حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام کی قدرت کی جانب ایک اشارہ

حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام کی قدرت کی جانب ایک اشارہ

مرحوم آیت‌الله نمازی لکھتے ہیں: شیخ مفید نے اپنی سند کے ساتھ سلمان فارسی سے، اور انہوں نے مولائے متقیان امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: اے سلمان! محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم افضل ہیں یا سلیمان؟

سلمان نے عرض کیا: محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  افضل ہیں۔

آپ نے فرمایا: اے سلمان! کیسے ممکن ہے کہ حضرت سلیمان کے وصی آصف برخیا تخت بلقیس کو فارس سے پلک جھپکنے میں سلیمان کے پاس لے آئے، حالانکہ ان کے پاس صرف کتاب کے علم کا ایک حصہ تھا، اور میں کہ جو نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وصی ہوں اور ہزار کتابوں کا علم رکھتا ہوں، اس سے کئی گنا زیادہ کام نہ کر سکوں؟ یقیناً میں کر سکتا  ہوں۔[1]

پس امیرالمؤمنین علیہ السلام اور ان کے گیارہ پاک فرزندوں کی قدرت و سلطنت اس سے کہیں زیادہ ہے۔کیونکہ وہ اپنےپدر  بزرگوار کی طرف سے ہزار کتابوں کے علم کے حامل ہوئے اور اسمِ اعظم کے بہتر ۷۲  حروف کے جاننے والے ہیں۔ لہٰذا ان کی توانائی ، طاقت اور قدرت تمام انبیاء و مرسلین سے زیادہ ہے۔

پس وہ  خدا کے اذن سے مردوں کو زندہ کر سکتے ہیں، پیدائشی اندھوں اور برص کے مریضوں کو شفا دے سکتے ہیں، اور دنیا کے کسی بھی حصے سے جو چاہیں لا سکتے ہیں۔مثلاً امیرالمؤمنین علیہ السلام کوفہ میں ہوں اور ہاتھ بڑھائیں تو شام کے پہاڑ سے برف حاضر کر سکتے ہیں، جیسا کہ ان کے بعض قضائی فیصلوں میں ذکر ہوا ہے۔ اسی طرح وہ جہاں چاہیں ایک لمحے میں جا سکتے ہیں اور کسی چیز یا شخص کو اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔

شیخ مفید کتاب’’اختصاص‘‘میں ابان بن عثمان سے، اور وہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:اے ابان! یہ شخص امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اس قول کا انکار کیسے کرتا ہے کہ آپ نے کوفہ میں فرمایا تھا اگر میں چاہوں تو اپنا پاؤں اٹھا کر شام میں معاویہ بن ابی سفیان کے سینے پر رکھ دوں اور اسے تخت سے گرا دوں، لیکن وہ حضرت سلیمان کے وصی آصف برخیا  کے اس قول کا انکار نہیں کرتے کہ میں تخت بلقیس کو سلیمان کے سامنے پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کر دوں گا؟!

کیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام انبیاء و مرسلین سے افضل نہیں ہیں؟ کیا ان کے وصی تمام انبیاء کے اوصیاء سے افضل نہیں ہیں؟ کیا امیرالمؤمنین علیہ السلام کو سلیمان کے وصی کی طرح مقام نہیں دیا جاتا؟

خدا ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے جو ہمارا حق انکار کرتے ہیں اور ہماری فضیلت و شرافت کا انکار کرتے ہیں۔[2]

 


[1] ۔ بحار الأنوار:  ۲۷/ ۲۸.

[2] ۔ بحار الأنوار:۱۴/ ۱۱۵ اور  ۲۷/ ۲۸اور ۴۲/ ۵۰. اثبات ‌ولايت سے منقول: ۷۲.

    مراجعین : 3