حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
معاویہ کا امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے بارے میں «حق گوئی» کے مقابلے کا انعقاد

معاویہ کا امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے بارے میں «حق گوئی» کے مقابلے کا انعقاد

علامہ حموینی نے سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ عرب کے تین مشہور شاعرطرماح طائی، ہشام مرادی اور محمد بن عبداللہ حمیری)معاویہ کے پاس اکھٹے ہوئے۔ معاویہ نے اپنے سامنے سونے کے سکّوں کی ایک تھیلی رکھی اور کہا:

اے عرب کے شعراء! تم علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے خیالات شعر کی صورت میں بیان کرو، اور سچ کے سوا کچھ نہ کہنا۔ اگر میں یہ سونے کی تھیلی اس شخص کے علاوہ کسی اور کو دوں جس نے  علی (علیہ السلام)  کے بارے میں حق بیان کیا ہو تو میں اپنے جد صخر بن حرب سے اپنی نسبت کا انکار کرتا ہوں۔

اس موقع پر طرماح اپنی جگہ سے اٹھا اور  اس نے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے بغض و کینہ یا معاویہ کی خوشنودی کے لئے حضرت  کی مذمت میں توہین آمیز اشعار کہے۔

معاویہ نے کہا: بیٹھ جاؤ، خدا تمہاری نیت کو جانتا ہے اور علی (علیہ السلام) کے بارے میں تمہارے موقف سے آگاہ ہے۔

اس کے بعد ہشام مرادی کھڑا ہوا اور اس نے بھی امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی مذمت میں اشعار کہے۔ معاویہ نے اس سے بھی کہا: بیٹھ جاؤ، خدا تم دونوں کی نیت کو جانتا ہے اور  علی (علیہ السلام) کے بارے میں تمہاری رائے سے آگاہ ہے۔

اس وقت عمرو بن عاص بھی مجلس میں موجود تھا اور اس کا حمیری سے خاص تعلق تھا، لہذا اس نے حمیری سے کہا: اب تم شعر کہو اور علی (علیہ السلام)  کے بارے میں صرف حق بات کہو۔

حمیری نے کھڑے ہو کر کہا: اے معاویہ! کیا تم نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ سونے کی تھیلی صرف اسی کو دو گے جو علی علیہ السلام کے بارے میں حق بات کہے؟

معاویہ نے کہا: ہاں، اگر میں یہ تھیلی اس شخص کے علاوہ کسی اور کو دوں جو علی (علیہ السلام) کے بارے میں حق بات کرے تو میں اپنے جد صخر بن حرب سے اپنی نسبت کا انکار کر دوں گا۔

پس محمد بن عبداللہ حمیری(جو سید مرتضیٰ کے مادری اجداد میں سے تھے)کھڑے ہوئے اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی مدح و منقبت میں ایک بہت خوبصورت قصیدہ کہا، جسے سن کر معاویہ خوشی سے جھوم اٹھا اور کہنے لگا: تم ان سب میں سب سے زیادہ سچ بولنے والے ہو، یہ سونے کی تھیلی لے لو۔ چنانچہ اس نے وہ انعام اسے عطا کر دیا۔[1]

اور وہ قصیدہ یہ تھا:

بحقّ محمّد قولوا بحقّ         فإنّ الإفک من شمیم اللئام

أبعد محمّد بأبی واُمّی         رسول الله ذی الشرف التّهامی

ألیس علی أفضل خلق ربّی       وأشرف عند تحصیل الأنام؟!

ولایته هی الإیمان حقّاً         فذرنی من أباطیل الکلام

وطاعة ربّنا فیها و فیها           شفاء للقلوب من السِّقام

علی إمامنا بأبی واُمّی           أبوالحسن المطهّر من حرام

إمام هدی أتاه الله علماً         به عرف الحلال من الحرام

ولو أنّی قتلت النّفس حبّاً         له ما کان فیها من أثام

یحلّ النّار قوم أبغضوه            وإن صلّوا وصاموا ألف عام

ولا والله لاتزکو صلاة            بغیر ولایة العدل الإمام

أمیرالمؤمنین بک اعتمادی         وبالغرِّ المیامین اعتصامی

فهذا القول لی دین وهذا         إلی لقیاک یا ربّی کلامی

برأت من الّذی عادی علیآ          وحاربه من أولاد الطغام

تناسوا نصبه فی یوم «خمّ»         من الباری ومن خیرالأنام

برغم الأنف من یشنأ کلامی         علی فضله کالبحر طامی

وأبرأ من اُناس أخرّوه                 وکان هو المقدّم بالمقام

علی هزّم الأبطال لمّا               رأوا فی کفّه برق الحسام

وضاحت کے طور پر کہا گیا ہے کہ مطبوعہ “فرائد السمطین” میں یہ قصیدہ پانچ اشعار کے بغیر نقل ہوا ہے، لیکن وہ خطی نسخہ جس سے علامہ امینی نے کتاب “الغدیر”  کی دوسری جلد کے صفحہ ۱۷۷  میں یہ اشعار نقل کئے ہیں ، ، اس میں یہ قصیدہ ۱۷  اشعار پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے مؤلف’’ حموینی ‘‘ نے اسے حافظ ابو عبداللہ محمد بن احمد نطنزی کی کتاب “خصائص العلویہ علی سایر البریہ” سے روایت کیا ہے۔[2]

[1] ۔ فرائد السمطين:۱ / ۳۷۵، نيز بشارة المصطفى:۱۲، بحار الأنوار:۸ /۵۸۰ (چاپ كمپانى)، الغدير:۲ /۱۷۷.

[2] ۔ الإمام اميرالمؤمنين على علیه السلام از ديدگاه خلفاء: ۱۹۷.

مراجعین : 840