حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
۱۶ ـ تربت کھاتے وقت کی دعا

۱۶ ـ تربت  کھاتے وقت کی دعا

حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا :

جب تم میں سے کوئی تربت ہاتھ میں پکڑے تو اسے چومے ، آنکھوں سے لگائے اور پورے جسم  پر مس کرے  اور کہے :

أَللَّهُمَّ بِحَقِّ هَذِهِ التُّرْبَةِ، وَمَنْ حَلَّ بِهَا، وَثَوَى فِيهَا، وَبِحَقِّ أَبِيهِ وَاُمِّهِ ‏وَأَخِيهِ، وَالْأَئِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ، وَبِحَقِّ الْمَلاَئِكَةِ الْحَافِّينَ بِهِ، إِلاَّ جَعَلْتَهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ، وَبَرَاءاً مِنْ كُلِّ مَرَضٍ، وَنَجَاةً مِنْ كُلِّ آفَةٍ، وَحِرْزاً مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ.

خدایا ! اس تربت اور اس میں آرام کرنے والے اور اس میں ساکن ہونے والے کے حق کے واسطے ، اور ان کے والد ، والدہ ، بھائی ، اور ان کی اولاد میں سے ائمہ کے حق کے واسطے ، اور اس کا احاطہ کرنے والے فرشتوں کے حق کے واسطے اسے ہر درد کے لئے شفاء، ہر بیماری سے چھٹکارا ، ہر آفت سے نجات اور ہر میرے لئے خوف و وحشت سے محفوظ رہنے کا باعث قرار دے ۔

اور پھر اس سے استفادہ کریں ۔ [1]

اس حدیث کے راوی  (ابو اسامه) کا بیان ہے : میں نے امام صادق علیہ السلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کیا اور الحمد للہ اب عرصۂ دراز سے مجھے کسی بھی ناپسندیدہ امر کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ [2]

 


[1] ۔ یہ روایت مفتاح الجنّات: 357/1 میں موجود ہے، مفاتيح النجاة (خطی نسخہ): 220،  الصحيفة الباقرية والصادقيّة الجامعة: 238، اسی کی مانند الصحيفة الصادقيّة : 295 میں بھی ذکر ہوا ہے .

[2] ۔ شیخ طوسی  نے کتاب أمالی : 326/1 اور شیخ طبرسي نے مكارم الأخلاق: 361/1 ح1179 میں نقل کیا ہے اور علامہ مجلسی نے اسے‏ بحار الأنوار: 119/101 ح4 میں ذکر کیا ہے .

    ملاحظہ کریں : 752
    آج کے وزٹر : 127312
    کل کے وزٹر : 167544
    تمام وزٹر کی تعداد : 143865599
    تمام وزٹر کی تعداد : 99288909