حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام کا اپنے ساتھیوں کے سربراہان سے معاویہ کے بارے میں خطاب

امیر المؤمنین علیہ السلام کا اپنے ساتھیوں کے سربراہان سے معاویہ کے بارے میں خطاب

محمد بن عبداللہ بن حارث طائی، جو بنی عفان کے خاندان سے ہیں، نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام جنگ جمل سے واپس تشریف لائے تو آپ نے اپنے دربان سے فرمایا: عرب کے سرداروں میں سے کون یہاں موجود ہے؟

دربان نے کہا: محمد بن عمیر بن عطارد تیمی، احنف بن قیس، صعصعہ بن صوحان عبدی اور چند دیگر افراد موجود ہیں۔

حضرت نے فرمایا: انہیں بلا لاؤ۔وہ حاضر ہوئے اور خلافت کے عنوان سے حضرت کو سلام کیا۔

حضرت نے ان سے فرمایا: تم عرب کے بزرگ اور میرے ساتھیوں کے سردار ہو، بتاؤ اس نوجوان عیاش کے بارے میں کیا کیا جائے۔ (اس سے معاویہ مراد تھا)

اس معاملے پر مشورہ کیا گیا۔ صعصعہ نے کہا: معاویہ کو خواہشاتِ نفس اور عیاشی نے گھیر رکھا ہے، وہ دنیا کا دلداہ ہے، اس کے لئے انسانوں کا قتل آسان ہے، اور اس نے اپنی آخرت کو ان کی دنیا کے بدلے فروخت کر دیا ہے۔ اگر آپ حکمت اور تدبیر سے اس کے بارے میں عمل کریں تو انشاء اللہ نتیجہ اچھا ہوگا، اور یا امیر المؤمنین !توفیق خدا ، رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  اور آپ کے ذریعےحاصل ہوگی۔ بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے کسی قابلِ اعتماد قریبی شخص کو ایک خط دے کر اس کی طرف بھیجیں اور اسے اپنی بیعت کی دعوت دیں۔ اگر وہ قبول کرے تو اس کا معاملہ واضح ہو جائے گا، اور اگر نہ مانے تو اس سے جنگ کریں اور خدا کے فیصلے پر صبر کریں، یہاں تک کہ معاملہ مکمل ہو جائے۔[1]

 


[1] ۔ مروج الذهب :۲/ ۴۱.

مراجعین : 121