امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
امام سجاد علیه السلام اور آپ کے چند شاگردوں کو شہید کرنا

امام سجاد علیه السلام اور آپ کے چند شاگردوں کو شہید کرنا

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے نواسے، شیعوں کے چوتھے امام حضرت  امام زین العابدین علیہ السلام کو شہید کرنا، مروانیوں کا سب سے بڑا جرم تھا۔جبکہ آپ کسی بھی جنگ میں مروانیوں کے خلاف شریک نہیں تھے، اور آپ کی نمایاں پہچان مدینہ منورہ میں عبادت، زہد اور علمی مصروفیات تھیں۔[1]

آپ کو سنہ ۹۴ یا ۹۵ ھ میں ولید بن عبدالملک کے زہر کے ذریعے، یا بعض روایات کے مطابق ہشام بن عبدالملک یا خود ولید کے ہاتھوں مسموم کیا گیا ، جس سے آپ شہید ہوئے۔[2]  آپ کو جنت البقیع میں آپ کے چچا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا۔[3]

شیخ طوسی نے اپنی کتاب رجال میں امام سجاد علیہ السلام کے۱۷۰ شاگردوں اور اصحاب کے نام ذکر کئے ہیں۔[4]ان میں سے بعض وہ افراد بھی ہیں جو مروانی حکمرانوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

سعید بن جُبَیر (۴۶-۹۵ ھ) اسلام کے علماء اور صحاح ستہ کے راویوں میں سے تھے [5]اور مشہور زاہدین میں شمار ہوتے تھے۔ علمِ رجال اور حدیث کے تمام علماء نے نہایت اعلیٰ الفاظ میں ان کی تعریف کی ہے۔[6] وہ تفسیر میں تابعین کے سب سے بڑے عالم تھے۔[7] بعض کے مطابق علمِ تفسیر میں سب سے پہلی کتاب  سعید بن جبیر ہی نے لکھی تھی ۔ [8]

امام جعفر صادق علیہ السلام سے ان کے بارے میں منقول ہے: “سعید بن جبیر صراطِ مستقیم پر تھے اور وہ علی بن الحسین علیہما السلام کی اقتدا کرتے تھے، اور امام سجاد علیہ السلام بھی ان کی تعریف فرماتے تھے، اور یہی تعلق ان کے اور امام کے درمیان حجاج کے ہاتھوں ان کی شہادت کا سبب بنا۔[9]

عبدالرحمن بن ابی لیلی انصاری: یہ تابعین میں سے تھے اور اپنے دور کے فقہاء میں شمار ہوتے تھے، نیز صحاح ستہ کے راوی بھی ہیں۔ حجاج نے انہیں اس لئے سخت اذیت دی کہ وہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کو گالی دیں، لیکن انہوں نے اس سے انکار کیا، یہاں تک کہ انہیں  بہت زیادہ مارا پیٹا گیا جس کے نتیجہ میں وہ  شہید ہو گئے ۔

یحییٰ بن امّ طویل: یہ بھی تابعین میں سے تھے۔ وہ کوفہ کے بڑے چوراہے پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہتے تھے:اے اللہ کے دوستو! جو کوئی علی علیہ السلام کو گالی دے، اس پر اللہ کی لعنت ہو۔

یحییٰ نے ایسے وقت میں حضرت علی علیہ السلام کی حمایت میں آواز بلند کی جب مروانی حکمران خاندان اہلبیت علیہم السلام  کی کھلم کھلا بے ادبی  کرتا اور دشنام کو رواج دے رہا تھا۔

امام باقر علیہ السلام نے ان کی شخصیت کے بارے میں فرمایا: یحییٰ بن امّ طویل ہمیشہ جوانمرد اور بے باک شخصیت کے حامل تھے۔

ان کا امام زین العابدین علیہ السلام سے قریبی تعلق اور حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی علانیہ حمایت کرنا ، ان کی گرفتاری کا سبب بنی۔ حجاج بن یوسف نے انہیں گرفتار کر کے سب سے پہلے حضرت علی علیہ السلام پر سبّ و شتم کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن انہوں نے انکار کیا، جس پر حجاج نے سخت غصے میں ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیئے اور انہیں شہید کر دیا۔

کمیل بن زیاد نخعی: یہ معروف تابعی اور دعائے کمیل کے راوی تھے۔ انہیں بھی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے محبت اور تشیع کے جرم میں، بڑھاپے کے باوجود، حجاج کے حکم پر شہید کر دیا گیا۔ [10]

 


[1] ۔ فرهنگ شیعه، محمد خطیبی:۱۰۴.

[2] ۔ دلائل الامامه،۱۹۲؛ اعلام الوری، طبرسی، ج۱، ص ۴۸۲ ؛ مناقب آل ابی طالب، ج۴، ص۲۲۸؛ الفصول المهمه، ج۲، ص ۸۷۴؛ بحارالانوار، ج۴۶، ص۱۵۳.

[3] ۔ فرهنگ شیعه:۱۰۶.

[4] ۔ رجال شیخ طوسی: ۸۱.

[5] ۔ الکاشف فی معرفه من له روایه فی الکتب السته، شمس ‏الدین ذهبی، ج 1، ص 56.

[6] ۔ وفیات الاعیان، ابن خلکان، ج 1، ص 204؛ طبقات ‏الکبری، ج 6، ص 178؛ الأعلام، زرکلی، ج 3، ص 93.

[7] ۔ کان قتاده یری أنه أعلم التابعین فی التفسیر؛ التفسیر والمفسرون، ج 1، ص 103.

[8] ۔ الشیعه و فنون الاسلام، سید حسن صدر، ص 25.

[9] ۔ شاگردان مکتب ائمه علیهم السلام، ج 2، ص 279.

[10] ۔ نسل كشي سادات و مسلمانان شيعه:۱۶۳.

بازدید : 2