حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
قریش کا عجیب حسد

قریش کا عجیب حسد

عمر بن خطاب نے کہا: وہ کیا بات تھی؟

ہم نے پورا ماجرا ان کے سامنے بیان کر دیا، یہاں تک کہ قریش کے حسد اور اس بات کا ذکر بھی کیا کہ کچھ لوگ چاہتے تھے کہ ابوبکر کو اس بات سے منع کریں کہ وہ  عمر کو اپنا جانشین مقرر نہ کریں۔

عمر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا: اے مغیرہ! تیری ماں تجھ پر روئے؛ قریش میں نوّے نہیں ، بلکہ ننانوے فیصد حسد پایا جاتا ہے، اور باقی  ایک فیصد حسد دوسرے تمام لوگوں میں پایا  جاتا ہے اور  اس میں بھی قریش شریک ہیں ...! [1]

 


[1] ۔ جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد: ۱/۲۰۴۔

مراجعین : 20