امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
زمین کوفہ

حضرت علی علیه السلام کے کوفہ میں

وارد ہونے کے بارے میں کچھ مطلب

*************************************

12رجب؛ حضرت على علیه السلام کا کوفہ میں وارد ہونا اور اس شہر کو اپنی حکومت کا مرکز قرار دینا (سنہ ۳۶ ہجری)

*************************************

زمین کوفہ

   على عليه السلام؛بصره سے روانہ ہوئے اور اس شہر میں عبدالله بن عبّاس کی تقرری کی اور جب آپ مربد(318) کے مقام پر پہنچے تو آپ نے بصرہ کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا:

اس خدا کا شکر ہے کہ جو مجھے اس شہر سے باہر لے آیا کہ جس کی خاک سب سے بدتر اور جو تباہی و ویرانی میں سب  سے زیادہ نزدیک اور آسمان سے دور ہے۔

   اور پھر آپ وہاں سے روانہ  ہوئے اور جب کوفہ کے نزدیک ہوئے تو فرمایا:

اے كوفہ! تم پر آفرین ہو۔ تمہاری ہوا کس قدر اچھی  ہے اور تمہاری خاک کیسی بابرکت ہے، تجھ سے خارج ہونے والا گناہ کی طرف جاتا ہے اور تجھ پر داخل ہونے والا رحمت کی طرف آتا ہے، روز و شب اور زندگی بسر نہیں ہوتی مگر یہ کہ مؤمنین تیری طرف آتے ہیں اور بدکار افراد تجھ پر رہنا پسند نہیں کرتے۔ اور تم اس طرح سے آباد ہو جاؤ گے کہ تجھ پر رہنے والے بعض لوگ جمعہ کے دن علی الصبح نماز جمعہ میں شرکت کرنے کے لئے روانہ ہوں گے لیکن راہ دور ہونے کی وجہ سے نماز جمعہ کے لئے نہیں پہنچ پائیں گے.(319)


318) شہر کی بیرونی فضا کو مربد کہتے ہیں.

319) اخبار الطوال: 189.

 

منبعغیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات: ص 227   

 

 

بازدید : 870