حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
معاویہ اور عمرو عاص کا ایک دوسرے کا تمسخر اڑانا

معاویہ اور عمرو عاص کا ایک دوسرے کا تمسخر اڑانا

ابن قتیبہ نے کتاب ’’عیون الأخبار‘‘ میں نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں: ایک دن معاویہ نے عمرو بن عاص کو دیکھا اور ہنس پڑا۔ عمرو نے کہا: اے امیرالمؤمنین! خدا کرے آپ ہمیشہ مسکراتے  رہیں،لیکن آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟

معاویہ نے کہا: میں اس بات پر ہنس رہا ہوں کہ جنگ میں ابن ابی طالب کے مقابلے میں تم نے اپنی شرمگاہ  دکھائی تھی۔ اور خدا کی قسم! تم نے علی (علیہ السلام) کو بہت بڑا اور انتہائی سخی پایا، حالانکہ اگر وہ چاہتے تو تمہیں قتل کر سکتے تھے۔

عمرو نے کہا: اے امیرالمؤمنین!خدا کی قسم! جس وقت علی (علیہ السلام) نے تمہیں انفرادی مقابلے  کی دعوت دی تھی، میں تمہارے دائیں جانب موجود تھا۔ تمہاری آنکھیں خوف سے ٹیڑھی ہو گئیں اور تمہاری سانس سینے میں تھم گئی تھی، اور تمہاری ایسی حالت ہو گئی تھی کہ جسے بیان کرنا میں اپنے لئے مناسب نہیں سمجھتا۔

اس لئے یا تو خود پر ہنس لو، یا پھر ہنسنا ہی چھوڑ دو۔[1]،[2]

 


[1] ۔ عیون الأخبار:۴/۱۶۹.

[2] ۔ جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد: ۳/ ۲۴۲.

    مراجعین : 574