امیر المؤمنین علیہ السلام کی معرفت ناممکن
(امیرالمؤمنین علیه السلام کی معرفت کے ناممکن ہونے کے بارے میں ابوذر کا بیان)
کتاب ’’مشارق انوار الیقین فی اسرار امیرالمؤمنین‘‘ میں روایت ہے کہ ابوذر ، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں شرفیاب ہونے کے بعد باہر آئے تو عمر کی ان سے ملاقات ہوئی ۔ عمر نے پوچھا کہ ابھی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں کون موجود تھا؟
ابوذر نے کہا: ایک شخص موجود تھا جسے میں نہیں پہچانتا۔
جب عمر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہاں امیرالمؤمنین علیہ السلام موجود ہیں۔
اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ آسمان نے ابوذر سے زیادہ سچے پر سایہ نہیں کیا اور زمین نے کسی ایسے کو نہیں اٹھایا؟
آپ نے فرمایا: ہاں! میں نے یہ کہا ہے۔
عمر نے کہا: آج میں نے ابوذر سے جھوٹ سنا ہے، میں نے ان سے پوچھا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس کون تھا؟ تو انہوں نے کہا: ایک شخص تھا جسے میں نہیں پہچانتا، حالانکہ وہ علی علیہ السلام کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ابوذر نے سچ کہا ہے۔ علی کو میرے اور خدائے عزوجل کے سوا کوئی نہیں پہچانتا۔[1]،[2]








