امیرالمؤمنین علیه السلام کی مدح میں معاویه، یزید اور عمروعاص کے اشعار
معاویہ بن ابی سفیان بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف اسّی سال کی عمر میں ۱۵ رجب سنہ۶۰ ہجری کے دن ہلاک ہوا اور وہ شام میں مدفون ہے ۔
یزید بن معاویہ کی ماں ’’میسون بنت مجدل‘‘ تھی،وہ ۲۸ ہجری میں پیدا ہوا اور۱۴ ربیع الاوّل سنہ ۶۶ ہجری کو۳۸ سال کی عمر میں ہلاک ہوا۔ جبکہ وہ تقریباً پانچ سال آٹھ ماہ اور ایک دن سے کچھ کم عرصہ تک خلافت پر قابض رہا۔
“لوامع الانوار” میں لکھا ہے کہ معاویہ کے لئے ایک نہایت قیمتی لباس بطور تحفہ لایا گیا۔ عمرو بن عاص اور یزید کی نظریں اس پر جم گئیں۔ معاویہ نے کہا: ہم تینوں میں سے ہر ایک حضرت علی علیہ السلام کی مدح میں ایک شعر کہے، اور حاضرین مجلس فیصلہ کریں کہ کس کا شعر بہتر ہے۔ جس کا شعر سب سے بہتر ہو گا وہی اس لباس کا حقدار قرار پائے گا ۔
لوگوں نے کہا: پہلے تم خود شعر کہو۔اس پر معاویہ نے کہا:
خیر البریة من بعد أحمد حیدر
النّاس أرض والوصی سماء
پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بعدسب سے بہترین حیدر (علی علیہ السلام) ہیں۔ لوگ زمین کی مانند ہیں اور وصی(علی علیہ السلام) آسمان کی مانند ہیں۔
پھر عمرو عاص نے حاضرین مجلس کی طرف دیکھ کر کہا :
وهو الّذی شهد العدوّ بفضله
والفضل ما شهدت به الأعداء
اور وہ (حضرت علی علیہ السلام) ایسے ہیں جن کی فضیلت کی گواہی دشمن نے بھی دی ہے، اور اصل فضیلت وہی ہے جس کی گواہی دشمن بھی دے۔
اس کے بعد یزید نے سامعین کی طرف متوجہ ہو کر کہا :
کملیحة شهدت لها ضرائها
والحسن ما شهدت بها الضرّاء
حاضرین نے باہمی گفتگو اور تبادلۂ خیال کے بعد کہا کہ اس مقابلے میں یزید کا شعر فاتح قرار پایا؛ کیونکہ اس نے معاویہ کو اس مرد کی دوسری بیوی کے طور پر پیش کیا ہے جو اس بات کی گواہی دے رہی ہو کہ پہلی بیوی (علی علیہ السلام) خلافت اور قیادت کے مقام کے لئےاس سے کہیں زیادہ بہتر اور لائق ہیں۔[1]








