امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
تاریخی کتب کی روشنی میں امام حسین علیه السلام کی عزاداری کی مخالفت کے بارے میں ایک رپورٹ

تاریخی کتب کی روشنی میں  امام حسین علیه السلام

کی عزاداری کی مخالفت کے بارے میں ایک رپورٹ

«تاریخی کتابوں کی روشنی میں عاشورا کے دن مجالس عزا کے انعقاد پر  ہونے والے تنازعات کا آغاز چوتھی صدی ہجری کے آخر میں ہوا ۔

ابن اثير اور ابن كثير جیسے مؤرخین نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے کہ بغداد کے کرخ نامی محلہ میں  حنبلی سنیوں نےسنہ۳۵۳ ، ۳۶۱ ، ۳۶۲ اور ۳۶۳ ہجری میں شیعوں کی عزاداری کو روکنے کی کوشش کی  ۔معز الدولہ کے حکم پر پہلی مرتبہ کھلے عام عزاداری کرنے کے دس سال کے بعد سنہ ۳۶۲ ہجری میں یہ اختلافات اور فسادات شدت اختیار کر گئے ۔ ابن اثير  اپنی کتاب ’’ الكامل‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اس سال محرم الحرام کے دوران  بغداد میں فسادات کی  وجہ سے ۱۷ ہزار افراد کو آگ میں جلا دیا گیا ، تین سو دکانیں اور ۳۳ مساجد  جل کا خاکستر ہو گئیں اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ۔ ان تنازعات کی وجہ سے شیعوں میں عزاداری کو مزید فروغ ملا اور انہوں نے اس کے انعقاد پر اصرار کیا۔

سلجوقیوں کے برسراقتدار آنے اور بالخصوص سلطان محمود غزنوی کے دور  میں حکومت کی طرف سے عزاداری  پر پابندی عائد کرنے کی وجہ سے  ان تنازعات  میں شدت آ گئی ۔ اس کے لئے بطور نمونہ سنہ ۴۰۶ ، ۴۰۷ ، ۴۰۸ ، ۴۱۷ ، ۴۲۲ ، ۴۴۱ ، ۴۴۳ ، ۴۴۵ اور ۴۵۸ ہجری کے  فسادات  اور تنازعات کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں ۔ چھٹی صدی ہجری میں بھی ان اختلافات کا سلسلہ جاری رہا »۔[1]

امام حسین علیہ السلام کے عزاداروں اور زائروں  کو قتل کرنے کا سلسلہ صرف گزشتہ صدیوں تک ہی محدود نہیں تھا ، بلکہ ہمارے  زمانے میں بھی امام حسین علیہ السلام کی زیارت اور عزاداری کے مخالفین عزاداری اور زیارت  کی روک تھام کے لئے وسیع پیمانے پر منصوبے بنا رہے ہیں اور ان پر عمل کر رہے ہیں ۔

 


[1] ۔ فرهنگ سوگ شيعى: ۳۴۶.

بازدید : 183
بازديد امروز : 44694
بازديد ديروز : 112715
بازديد کل : 134727226
بازديد کل : 93164634