیں کیونکہ خداوند متعال نے آپ پر سے اپنی رحمت کو بند نہیں کر دیا اور نہ ہی آپ سے اپنی نعمتوں کو زائل کیا ہے۔

 فأنتم أهل اللَّه عزّوجلّ الّذين بهم تمّت النعمة ، واجتمعت الفرقة ، وائتلفت الكلمة ، وأنتم أولياؤه ، فمن تولّاكم فاز ، ومن ظلم حقّكم زهق ، مودّتكم من اللَّه واجبة في كتابه على عباده المؤمنين،

 پس آپ اہل خداوند متعال ہیں، پس آپ اولیاء خدا ہی ہیں جن کی وجہ سے نعمتیں تمام ہوئیں ، پراکندگی باہمی یگانگت میں تبدیل ہوئی اور اختلافات ختم ہوئے، جو کوئی آپ سے محبت کرتا ہے وہ کامیاب ہے اور جس نے آپ پر ظلم و ستم کیا وہ برباد اور ہلاک ہو جائے گا۔ خدا نے قرآن میں اپنے مؤمن بندوں پر آپ کی محبت کو فرض قرار دیا ہے۔

علاوہ ازیں خدا جب بھی آپ کی مدد کرنا چاہے وہ اس پر قادر ہے پس آپ ہر کام میں صبر و شکیبائی سے کام لیں کیونکہ ہر کام کا انجام اور اس کی انتہاء خدا کی جانب سے ہے۔

 فأنتم الأمانة المستودعة ، ولكم المودّة الواجبة ، والطاعة المفروضة ، وقد قبض رسول اللَّه صلى الله عليه وآله وسلم وقد أكمل لكم الدين ، وبيّن لكم سبيل المخرج ، فلم يترك لجاهل حجّة ، فمن جهل أو تجاهل أو أنكر أو نسي أو تناسى فعلى اللَّه حسابه ، واللَّه من وراء حوائجكم ، واستودعكم اللَّه ، والسلام عليكم .

پس آپ ایسی امانت ہیں جو سپرد کی گئی ہے ، آپ سے دوستی رکھنا لوگوں پر واجب ہے اور آپ کی اطاعت کرنا ان پر فرض ہے۔ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم اس حال میں دنیا سے تشریف لے کر گئے کہ جب آنحضرت نے آپ کے لئے دین کو کامل کر دیا، آپ کے لئے نجات کا راستہ آشکار کر دیا  اور کسی بھی نادان کے لئے کوئی بہانہ باقی نہیں چھوڑا۔ اس کے باوجود اگر کوئی جاہل رہے تو وہ اپنے آپ کو ملامت کرے ، یا اگر فراموش کر دیتا ہے یا انکار کرتا ہے یا بھولے پن کا اظہار کرتا ہے تو اس کا حساب خدا کے حوالہ ہے، خدا ہمیشہ آپ کی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے ، آپ سب کو خدا کے سپرد کرتا ہوں اور آپ پر درود ہو۔

راوى کہتا ہے: میں نے امام باقر عليه السلام کی خدمت میں عرض کیا: یہ تسليت کس کی جانب سے ہے؟

آپ نے فرمایا:خداوند تبارك و تعالٰى کی جانب سے.(106)

مؤلف رحمه الله کہتے ہیں : مناسب ہے کہ اس زیارت کے ذریعہ ہم اٹھائیس صفر کے دن اس مصیبت کی وجہ سے اپنے آقا و امام امير المؤمنین اور ائمّه طاهرين عليهم السلام کی خدمت میں تسلیت پیش کریں۔


105) سوره آل عمران ، آيه 185 .

106) الكافى : 445/1 ح 19 ، بحار الأنوار : 537/22 ح 39 .

 

منبع: کتاب فضائل اهل بیت علیهم السلام کے بحر بیکراں

سے ایک ناچیز قطرہ :ج 2 ص 134 ح 788

 

 

بازدید : 864