امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۴) خیبر کے دن رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کا کلام

(۴)

خیبر کے دن رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کا کلام

اسی کتاب میں منقول ہے کہ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے خيبر کے دن فرمایا:

لو لم أخف أن تقول اُمّتي فيك ما قالت النصارى في المسيح بن مريم لقلت اليوم فيك حديثاً.

اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ میری امت آپ کے بارے میں وہ کہے گی جو عیسیٰ بن مریم کے بارے میں کہتے تھے تو میں آپ کے بارے میں ایک حدیث کہتا.(93)

مؤلّف رحمه الله کہتے ہیں: اگر فرماتے کہ انہیں خدا نے خود منتخب کیا ہے لیکن یہ نہ فرمانا کہ اسے خدا نے نامزد کیا ہے اور یہ ان کی اعلیٰ خصال میں سے تھا.(94)

اسی روز يعنى خيبر کے دن جب صفيّه بنت حيى بن اخطب يهودى جو اپنے زمانے کی خوبصورت ترین عورت تھی،رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی خدمت میں شرفياب ہوئی، آنحضرت نے اس کے چہرے پر زخم دیکھا تو اس سے پوچھا:

تم تو ایک بادشاہ کی بیٹی ہو اور تمہارے چہرے پر یہ زخم کا نشان کیسا؟

عرض كیا:جب على عليه السلام نے قلعہ میں داخل ہونے کے لئے قلعۂ خیبر کے دروازہ کو دھکا دیا تو پورا قلعہ لرزنے لگا۔ اس سے قلعہ کے محافظ و نگہبان بھی نیچے گر گئے  اور میں جس تخت پر بیٹی تھی وہ بھی لرزنے لگا اور میں منہ کے بل زمین پر گر کر زخمی ہو گئی۔

رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے اس سے فرمایا:

يا صفيّة إنّ عليّاً عظيم عنداللَّه، وإنّه لمّا هزّ الباب اهتزّ الحصن، واهتزّت السماوات السبع والأرضون السبع، واهتزّ عرش الرحمان غضباً لعليّ عليه السلام.

اے صفيّه! خدا کے نزدیک علی کا بلندمرتبه ہے اور اس کی شان و مقام بلند ہے۔ جب علی نے قلعہ کو ہلایا تو صرف قلعہ میں ہی لرزہ پیدا نہیں ہوا بلکہ تمام آسمان و زمین اور عرش الٰہی بھی غضبناک ہو کر علی علیہ السلام کی خاطر لرزنے لگے۔

اس واقعہ کے بعد عمر نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے سوال کیا: آپ نے ایسے دروازے کو زمین بوس کیا جس کو ہلانا ناممکن تھا جب کہ آپ تین دن کے بھوکے تھے کیا یہ آپ نے بشری قوت و طاقت کے ذریعہ انجام دیا ہے؟ آپ نے فرمایا:

ما قلعتها بقوّة بشريّة، ولكن قلعتها بقوّة إلهيّة ونفس بلقاء ربّها مطمئنّة رضيّة.

میں نے اسے بشری قوت و طاقت کے ذریعہ نہیں بلکہ الٰہی طاقت اور نفس مطمئنہ کی قوت سے اکھاڑا ہے جو اپنے پروردگار کی ملاقات اور دیدار سے راضی و مطمئن ہے.(95)

یہ اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے اسرار کو نہ تو دیکھنے کی طاقت ہے اور نہ سننے کی.


93) مشارق الأنوار: 109، روضة الواعظين: 112، بشارة المصطفى: 155، إرشاد القلوب: 68/2 سطر 15.

94) ظاهراً یہ جمله برسى رحمه الله کا کلام ہے کہ جو حدیث کے ذیل میں ذکر کیا گیا ہے۔

95) مشارق الأنوار: 110، بحار الأنوار: 40/21 ح 37، مدينة المعاجز: 425/1 ح 286، و در ص 380 ح 247 اسی کتاب سے ایک روایت نقل کی ہے جو اس حدیث سے مناسب ہے۔ لہذا وہاں رجوع فرمائیں۔

 

منبع: فضائل اهل بیت علیهم السلام  کے  بحر  بیکراں  سے  ایک  ناچیز  قطرہ: ج 1 ص 234ح 135

 

بازدید : 723