معاویه کیسے ہلاک ہوا؟
تاریخ کی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ جب معاویہ مناسک حج سے فارغ ہوا اور یزید کے لئے بیعت لینے کا کام مکمل کر لیا تو اس نے شام کی طرف واپسی کا ارادہ کیا۔
جب اس نے ’’ابواء‘‘ کے مقام پر قیام کیا تو رات کے وقت قضائے حاجت کے لئے ایک کنویں کے پاس گیا۔ جب اس نے کنویں میں جھانکا تو اس کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا اور وہ گھبراہٹ میں مبتلا ہو گیا۔
صبح جب لوگ اس سے ملنے آئے تو انہوں نے اس کی صحت و عافیت کے لئے دعا کی۔ اس کے بعد جب لوگ اس کے پاس سے چلے گئے تو وہ بہت غمگین ہو گیا اور رونے لگا۔
مروان جب اس کے پاس آیا اور اس کے چہرے کو دیکھا تو کہا: اے امیر! کیا بیماری کی تکلیف سے گھبرا رہے ہو؟
اس نے کہا: نہیں، میں اس لئے رو رہا ہوں کہ میں بہت نیکیاں اور کار خیر کر سکتا تھا لیکن میں نے وہ نیکیاں انجام نہیں دیں۔
اور اس نے یہ بھی کہا کہ میرے جسم کے ایک عضو میں بیماری لاحق ہو گئی ہے، جسے مسلسل کھلا رکھنا پڑتا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ بلا اس وجہ سے آئی ہو کہ میں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے حق کو ظلم کے ساتھ غصب کیا، اور حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا، اور یزید کو امتِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر حاکم بنایا۔
میں یہ سب کچھ یزید کی محبت کی وجہ سے دیکھ رہا ہوں۔ اگر اس کی محبت نہ ہوتی تو میں صرط مستقیم پر چلتااور اپنی بھلائی کو سمجھ لیتا۔ لیکن اس کی محبت اور اس سے تعلق نے مجھے ان اعمال اور جنگوں پر آمادہ کیا۔اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ دشمن مجھ پر ہنس رہے ہیں اور دوست میرے حال پر رو رہے ہیں۔[1]








