حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
49) امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی مروان کے بارے میں ''نہایة الأرب'' سے پیشنگوئی

امیر المؤمنین علی علیہ السلام

کی مروان کے بارے میں ''نہایة الأرب'' سے پیشنگوئی

     کتاب''نہایة الأرب''میں آیا ہے: مروان نے رسول خداۖ کو نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ ابھی تک ناسمجھ بچہ تھا کہ جب وہ اپنے باپ کے ساتھ طائف چلا گیا اور پھر عثمان کی حکومت کے دوران مدینہ واپس آیا تھا۔

     جب اس کا باپ مر گیا تو عثمان نے اسے اپنے کاتب کے طور پر رکھ لیا۔مروان عثمان کے افکار و رفتار پراس طرح حاوی ہوگیا تھا کہ لوگوں کے قیام و بغاوت اور عثمان کے قتل کا اصل سبب  وہی تھا۔

     ابن عبدالبر نے کتاب''الاستیعاب''([1]) میں نقل کیا ہے: ایک دن حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام مروان کے پاس گئے اور فرمایا:

     اے وای ہو تجھ پر! تجھ سے اور تیرے بیٹوں سے امت محمد پر وای ہو،وای ہو!اس وقت کہ جب تجھے طاقت ملے گی۔

     مروان کو ''خیط باطل''کہتے تھے۔عثمان کے گھر جنگ کے دن اس کی گردن کے پیچھے ایسی ضربت لگی تھی کہ منہ کے بل زمین پرگر پڑا۔

     اس کا بھائی عبدالرحمن بن حکم اس کا ہم عقیدہ نہیں تھا اور وہ شوخ طبیعت کا شاعر تھا جس نے اس کے بارے میں یوں کہا:

     خدا کی قسم! میں نہیں جانتا اورجس شخص کوپس پشتس ضربت ماری گئی میں اس کی بیوی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر کیا ہوا ہے،خداوند اس قوم کو رسوا کرے کہ جس نے اس بوسیدہ رسی کو حاکم بنا دیا ہے اور وہ لوگوں کا امیر بن گیا ہے وہ جسے چاہتا ہیعطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم کر دیتا ہے۔

     نقل کیا گیا ہے:جب معاویہ نے مروان کو مدینہ کا حاکم بنایا تو اس کے بھائی نے یہ شعر کہا تھا اور وہ مروان کی بہت زیادہ مذمت کرتا تھا۔([2])

 


[1]۔ الاستیعاب: ١٣٨٨

[2]۔ نہایة الأرب: ج٦ص٦۹

 

 

 

    ملاحظہ کریں : 2229
    آج کے وزٹر : 0
    کل کے وزٹر : 271657
    تمام وزٹر کی تعداد : 146067842
    تمام وزٹر کی تعداد : 100391602