امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
ابن ملجم کے ظلم میں معاویه کا کردار

*************************************

۲۷ ماه مبارک رمضان؛ ابن ملجم کی موت

*************************************

ابن ملجم کے ظلم میں معاویه کا کردار

ہم یہاں آپ کی خدمت میں دور حاضر کے ایک عرب زبان مصنف کے اقوال کا ترجمہ پیش کرتے ہیں اور مذکورہ دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے یہی کافی ہے:

استاد باقر شريف مرتضى اپنی کتاب «زندگانى امام حسين‏ عليه السلام» کی دوسری جلد میں لکھتے ہیں: اہل تاریخ نے اس خطیر واقعہ کو بہت زیادہ تحفظ و اجمال سے ذکر کیا ہے اور اس کے مختلف پہلؤوں سے پردہ نہیں اٹھایا گیا۔ ہماری نظر میں اس بارے میں جو کچھ ترجیح رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ منصوبہ صرف خوارج تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ اس میں بنی امیہ کا بھی بہت اہم کردار تھا۔ اس دعوی کو چابت کرنے کے لئے ہمارے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:

   الف) ابو الأسود دوئلى کے وہ اشعار کہ جن میں انہوں نے معاویہ اور بنی امیہ کو امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور مخاطب کرتے ہوئے یوں کہا ہے: (3108)

ألا أبلغ معاوية بن حرب

فلا قرّت عيون الشامتينا

أفى شهر الصيام فجّعتمونا

بخير الناس طرّاً اجمعينا

قتلتم خير من ركب المطايا

ورحّلها ومن ركب السفينا(3109)

 ان اشعار کے معانی یہ ہیں کہ یہ معاويه ہی تھا کہ جس نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو قتل کرنے کے لئے مسلمانوں کو مبتلا کیا۔ اور یہ طبیعی و فطری امر ہے کہ ابو الأسود دئلى نے تحقیق اور اثبات کے بغیر اس طرح قطعی طور پر معاویہ سے قتل کی نسبت نہیں دیتے کیونکہ ابو الأسود اپنے کلام میں احتیاط کے پہلو کی مکمل رعائت کرتے تھے!

   مؤلف کا بیان ہے کہ : اس بات کا دوسرا شاہد وہ اشعار ہیں كه جو «مناقب ابن ‏شہر آشوب» نے ایک ہاتف سے اميرالمؤمنين علی ‏عليه السلام کی شہادت پر ایک جنّ سے روايت كئے ہیں اور وہ اشعار کچھ یوں ہیں:

يا من يؤمّ الى المدينة قاصداً

ادّ الرسالة غير ما متوان

قتلت شرارُ بنى‏اميّة سيّدا

خير البريّة ماجداً ذا شأن

   ب) قاضى نعمان مصرى - جو تاريخ‏ کے ایک قدیمی مصنف ہیں – نے اس بارے میں ایک قول نقل کیا ہے کہ معاويه وہ شخص تھا جس نے امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کو قتل کرنے کے لئے ابن ملجم کو بھڑکایا اور اس کام کو انجام دینے کے لئے اس نے ابن ملجم کے لئے اجرت بھی معین  کی اور اس بارے میں اس کی اقوال کچھ اس طرح سے تھے:

   «وقيل إنّ معاوية عامله - أي عامل ابن ملجم - على ذلك - أي على اغتيال ‏الإمام‏ عليه السلام - و دسّ إليه فيه، و جعل له مالاً عليه».(3110)

   ج) جیسا کہ آپ نے شیخ مفيد رحمه الله کی روایت میں پڑھا کہ اشعث بن قيس اس ظلم عظیم کو انجام دینے کے لئے شریک تھا۔ اگر اشعث بن قيس کی معاويه سے قرابت، معاویہ سے کی گئی اس کی خط و کتابت، حکمیت کے واقعہ میں اس کے کردار اور امیر المؤمنین امام علی علیہ کو قتل کرنے کی دھمکیوں پر غور کریں (3111) تو بخوبی یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اس کام میں معاویہ کا ہاتھ تھا اور اسی نے ابن ملجم کو یہ کام انجام دینے کے لئے بھڑکایا تھا!

   د) نیز روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خوارج نے حج کے ایّام میں مکہ میں امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کے قتل کا منصوبہ بنایا اور امویوں کی موجودگی میں یہ منصوبہ بنایا گیا کہ جو اس وقت مکہ گئے ہوئے تھے تا کہ وہ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے خلاف پروپیگنڈہ کر سکیں اور لوگوں میں آپ اور آپ کی حکومت کے خلاف غلط افواہیں پھیلائیں۔ اور قوی گمان یہی ہے کہ ان کا خوارج - جو امیر المؤمنین امام‏ علی عليه السلام کے سخت ترین دشمن تھے- کے ساتھ مکمل رابطہ تھا اور وہ ایک دوسرے سے تعاون کر رہے تھے۔

اور جو چیز اس گمان کی تائید کرتی ہے وہ یہ ہے کہ حج کے ایّام کے گذر جانے کے بعد بھی خوارج ماہ رجب تک مکہ میں ہی رہے اور اس کام کو انجام دینے کے لئے ایک دوسرے سے مشورہ اور تعاون کرتے رہے...

   ه) ہمارے لئے اطمینان کا باعث بننے والا ایک دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس سازش میں امویوں کا ہاتھ تھا وہ یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم دینے کے علاوہ ابن ملجم کا کوئی دوسرا مشغلہ نہیں تھا اور اس کام کے لئے بیت المال سے معین تنخواہ لیتا تھا کہ جو اس کے روز مرہ کے اخراجات کے لئے ہی کافی ہوتی تھی اور اس کے علاوہ اس کے پاس کمائی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں تھا، جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے اپنی تلوار ہزار درہم میں خریدی؟ اور ہزار درہم سے ہی اسے زہر آلود کیا؟ اب یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے اتنی خطیر رقم کہاں سے حاصل کی؟ یا یہ کہ اس نے قطام کے لئے جو مہریہ اپنے ذمہ لیا کہ جو تین ہزار درہم، ایک غلام اور ایک کنیز تھی۔

   اور یہ وہ کچھ مسائل ہیں کہ جو انسان کے گمان کو قوی بنا دیتے ہیں کہ اس نے یہ پیسے امویوں سے حاصل کئے تھے!

   و) اور جب اس بات کی تائید ہو جاتی ہے کہ ابن ملجم ؛ امويوں سے اخراجات کے لئے پیسے لیتا تھا اور اب جو مسئلہ قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ ابن ملجم کے عمرو بن عاص سے بہت مضبوط اور محکم تعلقات تھے اور وہ اس کا بہت قدیمی دوست تھا کیونکہ جب عمرو بن عاص مصر کی طرف گیا تو ابن ملجم بھی اس کے ساتھ تھا اور اس نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی جگہ عمرو بن عاص کے نزدیک ہی قرار دے۔ اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جس رات اس  منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا گیا ؛ اس رات عمرو بن عاص مسجد میں ہی نہیں جاتا اور اپنی جگہ اپنے نائب کو مسجد بھیجتا ہے اور یہ چیز اس بات کو تقویت پہنچاتی ہے کہ وہ بھی اس منصوبہ کا حصہ تھا اور اسے اس چیز کا پہلے سے ہی علم تھا اور اس کا اس واقعہ کے دن مسجد میں نہ آنا کوئی اتفاقی امر نہیں تھا! (3112)


3108) تاريخ ابن اثير: 198/3.

3109) معاوية بن حرب سے کہو کہ شماتت کرنے والوں کی آنکھیں روشن نہ ہوں۔

  کیا ماہ رمضان میں لوگوں میں سب سے بہترین کو قتل کرنے کے ذریعہ لوگوں پر بہت بڑا ظلم کیا ہے۔

   تم نے سواری پر اور اس کی زین پر اور کشتی پر سوار ہونے والے بہترین انسان کی قتل کیا ہے!

3110) المناقب والمثالب: 98.

3111) ابو الفرج اصفہانى کتاب «مقاتل الطالبيين» میں اپنی سند سے امام صادق‏ عليه السلام سے روايت كرتے ہیں کہ : بنی ہاشم کی عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا: ایک دن اشعث بن قيس؛ اميرالمؤمنين‏ امام علی عليه السلام کے پاس آیا اور اس نے امام علیہ السلام سے بہت تند لہجہ میں بات کی اور اشعث نے امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کو قتل کی دھمکی دی۔

   امیر المؤمنین امام‏ علی عليه السلام نے اس کے جواب میں فرمایا: «أب القتل تُهدّدنى؟! فَواللَّهِ؛ ما اُبالي وقعتُ عَلَى المَوتِ أوْ وَقَعَ المَوتُ عَلَيَّ»؛ « کیا تم مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہو ؟ خدا کی قسم! مجھے کوئی خوف نہیں کہ میں خود موت کی طرف چلا جاؤں یا موت میری طرف آ جائے ». (ترجمه مقاتل‏ الطالبيين: ص ص 25 - 26)

3112) زندگانى اميرالمؤمنين‏ عليه السلام (سيد هاشم رسولى محلاّتى): 721. 

 

منبع: معاویه ج ...  ص ...

 

بازدید : 1237
بازديد امروز : 85307
بازديد ديروز : 164708
بازديد کل : 139457081
بازديد کل : 96004149