امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
امیر المؤمنین علیہ السلام کی پیشنگوئی کی وجہ سے نجف، کربلا اور حله کا امان میں رہنا

امیر المؤمنین علیہ السلام کی پیشنگوئی کی وجہ سے نجف، کربلا اور حله کا امان میں رہنا

(امیرالمؤمنین علیه السلام  کی  فتح بغداد کے بارے میں پیشنگوئی)

علامہ حلی “کشف الحق” میں فرماتے ہیں:میرے والد سدید الدین، سید ابن طاؤوس اور چند دیگر علماءِ مشہدِ حسین، نجف اور حِلّہ نے ہلاکو کے نام ایک خط لکھا اور امان طلب کی۔

میرے والد اکیلے ہلاکو کے پاس گئے۔ ہلاکو نے پوچھا کہ ابھی میری فتح کے آثار ظاہر نہیں ہوئے تھے تو انہوں نے امان کیوں طلب کیا؟

میرے والد نے جواب دیا: ہمیں امیرالمؤمنین علیہ السلام نے تمہارے آنے کی خبر دی ہے اور فرمایا ہے کہ ترک بنی عباس کے آخری خلفاء پر غالب آئیں گے، اور ان کا بادشاہ ایک سخت گیر اور خوش نصیب شخص ہوگا جو جس قلعے یا شہر تک پہنچے گا اسے فتح کر لے گا، اور اس کے مقابلے میں کوئی پرچم بلند نہیں ہوگا مگر وہ سرنگوں ہو جائے گا۔

افسوس ہے اس پر جو اس کی مخالفت کرے۔

یہ سن کر ہلاکو میرے والد سے حسنِ سلوک سے پیش آیا اور انہیں تحریری امان نامہ دیا، جس کے نتیجے میں مشہد، نجف اور حلہ غارت گری سے محفوظ رہے۔[1]،[2]

 


[1] ۔ ر ك: علامه حلى، حسن به يوسف بن مطهر: نهج الحق و كشف الصدق، ترجمه عليرضا كهنسال، انتشارات تاسوعا، چاپ اول، مشهد، ۱۳۷۹ ش، ص ۲۵۳ ، ر ك: كشف اليقين، ص۸۱، والمحمودى، محمدباقر: نهج السعادة في مستدرک نهج البلاغه، تصحيح عزيز آل طالب، المجلد الثالث، مؤسسة الطباعة والنشر وزدارة الثّقافة والإرشاد الاسلامي، الطبعة الاولى، طهران، 1418، ص 426. انہوں نے زوراء نامی معروف خطبہ چند منابع سے ذکر کیا ہے. اميرالمؤمنين حضرت امام علی علیه السلامنے اس خطبہ میں بنى عباس کی خلافت اور ان کے ظلم و ستم کی پیشنگوئی کی ہے اور اسی طرح آپ نے مغول کے حملے کے بارے میں بھی بیان فرمایا ہے ۔

[2] ۔ کبریت احمر : ۸۵۵.

بازدید : 3