امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۶) معاویہ کے حکم پر حضرت اميرالمؤمنين‏ عليه السلام کے بارے میں احادیث گھڑنا

 (۶)

معاویہ کے حکم پر حضرت اميرالمؤمنين‏ عليه السلام

کے بارے میں احادیث گھڑنا

   ابوجعفر اسكافى کہتے ہیں: بیشک روايت ہوئی ہے کہ معاويہ نے سمرة بن ‏جندب کے لئے ایک لاکھ درہم بھیجے تا کہ وہ یہ روايت كرے کہ ان دو آیات کا شأن نزول علىّ بن ‏ابى طالب‏ عليه السلام کے بارے میں ہے: «انسانوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں کہ جن کی باتیں زندگانی دنیا میں بھلی لگتی ہیں اور وہ اپنے دل کی باتوں پر خدا کو گواہ بناتے ہیں حالانکہ وہ بدترین دشمن ہیں۔ اور جب ان کے پاس سے منہ پھیرتے ہیں تو زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کھیتوں اور نسلوں کو برباد کرتے ہیں جب کہ خدا فساد کو پسند نہیں کرتا»۔

(اور اسی طرح یہ روایت کرے) کہ آیت «اور لوگوں سے وہ بھی ہیں جو اپنے نفس کو مرضی پروردگار کے لئے بیچ ڈالتے ہیں» ابن ملجم کے بارے میں نازل ہوئی ہے!

   سمرة نے وہ رقم قبول نہ کی۔ معاویہ نے دو ہزار درہم بھیجے لیکن اس نے قبول نہ کئے. تین لاکھ درہم بھیجے لیکن پھر بھی اس نے قبول نہ کئے اور جب لاکھ درہم بھیجے تو اس نے قبول کر لئے اور اسی طرح روایت کی!

   اسكافى کہتے ہیں: یہ صحیح ہے اور درست ہے کہ بنى ‏اميّه نے ‏اميرالمؤمنين على‏ عليه السلام کے فضائل کا راستہ روکا اور آپ کے فضائل کو روایت کرنے والوں کو گرفتار کر لیتے اور یہاں تک کہ جب بھی کوئی شخص اميرالمؤمنين ‏على‏ عليه السلام سے کوئی حدیث نقل كرنا چاہتا کہ جو آپ کے فضائل سے مربوط نہ ہوتی بلکہ دین کے احکام سے مربوط ہوتی تو پھر بھی ان میں آنحضرت کا نازم لینے کی جرأت نہ ہوتی بلکہ وہ کہتے:ابو زینب سے یوں نقل کرتے ہیں۔

   عطاء نے عبداللَّه بن شدّاد بن ہاد سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں یہ دوست رکھتا ہوں کہ مجھے آزاد چھوڑا جائے تا کہ میں ایک دن صبح سے رات تک علىّ بن ابى طالب ‏عليه السلام کے فضائل کے بارے میں حديث نقل کروں کہ جس کی وجہ سے میری گردن کو تلوار سے جدا کر دیں۔

   اسكافى کہتے ہیں: اگر احاديث وارده در فضل اميرالمؤمنين على ‏عليه السلام کے فضائل کے بارے میں احادیث کو نقل کرنے سے کوئی خوف نہ ہوتا اور بنی امیہ و بنی مروان سے تقیہ و خوف کی فضا حاکم نہ ہوتی ( کیونکہ اپنی پوری حکومت میں آنحضرت کے شدید دشمن تھے) اور اگر وہ آنحضرت کے دشمن نہ ہوتے تو یہ روایات کثرت اور شہرت سے میسر ہوتیں۔ لیکن خداوند متعال نے اس بزرگ ہستی میں اسے راز پنہان رکھے ہیں کہ جنہیں صرف وہی حضرات جانتے ہیں کہ جنہیں جاننا چاہئے تھا۔ بنی امیہ و بنی مروان کی اس شدید دشمنی کے ہوتے ہوئے آنحضرت کے فضائل میں ایک حدیث بھی نقل نہیں ہونی چاہئے تھی اور آپ کے لئے کوئی ایک منقبت بھی معلوم نہیں ہونی چاہئے تھی۔ لیکن کیا ایسا نہیں ہوتا کہ اگر کسی شہر کا حاکم کسی شخص کا دشمن ہو اور وہ لوگوں کو اس کا نام لینے اور اس کا ذکرِ خیر کرنے سے منع کر دے تو آہستہ آتسہ وہ شخص گمنام ہو جاتا ہے اور لوگ اس کے نام کو بھول جاتے ہیں اور وہ موجود ہوتے ہوئے بھی معدوم ہو جاتا ہے، وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ تصور کیا جاتا ہے۔ (لیکن ان کی تمام تر دشمنی کے باوجود آج بھی آنحضرت کا نام باقی ہے اور باقی رہے گا)

یہ خلاصہ تھا کہ جسے ہمارے شيخ ابوجعفر اسكافى –کہ ان پر خدا کی رحمت ہو – نے اس بارے میں كتاب «التفضيل» میں ذکر کیا ہے ۔(1)


1) جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد: 240/2.

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

بازدید : 856