امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
امام سجاد علیه السلام کے حکم پر خانۂ کعبہ کی تعمیر

امام سجاد علیه السلام کے حکم پر خانۂ کعبہ کی تعمیر

جب حجاج مکہ پر غالب آ گیا اور ابنِ زبیر سے جنگ سے فارغ ہو گیا اور ا س نے ابنِ زبیر اور اس کے ساتھیوں کے سروں کو شام روانہ کر دیا تو اس نے خانۂ کعبہ کی تعمیر کا ارادہ کیا۔

کافی میں ابان بن تغلب سے یوں نقل کیا گیا ہے کہ جب حجاج نے کعبہ کو منہدم کیا تو لوگوں نے اس کی مٹی اٹھا لی، اور جب اس نے دوبارہ اس کی تعمیر کا ارادہ کیا تو اچانک ایک سانپ نمودار ہوا اور لوگوں کو تعمیر کے کام سے روک دیا۔ لوگ گھبرا کر حجاج کے پاس گئے اور اسے سارا ماجرا بتایا۔

حجاج اس بات سے پریشان ہو گیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ خدا اس ذریعے سے کعبہ کی دوبارہ تعمیر کو روکنا چاہتا ہو۔ پھر وہ منبر پر چڑھا اور لوگوں کو قسم دے کر کہا کہ اگر کسی کو اس واقعہ کے بارے میں کچھ معلوم ہو تو وہ اسے بیان کرنے سے دریغ نہ کرے۔

ایک بوڑھا شخص اٹھا اور اس نے کہا: اگر کسی کے پاس اس واقعہ کی حقیقت کا علم ہے، تو وہ وہی شخص ہے جسے میں نے دیکھا کہ وہ کعبہ کے پاس آیا اور اس نے اس کی کچھ مٹی اٹھائی اور چلا گیا۔

حجاج نے پوچھا: وہ کون ہے؟ اس نے کہا: علی بن الحسین علیہما السلام ہیں۔

حجاج نے کہا: ہاں، اس علم کا معدن بھی وہی ہیں۔

پس اس نے امام کو بلانے کے لئے آدمی بھیجا اور جب  آپ تشریف لائے تو حجاج نے خدا ک ی طرف سے کعبہ کی دوبارہ تعمیر میں رکاوٹ کے واقعے کو بیان کیا۔

امام سجاد علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: اے حجاج! تو نے اس عمارت کو منہدم کر دیا جسے ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا، پھر اس کے اجزاء کو راستوں پر بکھیر دیا اور اسے لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ یہ عمارت تیری میراث ہے؟

منبر پر جاؤ اور لوگوں کو قسم دے کر کہو کہ جس کسی نے کعبہ کی کوئی چیز اپنے پاس رکھی ہے، وہ فوراً واپس کر دے۔

حجاج نے ایسا ہی کیا اور لوگوں نے تمام مٹی واپس لوٹا دی۔ جب ساری مٹی جمع ہو گئی تو علی بن الحسین علیہما السلام بنیاد رکھنے کے لئے تشریف لائے، اور حکم دیا کہ زمین کو کھودا جائے تاکہ ابراہیمی بنیادوں تک پہنچا جا سکے۔

وہ سانپ ان کی نظروں سے غائب ہو گیا، اور جب وہ ابراہیمی بنیادوں تک پہنچے تو حضرت نے فرمایا: پیچھے ہٹ جاؤ۔ لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ حضرت بنیاد کے قریب گئے، اسے اپنی چادر سے ڈھانپ لیا اور گریہ فرمایا۔ پھر اپنے دستِ مبارک سے اس پر مٹی ڈال دی۔

اس کے بعد مزدوروں کو بلایا اور فرمایا: اب تعمیر شروع کرو۔ چنانچہ انہوں نے کام شروع کر دیا۔ جبخانۂ کعبہ کی دیواریں بلند ہو گئیں تو حضرت نے حکم دیا کہ اس کے اندر مٹی بھر دی جائے۔ اسی وجہ سے خانۂ خدا کی سطح بلند ہو گئی، یہاں تک کہ اس پر سیڑھی کے ذریعے چڑھا جاتا ہے۔[1]، [2]

 


[1] ۔ کافی: ۴/ ۲۲۲، شهداء الفضیله: ۱۹۳.

[2] ۔ تاریخ مکہ : ۱۴۰.

بازدید : 12