امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام کا بُسر بن ارطاة پر نفرین کرنا

حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام کا بُسر بن ارطاة  پر نفرین کرنا

ایک دن عبیداللہ بن عباس معاویہ کے پاس گیا۔ بُسر بن ارطاة عامری بھی وہاں موجود تھا کہ جو اس کے بچوں کا قاتل تھا ۔ عبیداللہ نے کہا: اے بوڑھے شخص! کیا تم نے میرے بچوں کو قتل کیا تھا؟

اس نے کہا: ہاں۔

عبیداللہ نے کہا: میری خواہش تھی کہ ایک دن زمین مجھے تیرے قریب لے آئے۔

بسر نے کہا: اب تو وہ دن آ گیا ہے۔

عبیداللہ نے کہا: کیا یہاں کوئی تلوار موجود ہے؟

بسر نے کہا: یہ میری تلوار ہے۔

جب عبیداللہ نے جھپٹ کر اس سے تلوار لینے کی کوشش کی تو معاویہ اور وہاں موجود لوگوں نے اس سے پہلے ہی اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ پھر معاویہ نے بسر سے کہا: تم بہت بوڑھے اور کمزور ہو گئے ہو، عقل بھی ٹھیک نہیں رہی۔ کیا تم اپنی تلوار ایک ہاشمی خون کا بدلہ لینے والے شخص کو دے رہے ہو؟ گویا تمہیں بنی ہاشم کے دلوں کی خبر ہی نہیں۔ خدا کی قسم! اگر یہ تلوار اس کے ہاتھ لگ جاتی تو وہ ہم پر تم سے پہلے حملہ کر دیتا۔

عبیداللہ نے کہا: خدا کی قسم! میرا ارادہ بھی یہی تھا۔

جب امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو خبر ملی کہ بسر نے عبیداللہ کے دو بیٹوں قثم اور عبدالرحمن کو قتل کر دیا ہے تو آپ نے اسے بددعا دی اور فرمایا: اے خدا! اس کا دین اور عقل چھین لے۔ اس کے بعد وہ بوڑھا شخص دیوانہ ہو گیا اور اس کی عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ وہ ہمیشہ برہنہ تلوار ساتھ رکھتا تھا۔

اس کے لئے لکڑی کی تلوار بنا دی گئی اور اس کے سامنے ایک پھولا ہوا مشکیزہ رکھ دیا جاتا جس پر وہ تلوار مارتا رہتا، اور جب وہ پھٹ جاتا تو اسے بدل دیا جاتا۔ وہ مسلسل اسی طرح تلوار مارتا رہتا اور اسی حالت میں بے عقلی کی زندگی گزار کر مر گیا۔

وہ اپنی نجاست کے ساتھ کھیلتا تھا اور کبھی کبھی اسے کھا بھی لیتا تھا، اور اپنے نگہبانوں سے کہتا: دیکھو یہ عبیداللہ کے بیٹوں نے مجھے کیسے کھلایا ہے!

کبھی اسے روکنے کے لئے اس کے ہاتھ پیچھے سے باندھ دیئے جاتے۔ ایک دن اس نے اپنی جگہ پر نجاست کر دی اور اس پر منہ کے بل گر کر اسے کھا لیا۔ لوگ اسے روکنے لگے تو اس نے کہا: تم مجھے روکتے ہو لیکن عبدالرحمن اور قثم مجھے کھلا رہے ہیں۔

بُسر سنہ ۸۸ ہجری میں ولید بن عبدالملک کے زمانے میں ہلاک ہوا۔[1]

 


[1] ۔ مروج الذهب : ۲/ ۱۶۵.

بازدید : 6