امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی شهر حلّه کے بارے میں پیشنگوئی
مرحوم سید محمدباقر خوانساری نے اپنی گرانقدر کتاب «روضات الجنّات» میں علامہ حلّی کے حالاتِ زندگی کے ضمن میں نقل کیا ہے کہ شیخ اجلّ عزالدین ابوالمکارم حمزۃ بن علی بن زہرہ حسینی حلبی سنہ۵۷۴ ہجری میں بیت اللہ الحرام کی زیارت کے قصد سے شہرِ حلّہ میں داخل ہوئے۔
جب وہ حلّہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنے دائیں بائیں نظر دوڑائی۔ ان کے ساتھیوں یا استقبال کرنے والوں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا: مجھے تمہارے شہر کی ایک نمایاں فضیلت یاد آ رہی ہے۔
لوگوں نے پوچھا: وہ فضیلت کیا ہے؟
ابوالمکارم نے کہا: میرے والد نے ایک حدیث کلینی سے نقل کی ہے، اور کلینی نے چند واسطوں سے اصبغ بن نباتہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم جنگِ صفین میں اپنے مولا امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ تھے۔ اسی دوران ہم امام علیہ السلام کے ساتھ ایک ٹیلے پر کھڑے تھےکہ آپ نے بابل اور اس ٹیلے کے درمیان واقع ایک نیزار (سرکنڈوں والی جگہ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:یہ ایک شہر ہے، اور کیا ہی عجیب شہر ہے۔
میں (اصبغ بن نباتہ) نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! کیا آپ کو کسی ایسے شہر کی یاد آئی ہے جو پہلے تھا اور اب اس کے آثار مٹ چکے ہیں؟
حضرت نے فرمایا: نہیں، بلکہ عنقریب اس مقام پر ایک شہر آباد ہوگا جس کا نام حلّہ سیفیہ ہوگا، اور اس کی بنیاد بنی اسد کے ایک شخص کے ہاتھوں رکھی جائے گی۔ اس شہر میں ایسے نیک لوگ پیدا ہوں گے کہ جب وہ کسی کام کے لئے خدا کو قسم دیں گے تو خدا ان کی قسم کو ردّ نہیں کرے گا۔
اس کے بعد مرحوم خوانساری، علامہ حلّی کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: علامہ حلّی اسی شہر حلہ کے باشندوں میں سے تھے، جو امیر سیف الدّولہ صدقہ بن منصور مزیدی اسدی کی تعمیرات میں سے ہے۔
امیر سیف الدّولہ دیالمہ کے حکمرانوں میں سے تھے، جو محرم سنہ ۴۹۵ ھ میں وفات پا گئے۔ حلّہ عراق کے مشہور شہروں میں سے ہے، جو نجف اور بغداد کے درمیان اور بابل کے کھنڈرات کے قریب واقع ہے۔ یہ شہر اپنے قیام کے آغاز ہی سے تشیع کا مرکز رہا ہے۔ یوسف بن علی بن مطہر حلی المعروف بہ علامہ حلی ، محقق حلی (جو علامہ حلی کے ماموں تھے)، ابن داود حلی، ابوالحسین علی بن محمد بن سکون حلی اور دیگر بڑے علماء کا تعلق اسی شہر سے تھا ۔
اب چونکہ علامہ حلی کا تذکرہ ہوا ہے تو مناسب ہے کہ اس عظیم شیعہ عالم کی زندگی کےمختصر تعارف سے اس کتاب کی زینت دی جائے۔
علامہ حلی کا شمار عراق کے برزگ اور ممتاز شیعہ علماء میں ہوتا ہے۔ وہ اس دور میں پروان چڑھے جب منگولوں کے حملوں کی وجہ سے تقریباً تمام اسلامی ممالک کی حالت بگڑ چکی تھی اور سیاسی و سماجی نظام درہم برہم ہو چکا تھا۔ آپ سنہ ۶۴۸ ھ میں پیدا ہوئے، یعنی آپ بغداد پر سنہ ۶۵۶ ھ میں منگول حملے سے آٹھ سال پہلے اور اسلامی سرزمینوں پر منگولوں کے حملوں کے تقریباً ۳۲ سال بعد پیدا ہوئے ۔
اس کے علاوہ علامہ حلّی ، ابن تیمیہ کے ہم عصر ہیں ، جو اہلسنت کے بڑے علماء میں شمار ہوتے ہیں اور اہلِ حدیث کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہابیت کے بانیوں نے اپنے مکتب کی بنیاد ابن تیمیہ کے نظریات پر رکھی ہے۔
اس بنا پر اس پُرآشوب دور میں علّامہ حلّی کی خدمات اور جرأت قابلِ ستائش ہیں۔ آپ اپنی علمی مہارت کے ذریعے اس نازک زمانے میں شیعہ مذہبِ کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے بہت زیادہ کوشاں رہے ، جن میں سے ہم بعض کو بطور مختصر بیان کرتے ہیں :
کتاب «زبدة التواریخ» کے مؤلف حافظ ابرو [1]بیان کرتے ہیں کہ جب سلطان اولجایتو المعروف بہ سلطان محمد خدابندہ کو مذہبِ شیعہ کی حقانیت کا یقین ہوا تو انہوں نے شیعہ علماء ، منجملہ علّامہ حلّی کو دربار میں طلب کیا۔ اسی مجلس میں اس نے شیخ نظام الدین عبدالملک مراغی سے درخواست کی کہ وہ علّامہ حلّی کے ساتھ امامت کے موضوع پر بحث کریں۔
علّامہ حلّی نے امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی ولایت اور خلافت کے اثبات میں مضبوط دلائل پیش کئے اور نظام الدین پر غالب آ گئے۔ نیز ان پر خلفائے ثلاثہ کے غلط طریقۂ کار بھی واضح ہو گیا کہ مجلس میں موجود کسی شخص کے لئے کوئی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہی۔
جب نظام الدین عبدالملک مراغی نے خود کو اس طرح لاچار پایا تو نہایت شرمندگی کے ساتھ علّامہ حلّی کی تعریف کی اور ان کے علمی مقامات کی ستائش کی اور کہا:
حضرت شیخ (علّامہ حلّی) کے دلائل کی قوت بالکل واضح اور روشن ہے، لیکن ہمارے گذشتگان نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا تھا جو مناسب نہیں تھا، اور ان کے بعد آنے والے لوگوں نے بھی اس لئے خاموشی اختیار کی کہ عوام الناس پر قابو رکھ سکیں اور مسلمانوں کو راہِ اسلام سے منحرف نہ ہونے دیں۔ لہٰذا انہوں نے گزرے ہوئے لوگوں کی لغزشوں کا ذکر نہیں کیا۔ اب مناسب یہی ہے کہ ہم بھی ان کے رازوں سے پردہ نہ اٹھائیں۔
حافظ ابرو اس مذکورہ واقعہ کو نقل کرنے کے بعد بیان کرتے ہیں کہ علّامہ اور نظام الدین عبدالملک مراغی کے درمیان بہت سے مناظرے ہوئے اور ہر موقع پر نظام الدین نے علّامہ حلّی کا احترام ملحوظ رکھا۔
مرحوم خوانساری نے علامہ مجلسی سے نقل کیا ہے کہ ایک دن سلطان محمد خدابندہ (جو ابتدا میں اہلسنت مذہب سے تعلق رکھتے تھے) اپنی ایک بیوی پر غضبناک ہوئے اور غصہ کے عالم میں اسے تین طلاق دے دی، پھر پشیمان ہوا۔ اس نے اہلسنت کے علماء کو جمع کیا اور ان سے مسئلہ بیان کر کے اس کا حل طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب رجوع کا واحد طریقہ ’’حلالہ‘‘ ہے تاکہ دوبارہ اپنی بیوی کی طرف لوٹ سکو۔
بادشاہ نے کہا: تم لوگ اکثر شرعی مسائل میں شدید اختلاف کرتے ہو، کیا اس کے علاوہ کوئی اور راستہ ممکن نہیں؟
اہلسنت علماءنے جواب دیا: نہیں، اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے ۔
اسی دوران اس کے ایک وزیر نے کہا: حلّہ میں ایک عالم موجود ہے جو اس طلاق کو باطل سمجھتے ہیں ۔ چنانچہ بادشاہ کی طرف سے علّامہ حلّی کو خط لکھا گیا اور انہیں دربار میں حاضر ہونے کی دعوت دی گئی۔
اہلسنت علماء نے کہا: اس عالم کا مذہب نادرست اور باطل ہے اور رافضی عقل و فہم نہیں رکھتے، بادشاہ کی شان سے بعید ہے کہ ایسے بے عقل شخص کو دربار میں بلایا جائے!
بادشاہ نے کہا: اسے ضرور آنا چاہئے تاکہ ہم خود اس کے نظریات اور رائے کو قریب سے جان سکیں۔
چنانچہ علّامہ حلّی کو خط لکھا گیا اور یہ بزرگ عالم حلّہ سے تبریز تشریف لائے۔ جب بادشاہ کو علّامہ حلّی کی آمد کی خبر ہوئی تو اس نے اہلسنت کے علماء کو دربار میں طلب کیا۔ اس وقت یہ علماء اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے ہوئے تھے کہ علّامہ حلّی نے اپنے جوتے بغل میں اٹھائے ہوئے داخل ہو کر سلام کیا اور مجلس کے صدر مقام پر جا بیٹھے۔
اہلسنت علماء نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بادشاہ سے کہا: کیا ہم نے آپ سے عرض نہیں کیا تھا کہ رافضی عقل سے عاری ہوتے ہیں؟ اب آپ خود ہماری اس بات کی تصدیق فرمائی گے ؟
بادشاہ نے کہا: اس عمل کی وجہ خود انہی سے دریافت کرو۔
چنانچہ ایک عالم نے علّامہ حلّی کی طرف متوجہ ہو کر کہا: اے شخص! تم نے دربار میں داخل ہوتے وقت آداب کا خیال کیوں نہ رکھا اور زمینِ ادب کو کیوں نہ چوما؟
علّامہ حلّی نے مترجم کے ذریعے جواب دیا: جو بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، وہ سلام کرتا تھا اور زمین کو بوسہ نہیں دیتا تھا (یعنی سجدہ نہیں کرتا تھا)۔ اس کے علاوہ خدا نے اپنی کتاب قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا ہے:
فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً. [2]
پس جب گھروں میں داخل ہو تو کم از کم اپنے اوپر ہی سلام کر لو کہ یہ خدا کی جانب سے نہایت ہی مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے ۔
اس کے علاوہ ہم اور آپ سب اس بات کے قائل ہیں کہ غیرِ خدا کے لئے سجدہ واجب نہیں ، بلکہ حرام ہے۔
انہوں نے پوچھا: تم صدر مجلس میں بادشاہ کے پاس کیوں بیٹھ گئے؟
علّامہ حلّی نے جواب دیا: مجھے کوئی اور جگہ نظر نہیں آئی۔
انہوں نے پھر سوال کیا: تم نے شاہی مجلس میں اپنے جوتے بغل میں کیوں اٹھا رکھے؟ یہ عمل ایسے مقام کے شایانِ شان نہیں اور کسی عقلمند سے اس کی توقع نہیں کی جاتی۔
علّامہ حلّی نے جواب دیا: مجھے ڈر تھا کہ کوئی حنفی شخص میرے جوتے نہ چرا لے، کیونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں ایسا واقعہ پیش آ چکا ہے۔
ایک حنفی عالم نے کہا: امام ابو حنیفہ تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تقریباً ایک سو سال بعد پیدا ہوئے[3]، تو اس زمانے میں کوئی حنفی ایسا کام کیسے کر سکتا تھا؟
علّامہ حلّی نے کہا: مجھ سے غلطی ہو گئی، وہ شافعی تھا۔
انہوں نے کہا: امام شافعی تو امام ابو حنیفہ کے انتقال کے دن پیدا ہوئے تھے، لہٰذا یہ ممکن نہیں۔
علّامہ نے پھر کہا: مجھ سے غلطی ہو گئی، وہ مالکی تھا۔
انہوں نے کہا: امام مالک بھی اسی طرح ہیں، انہوں نے بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے کو درک نہیں کیا۔
پھر علّامہ نے کہا: تو پھر وہ حنبلی تھا۔
انہوں نے جواب دیا: امام احمد بن حنبل نے بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے کو نہیں پایا۔
اس موقع پر علّامہ حلّی نے بادشاہ کی طرف رخ کر کے کہا: جیسا کہ یہ علماء خود اعتراف کر رہے ہیں، ان کے مذاہب کے پیشوا نہ تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں موجود تھے اور نہ ہی انہوں نے صحابۂ کرام کا زمانہ پایا، جبکہ مکتبِ تشیع حضرت علی علیہ السلام کی پیروی کرتا ہے، جو نفس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ، آپ کے وصی اور چچا زاد بھائی تھے۔
اس موضوع پر مزید گفتگو کے بعد علّامہ حلّی نے بادشاہ سے پوچھا: کیا آپ نے اپنی بیوی کو دو عادل گواہوں کی موجودگی میں طلاق دی تھی؟
بادشاہ نے کہا: نہیں۔
علّامہ نے فرمایا: تو پھر یہ طلاق باطل ہے اور حقیقت میں طلاق واقع ہی نہیں ہوئی۔
بادشاہ جو علّامہ حلّی کے دندان شکن اور قاطع دلائل سے بہت خوش تھے،لہذا انہوں نے اسی مجلس میں سنّی مذہب سے دستبردار ہو کر شیعہ مذہب اختیار کر لیا ۔
اس کے بعد سلطان محمد خدابندہ نے مذہبِ تشیع کی تبلیغ و ترویج شروع کی اور حکم دیا کہ بہت سی مساجد کے دروازوں پر کاشی کاری کے ذریعے ائمۂ ہدیٰ علیہم السلام کے نام لکھے جائیں تاکہ لوگوں پر شیعہ مذہب کی حقانیت واضح ہو۔ اس کے علاوہ انہوں نے حکم دیا کہ جمعہ کے خطبات میں ائمۂ اطہار علیہم السلام کے نام لئے جائیں اور ان کے نام پر سکے بھی بنائے جائیں۔
علامہ مجلسی فرماتے ہیں: اس وقت (یعنی گیارہویں صدی ہجری میں) ہمیں اصفہان کی قدیم جامع مسجد میں تین مقامات پر ائمۂ اطہار علیہم السلام کے اسمائے مبارکہ دکھائی دیتے ہیں، جو سلطان محمد خدابندہ کے دور کے آثار ہیں۔
اسی طرح پیر بکران لنجان(اصفہان) کے معبد،عرفا میں سے شیخ نورالدین نطنزی کے مزار اور دارالسیادۃ کے منار(جسے سلطان محمد خدابندہ نے اپنے بھائی غازان خان کی بنائی ہوئی عمارت کے بعد مکمل کیا تھا) پر ائمۂ ہدیٰ علیہم السلام کے اسماء مبارک درج ہیں۔یہ سب آثار علّامہ حلّی کی برکات کا نتیجہ ہیں۔
صاحب «لبّ التواریخ» نے لکھا ہے کہ سلطان خدابندہ ۵ ذی الحجہ سنہ ۷۰۳ ھ کو اپنے بھائی غازان خان کی جگہ تبریز میں تختِ حکومت پر بیٹھے۔مغول بادشاہوں میں کوئی بھی ان کی طرح عادل نہ تھا۔ وہ دین کی تقویت کے لئے کوشش کرتے تھے اور یہود و نصاریٰ سے جزیہ وصول کرتے تھے۔ اس نے حکم دیا کہ تمام ممالکِ ایران میں خطبہ میں بارہ اماموں کے مبارک اسماء پڑھے جائیں۔
انہوں نے سنہ ۷۰۵ ھ میں شہر سلطانیہ کی بنیاد رکھی اور سنہ ۷۰۶ ھ میں گیلان کو فتح کیا اور ۷۱۲ ھ میں شام گئے جہاں صلح کے ساتھ معاملہ طے پایا۔پھر بارہ سال اور نو ماہ حکومت کرنے کے بعد وہ سنہ ۷۱۶ ھ میں عید الفطر کی رات وفات پا گئے اور سلطانیہ کے مقبرۂ ابواب البر میں دفن ہوئے جسے انہوں نے خود تعمیر کروایا تھا۔ان کی پیدائش سنہ۶۸۰ ھ میں ہوئی تھی اور ان کی عمر ۳۶ سال تھی۔
مورخِ مذکور ’’لبّ التواریخ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ سنہ ۷۰۷ ھ کے واقعات میں سے ایک شاہ خدابندہ کا شیعہ ہونا ہے، جنہوں نے ابن مطہر (علامہ حلّی) کی گمراہی کے باعث تشیع کو اپنا شعار بنایا اور اس مذہب کی طرف مائل ہوگیا!!
غزنویوں، سلجوقیوں اور خوارزم شاہیوں کے تسلط کے زمانے میں ایران کے اکثر لوگ عباسی خلفاء کے زیرِ اثر سنّی تھے، یہاں تک کہ سنہ ۶۱۷ ھ میں مغولوں نے ایران پر حملہ کیا۔ اس دور میں دین کے ارکان کمزور پڑ گئے، مغولوں کی دوسری نسل آہستہ آہستہ اسلام سے آشنا ہوئی اور ان میں سے بعض مسلمان ہوگئے اور دین کی ترویج کرنے لگے۔ پہلا شیعہ ہونے والا مغولی بادشاہ ’’ اولجایتو‘‘ ہی تھا، جس نے اپنا نام بدل کر سلطان محمد خدابندہ رکھ لیا، اور یہ سب علامہ حلّی کی کوشش اور ذہانت کے سبب ہوا۔
عصرِ ایلخانی مغول کی خصوصیات اور خوبیوں میں سے ایک فکری آزادی کا وجود ہے، اس حد تک کہ شیعہ اور سنی علماء ایک دوسرے کے ساتھ کسی نزاع کے بغیر صرف علمی مباحث کے دائرے میں باہمی تعاون اور مدد کرتے تھے۔ خواجہ نصیرالدین طوسی کے بہت سے اساتذہ اور ساتھی اہلِ سنت تھے۔
اس دور میں سنی اور شیعہ علماء کے درمیان تعلقات قابلِ تحسین تھے، یہاں تک کہ شیعہ میں علم کلام کی بہترین اور مضبوط دلائل پر مبنی کتابیں اسی زمانے میں لکھی گئیں۔ اس کی وجہ شیعہ اور سنی علماء کی ہمنشینی اور قربت تھی۔ چنانچہ خواجہ نصیرالدین طوسی نے’’تجرید العقائد‘‘لکھی، جو شیعوں میں علم کلام کی معتبر کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اور علامہ حلّی نے امامت کے موضوع پر ’’منہاج الکرامہ‘‘ لکھی ۔اسی کتاب ’’منہاج الکرامہ‘‘ پر ابن تیمیہ نے تنقید بھی کی۔
علامہ حلّی نے’’منہاج الیقین‘‘ نامی کتاب شاہ خدابندہ کے نام سے تألیف کی اور دربارِ حکومت میں ایک خاص مقام حاصل کیا۔ البتہ سنی علماء جیسے قاضی عضد ایجی، شیخ نظام الدین مراغی، ملا بدرالدین شوشتری اور دیگر افراد بھی حکومتی دربار میں موجود تھے، لیکن علامہ ان سب علماء کے سربراہ کی حیثیت رکھتے تھے۔
مورخین بیان کرتے ہیں کہ علامہ کے بیٹے، جن کا نام فخرالمحققین تھا، یا کسی اور شخص نے علامہ حلّی کو ان کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا اور ان سے پوچھا: اس دنیا (آخرت) میں آپ کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا؟
علامہ نے جواب دیا: لولا کتاب الألفین وزیارة الحسین علیه السلام لأهلکتنی الفتاوی۔ اگر کتاب’’ الالفین‘‘ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت نہ ہوتی تو میرے فتوے مجھے ہلاک کر دیتے ۔
علامہ حلّی نے اپنی گرانقدر کتاب ’’الفین‘‘ میں امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی امامت و ولایت اور شیعہ مذہب کی حقانیت پر دو ہزار دلائل پیش کئے ہیں۔
علامہ حلّی سنہ ۷۲۶ ھ میں وفات پا گئے اور آپ کو امیرالمؤمنین علی علیه السلام کے حرم مبارک میں سپرد خاک کیاگیا ۔ رحمة الله علیه وعلینا. [4]
[1] ۔نورالدین لطف اللہ ہروی، جو حافظِ ابرو کے نام سے معروف ہیں، نویں صدی ہجری کی مشہور شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ حافظِ قرآن تھے اور ان کی بھنویں گھنی تھیں، اس لئے وہ حافظِ ابرو کے نام سے مشہور ہوئے۔روضات نے مذکورہ بالا مطلب کو حافظِ ابرو سے نقل کیا ہے۔ مجھے یہ عبارت زبدۃ التواریخ میں نہیں ملی؛ غالباً حافظِ ابرو نے اسے اپنی کتاب مجمع التواریخ میں تحریر کیا ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ زبدۃ التواریخ، مجمع التواریخ سلطانی کا چوتھا حصہ ہے۔
[2] ۔ سوره نور، آیت:۶۱.
[3] ۔ اہل سنت کے مذہب اربعہ کے پیشواؤں کی تاریخ ولافت و وفات کچھ اس طرح سے ہیں :
1 ـ ابوحنيفه ولادت ۸۰ ه ،وفات۱۵۰ ه.
2 ـ شافعى ولات ۱۵۰، وفات ۲۰۴ ه .
3 ـ مالك بن انس ،ولادت ۹۳، وفات ۱۷۹ ه ق .
4 ـ احمد بن حنبل ولادت۱۶۴، وفات ۲۴۱ه .
[4] ۔ پيشگويىهاى اميرالمؤمنين علیه السلام: ۴۴۹.








