امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۵) فتح خیبر

(۵)

فتح خیبر

اسی کتاب میں ابو رافع نقل کرتے ہیں: جب رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے خیبر کے دن على عليه السلام کو بلایا اور آپ کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن ملا اور ان سے فرمایا:

 جب تم قلع کو فتح کر لو تو لوگوں کے درمیان کھڑے ہو جاؤ کیونکہ خدا نے مجھے ایسے ہی حکم دیا ہے۔

ابو رافع کہتے ہیں: على عليه السلام قلع کی طرف چلے اور میں ان کے ہمراہ تھا ، صبح کے وقت قلع خیبر کو کھولا گیا  اور لوگوں کے درمیان کھڑے ہو گئے۔ ان کا ٹھہرنا کچھ طولانی ہو گیا تو لوگوں نے کہا:على عليه السلام اپنے پروردگار سے راز و نياز کر رہے ہیں۔اس کے بعد آپ نے حکم دیا جو شہر فتح کیا ہے اسے اپنا شہر بنا لو اور اسے اپنے تصرف میں لے لو۔

ابو رافع کہتے ہیں:میں رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی خدمت میں شرفياب ہو اور آپ کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا۔ عرض کیا آپ کے حکم کے مطابق علی علیہ السلام کھڑے ہو گئے جب کہ کچھ لوگ یہ کہنے لگ گئے تھے کہ خدا علی علیہ السلام سے راز و نیاز کر رہا ہے:

پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا:

نعم يا أبا رافع، إنّ اللَّه ناجاه يوم الطائف، و يوم عقبة تبوك، ويوم حنين.

ہاں! اے ابو رافع! خدا نے قلع طائف کے فتح ہونے ، جنگ تبوک اور جنگ حنین کے دن علی علیہ اسلام نے کلام فرمایا.(198)


198) بصائر الدرجات: 411 ح 5، بحار الأنوار: 154/39 ح 11، غاية المرام: 527 ح 11، الإختصاص: 322.

 

      منبع: فضائل اهل بیت علیهم السلام  کے  بحر  بیکراں  سے  ایک  ناچیز  قطرہ: ج 1 ص 297ح 186

 

 

بازدید : 700