امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۳) غصب فدك کے بارے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پیشنگوئی

 (۳)

غصب فدك کے بارے میں

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پیشنگوئی

سنہ سات ہجری میں جنگ خیبر کے دنوں میں پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم نے مُحَيَّصَة بن مسعود حارثى کو حکم دیا کہ وہ ان کی یہودیوں کی سرزمين فدك کی طرف جائے اور انہیں اسلام اور جزیہ کی طرف دعوت دے۔ جب محيّصه سرزمين فدك پہنچے تو ابھی تک جنگ خيبر ختم نہیں ہوئی تھی لہذا پہلے اہل فدک نے سپاہی بھیجے اور تسلیم نہیں ہوئے، محیّصہ نے مدینہ واپس آنے کا ارادہ کیا تا کہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمّ کو اہل فدک نافرمانی سے آگاہ کرے۔ فدک میں مقیم یہودیوں کے کچھ سربراہوں نے محیّصہ سے کہا:ایک دو دن صبر کرو تا کہ ہم اپنی قوم سے مشورہ کریں اور پھر ہم اس کا نتیجہ تم سے بیان کریں گے یا پھر کچھ یہودیوں کو تمہارے ساتھ محمّد صلى الله عليه وآله وسلم کے پاس بھیجیں گے.

اسی دوران خیبر میں قلعه ناعم فتح ہو گیا اور اہل فدک کو اس کی خبر ملی تو ان کے دن میں خوف پیدا ہوا۔ لہذا انہوں نے محیّصہ سے کہا: تم محمّد صلى الله عليه وآله وسلم کو ہماری بے ادبی کے بارے میں نہ بتانا،ہم بھی تمہیں اس کا اجر دیں گے۔

محيصه نے ان کا یہ تقاضا رد كیا اور وہ نون بن يوشع اورقوم فدک کے چند بزرگوں کے ساتھ خیبر میں رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی خدمت میں پہنچے.

جب انہوں نے پيامبر صلى الله عليه وآله وسلم سے ملاقات کی تو پہلے انہوں نے اپنے قلعہ کے استحكامات کے بارے میں بیان کیا، پيامبر صلى الله عليه وآله وسلم نے انہیں قلعه فدك کی چابیاں دکھائیں.

یهودیوں نے پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم سے کہا: آپ کو یہ چابیاں کس نے دیں ہے؟

پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: جس نے موسیٰ کو الواح دیئے. اس دوران یهودیوں میں سے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے اور بقیہ نے سر تسلیم خم کر لیا اور جزیہ دینے کے لئے تیار ہو گئے۔

على ‏عليه السلام کے دست مبارک سے صلح نامہ لکھا گیا۔ اس قرار داد کی بنیاد پر یہ طے پایا کہ اہل فدک اپنے سرزمین پر ہیں اور جزیہ دیں لیکن باغ فدک کے نام سے مشہور نخلستان رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی ملکیت ہو گا اور اس کے عوض میں مسلمان لشکر فدك پر لشكركشى نہیں کرے گا. اس بارے میں یہ آيهٔ شريفه نازل ہوئی: «وما أفاء اللَّه على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب...»(566) « اور خدا نے جو کچھ ان کی طرف سے مال غنیمت اپنے رسول کو دلوایا ہے جس کے لئے تم نے گھوڑے یا اونٹ کے ذریعہ کوئی دوڑ دھوپ نہیں کی ہے.... لیکن اللہ اپنے رسولوں کو غلبہ عنایت کرتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے ...»

پھر ایک دوسری آیت نازل ہوئی اور رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کو حکم دیا گیا کہ ذى القربى کا حق ادا کریں:

«وآت ذى القربى حقّه والمسكين وابن السبيل ذلك خير للّذين يريدون وجه اللَّه واولئك هم المفلحون».(567)

 (اے پيغمبر!) اور دیکھو قرابتداروں کو اور مسکین کو اور مسافر غربت زدہ کو اس کا حق دے دو اور یہ ان کے لئے ہے جو خیر اور دیدار خدا کا ارادہ کرنے والوں کے بہتر ہے اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔

پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم نے جنگ خیبر کے ختم ہونے کے بعد مدینہ واپس آئے اور مذکورہ آیت اپنی بیٹی جناب فاطمۂ زہراء علیہا السلام کے لئے قرائت کی اور فرمایا: خدا نے حکم سے تمہارا ہے اور خدا نے تمہیں فدک بخشا ہے۔

فاطمه زهراء عليها السلام عفّت و حيا کی دنیا ہیں جنہیں مال دنیا میں کوئی رغبت نہیں ہے،آپ نے فرمایا:

اے بابا! خدا نے مجھے جو بخشا ہے، میں وہ آپ کے سپرد کرتی ہوں۔

پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا:

میری بیٹی! تم یہ باغ اپنے اور اپنے بیٹوں کے لئے رکھو اور جان لو کہ میرے بعد یہ باغ تم سے چھین لیں گے اور اس کی وجہ سے تم سے بہت نزاع کریں گے۔

اس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے چند اصحاب کو حاضر کیا ایک نوشتہ دیا کہ جس پر لکھا ہوا تھا کہ آج سے فدک جناب فاطمۂ زہراء علیہا السلام کا ہے اور اس نوشتہ پر اصحاب کے دستخط بھی تھے۔

جب تک پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم حيات تھے،ہر سال حضرت فاطمه‏ عليها السلام اپنے مأمور کو فدک بھیجتیں جو وہاں سے آپ کے لئے اس کی منفعت لے کر آتا۔

جیسا کہ پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا تھا،صاحبان قدرت نے اپنی خلافت کے آغاز میں ہی جناب فاطمه زهراء عليها السلام سے فدک غصب کر لیا  اور جب معاویہ کو حکومت ملی تو اس نے فدک اپنے بیٹے يزيد،مروان حكم اور عمرو بن عثمان(يعنى خليفه سوّم کا بیٹا) کے درمیان تقسیم کر دی۔مروان کے زمانۂ حکومت میں تمام فدک اس کے اختیار میں تھا اور اس نے وہ اپنے بیٹے عبدالعزيز کو بخش دیا اور عبدالعزيز نے فدک اپنے بیٹے عمر بن عبدالعزيز کو دیا۔ اور جب عمر بن عبدالعزيز کو خلافت ملی تو اس نے جو پہلا مظملہ واپس کیا تھا وہ یہی فدک تھا۔ اس نے حسن بن حسن بن علىّ بن ابى طالب اور ایک قول کے مطابق امام سجّاد عليه السلام کو بلایا اور انہیں فدك واپس لوٹا دیا۔

جب يزيد بن عبدالملك برسر حکومت آیا تو اس نے پھر سے فدک غصب کر لیا اور ماضی کی طرح ایک مرتبہ یہ بنی مروان نے اس پر قبضہ کر لیا اور سنہ ۱۳۲ ہجری میں ان کی حکومت کے اختتام فدک پر انہی کا قبضہ رہا۔

جب سب سے پہلے عباسی خلیفہ سفّاح کو حکومت ملی تو اس نے فدک عبداللَّه بن حسن بن حسن کو واپس کر دیا اور پھر دوسرے عباسی خلیفہ نے اسے واپس لے لیا اور پھر منصور کے بیٹے نے فدک اولاد فاطمۂ زہراء علیہا السلام کو واپس کر دیا۔ پھر موسیٰ اور ہارون رشید نے اسے واپس لے لیا اور یہ مأمون کی خلافت تک اسی کے پاس رہا۔اور ایک مرتبہ پھر مأمون کے اولاد فاطمه ‏عليها السلام کو فدک واپس لوٹا دیا اور مأمون کے بعد متوکل عباسی نے اسے پھر واپس لے لیا...(568).(569)


566) سوره حشر، آيه 6 و 7.

567)

568) تاريخ يعقوبى: 269/2.

569) اعجاز پيامبر اعظم‏ صلى الله عليه وآله وسلم در پيشنگوئی از حوادث آينده: 204.

 

منبع: غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات:ص 438

 

 

 

 

بازدید : 729