حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کا صعصعہ کو معاویہ کے نام خط لکھنے اور اسے معاویہ کے دربار میں بھیجنے کا حکم
امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:اے صعصعہ! میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ یہ خط تم خود لکھو اور اسے معاویہ کے پاس لے جاؤ۔ خط کی ابتدا میں سختی اور تنبیہ ہو اور آخر میں توبہ کا ذکر کرو۔ خط کا آغاز یوں ہوگا:
بسم الله الرحمن الرحیم
بندۂ خدا علی ، امیر المؤمنین کی جانب سے معاویہ کے طرف ۔
تم پر سلام ہو، امّا بعد...
پھر وہ باتیں لکھو جو تم نے مجھ سے بیان کی ہیں، اور اس آیت’’ ألا إلی الله تصیر الاُمور‘‘ [1]کو خط کے عنوان میں درج کرو۔
صعصعہ نے کہا: مجھے اس کام سے معاف فرمائیں۔
حضرت نے فرمایا: میں حکم دیتا ہوں کہ لکھو۔
اس نے کہا: میں لکھوں گا۔ چنانچہ اس نے خط لکھا، سفر کی تیاری کی اور دمشق کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ معاویہ کے دربار پہنچا تو دربان سے کہا: امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہما السلام کے قاصد کے لئے اندر آنے کی اجازت لو۔
اس وقت بنی امیہ کے کچھ لوگ دروازے پر موجود تھے۔ انہوں نے اسے ہاتھوں اور جوتوں سے مارا، جبکہ وہ یہ آیت پڑھ رہا تھا:
أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ.[2]
اس دوران شور و ہنگامہ بڑھ گیا۔ خبر معاویہ تک پہنچی تو اس نے آدمی بھیج کر انہیں جدا کروایا۔ جب وہ جدا ہوئے تو صعصعہ کو اندر بلایا گیا۔ معاویہ نے پوچھا: یہ شخص کون ہے؟
انہوں نے کہا: یہ ایک عرب آدمی ہے جس کا نام صعصعہ بن صوحان ہے، اور اس کے پاس علی (علیہ السلام) کا خط ہے۔
اس نے کہا : خدا کی قسم! اس کی خبر مجھ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ علی کے سرداروں میں سے ایک ہے اور عرب کے خطباء میں سے ہے، جس سے میں ملاقات کا خواہش مند تھا۔ اے غلام! اسے اندر بلاؤ۔
صعصعہ داخل ہوئے اور کہا:اے ابوسفیان کے بیٹے! تم پر سلام ہو، یہ امیرالمؤمنین کا خط ہے۔
معاویہ نے کہا:اگر جاہلیت یا اسلام میں قاصدوں کو قتل کرنا جائز ہوتا تو میں تمہیں قتل کر دیتا۔
پھر معاویہ نے اس سے گفتگو شروع کی اور اسے آزمانا چاہا تاکہ معلوم کرے کہ اس کی فصاحت و خطابت فطری ہے یا بناوٹی۔
اس نے کہا: تم کس قوم سے ہو؟
صعصعہ نے کہا: نزار سے۔
اس نے کہا: نزار کیسے تھے؟
صعصعہ نے کہا: وہ حملے میں دشمن کو گھیر لیتے تھے، مقابلے میں اسے چیر دیتے تھے، اور جب میدان چھوڑتے تو راستے بند کر دیتے تھے۔
اس نے کہا:نزار کی کس شاخ سے ہو؟
صعصعہ نے کہا: ربیعہ سے۔
اس نے کہا: ربیعہ کیسے تھے؟
صعصعہ نے کہا: ان کی تلوار کی حمائل بلند ہوتی تھی، وہ غلاموں کی مدد کرتے تھے اور زمین کے مختلف حصوں میں خیمے لگاتے تھے۔
اس نے کہا: اس کی کس شاخ سے ہو؟
صعصعہ نے کہا: جدیلہ سے۔
اس نے کہا: جدیلہ کیسے تھے؟
صعصعہ نے کہا: جنگ کے وقت وہ تیز دھار تلوار تھے، عطا کے وقت فائدہ پہنچانے والے بادل تھے، اور مقابلے کے وقت بھڑکتی ہوئی آگ تھے۔
اس نے کہا: اس کی کس شاخ سے ہو؟
صعصعہ نے کہا: عبدالقیس سے۔
اس نے کہا: عبدالقیس کیسے تھے؟
اس نے کہا : وہ کشادہ دست، سخی اور روشن چہرے والے تھے۔ جو کچھ ان کے پاس ہوتا وہ مہمان کو دے دیتے، اور جو چیز کا ان کے پاس نہ ہوتی اس کی طلب نہیں رکھتے تھے ۔ ان کی غذا نہایت سادہ تھی، وہ پاکیزہ انسان تھے، اور لوگوں کے لئے ایسے تھے جیسے آسمان کی بارش۔
معاویہ نے کہا:اے ابن صوحان! تم پر افسوس ہے، تم نے قریش کے اس گروہ کے لئے اب کوئی فخر اور شرف باقی نہیں چھوڑا۔
صعصعہ نے کہا:اے ابوسفیان کے بیٹے! کیوں نہیں،خدا کی قسم! میں نے ان کے لئے وہ افتخار چھوڑا ہے جو صرف انہی کے ساتھ خاص ہے۔ سفید، سرخ، زرد، گندمی رنگ، تخت، منبر اور حکومت،یہ سب قیامت تک انہی کے لئے ہیں۔ اور کیوں نہ ہو، جبکہ وہ زمین پر خدا کی نشانیاں اور آسمان میں اس کے ستارے ہیں؟
معاویہ خوش ہوا اور سمجھا کہ اس کی بات تمام قریش کے بارے میں ہے، چنانچہ کہا: اے ابن صوحان! تم نے سچ کہا، ایسا ہی ہے۔
صعصعہ نے اس کے مطلب کو نہیں سمجھا اور کہا:تم اور تمہاری قوم کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے، کیونکہ تم چراگاہ اور پانی کے چشمے سے دور کر دیئے گئے ہو۔
معاویہ نے کہا:اے ابن صوحان! تم پر افسوس ہے، کس لئے؟
صعصعہ نے کہا:افسوس اہلِ جہنم پر ہو! یہ افتخار صرف بنی ہاشم کے ساتھ خاص ہے۔
معاویہ نے کہا:اٹھو!اور پھر اسے باہر نکال دیا گیا۔
صعصعہ نے کہا:سچائی تمہاری باتیں بیان کر رہی ہے، نہ کہ تمہاری دھمکی۔ گفتگو سے پہلے جھگڑا نہیں ہونا چاہئے۔
معاویہ نے کہا:بے سبب نہیں کہ اس کی قوم نے اسے سرداری دی ہے۔ خدا کی قسم! میری خواہش ہے کہ میں بھی اسی نسب سے ہوتا۔
پھر اس نے بنی امیہ کی طرف رخ کیا اور کہا:مرد کو ایسا ہی ہونا چاہئے۔[3]








