امام سجاد علیہ السلام کی انشاء اور جناب زید شہید کی تحریر میں صحیفۂ سجادیہ کا اصل نسخہ ویٹیکن کی لائبریری میں!
کتاب’’ کیمیاء ہستی‘‘[1] میں اس نسخے کے بارے میں آیت اللہ نجومی کی زبانی یہ بیان نقل ہوا ہے، جو قابل غور و فکر ہے:جب میں مدرسہ کے زمانے میں غیر شادی شدہ تھا تو اس کےچند سال بعد میں نے مرحوم علامہ عبدالحسین امینی سے عرض کیا کہ میں نے ایک رسالے میں نہایت عجیب بات پڑھی ہے۔ اس میں لکھا تھا کہ ویٹیکن میں یورپ کی ’’ویٹیکن اپاسٹولک لائبریری‘‘میں ایک ایسا قلمی نسخہ موجود ہے جس کی نظیر پوری دنیا میں نہیں ملتی۔
کیونکہ اس کتاب کے سوا عام طور پر ہر قلمی نسخہ کی کوئی نہ کوئی دوسری مشابہ یا مماثل نقل موجود ہوتی ہے۔ یہ دراصل ’’صحیفۂ سجادیہ‘‘ کا اصل نسخہ ہے، جو سیدالساجدين امام زین العابدين حضرت علی بن الحسین علیهما السلام کی انشاء سے آپ کے فرزند زید بن علی علیہما السلام نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔
اور شاید یہی وہ نسخہ ہو جس کے بارے میں’’صحیفہ ٔسجادیہ‘‘ کے مقدمہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام نہایت پریشان اور مضطرب تھے کہ کہیں یہ نسخہ گرگان [2]میں یحییٰ بن زید اور عباسی خلیفہ کے لشکر کے درمیان ہونے والی جنگ میں ضائع نہ ہو گیا ہو۔[3]
مرحوم علامہ عبدالحسین امینی نے فرمایا: آپ نے یہ بات کہاں پڑھی تھی؟
میں نے عرض کیا: مجھے یقین ہے کہ میں نے یہ کہیں پڑھا تھا، شاید کسی ماہنامہ رسالے میں۔
پھر ہم نے اس رسالے کے تمام شمارے کھنگال ڈالے، لیکن وہ عبارت نہ مل سکی۔ پھر مجھے خیال ہوا کہ شاید یہ کسی اور رسالے میں دیکھی تھی۔ چنانچہ ہم نے اس دوسرے رسالے کے بھی تمام شمارے دیکھ ڈالے، لیکن وہاں بھی یہ مطالب نہ مل سکے، اور آج تک بھی مجھے وہ اصل حوالہ دوبارہ نہیں ملا۔
البتہ بعد میں مرحوم علامہ امینی کے فرزند نے مجھ سے کہا:جناب! اب تلاش و جستجو کی ضرورت نہیں۔ ہمارے ایک چچا زاد بھائی اٹلی جا رہے تھے۔ میں نے انہیں تجویز دی کہ ویٹیکن میں ’’ویٹیکن اپاسٹولک لائبریری‘‘جا کر اس گم شدہ اور قیمتی نسخے کے بارے میں دریافت کریں، شاید انہیں اس کی زیارت نصیب ہو جائے۔
انہوں نے بتایا:ہم وہاں گئے اور لائبریری کے ذمہ داران سے اس نسخے کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے جواب دیا:یہ کتاب لائبریری میں موجود ہے، لیکن آپ اسے براہِ راست نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ ہم آپ کو اس کتاب کے مخصوص کمرے اور دنیا کے اس عظیم ترین خطی نسخے کی محفوظ جگہ تک لے جا سکتے ہیں۔
پھر وہ مجھے ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گئے، جس کا سائز تقریباً 3×4 میٹر تھا۔ اس کمرے میں نہایت قیمتی قالین بچھا ہوا تھا۔ کمرے کے وسط میں آبنوس کی لکڑی کی ایک نہایت نفیس اور قیمتی میز رکھی ہوئی تھی۔ اس میز پر آبنوس ہی کا ایک صندوق رکھا تھا، اور اس صندوق کے اندر سونے کا ایک اور صندوق موجود تھا۔ کتاب اس سنہری صندوق میں محفوظ رکھی گئی تھی۔
مزید یہ کہ آبنوس کے صندوق پر شیشے کا ایک حفاظتی غلاف بھی چڑھایا گیا تھا۔غرض یہ کہ وہ ایک چھوٹا سا مکمل کمرہ تھا، جسے ان قیمتی اشیاء کے ساتھ، صرف اسی مقدس کتاب کی حفاظت اور نگہداشت کے لئےمخصوص کر دیا گیا تھا۔[4]
یہ اس مبارک نسخے کے بارے میں آیت اللہ نجومی کے بیانات کا اختتام ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومتوں، زمانے، جگہ اور حالات میں آنے والی تبدیلیوں کے پیشِ نظر، اس قسم کے نفیس اور قیمتی آثار کے بارے میں معلومات تک رسائی نہ ہونے کا مسئلہ اب ختم ہو چکا ہے۔ یقیناً آج مختلف ذرائع، جیسے سیاسی وسفارتی روابط ، ثقافتی مشاورتوں، ادارۂ ارتباطات اور دیگر وسائل کے ذریعے اس معاملے کی حقیقت اور تہہ تک پہنچا جا سکتا ہے، اور اگر ممکن ہو تو اس کا تصویری ریکارڈ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے اور اسے تفصیل کے ساتھ متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے اہم اور قیمتی امور کی ذمہ داری اور ان کے بارے تحقیق اُن مخلص، درد مند اور ذمہ دار محققین کے کندھوں پر ہے جنہیں مذکورہ مواقع یا ان سے ملتے جلتے امکانات تک رسائی حاصل ہے۔
حسین متقی
یہ تحریر اس سے پہلے ۸ شہریور ۱۳۸۵ ہجری شمسی (۳۰ اگست ۲۰۰۶ء کو ویب سائٹ ’’حلقۂ کاتبان‘‘ پر شائع ہو چکی ہے۔
[1] ۔ کتاب کیمیای هستی (زندگینامه و خودنوشت سید مرتضی نجومی) : ۱۵۳ اور ۱۵۴.
[2] ۔ یہ ’’جوزجان‘‘ ہونا چاہئے لیکن بظاہر ترجمہ میں تصحيف ہوئی ہے.
[3] ۔اس عبارت کا دقیق ترجمہ یہ ہو گا کہ ’’ آپ پریشان تھے کہ کہیں یہ نسخہ ضائع نہ ہو جائے‘‘۔ لیکن صحیفہ میں موجود مقدمہ میں یہ دقیق نہیں لگتا ۔والله العالم.
[4] ۔ کتاب کیمیای هستی (زندگینامه و خودنوشت سید مرتضی نجومی) : ۷۶.








