امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(3) معاويه کا على‏ عليه السلام کے بارے میں حق گوئی کا مقابلہ منعقد کرنا

 (3)

معاويه کا على‏ عليه السلام کے

بارے میں حق گوئی کا مقابلہ منعقد  کرنا

علاّمه حموينى نے سند کو ذکر کرتے ہوئے نقل کیا ہے: معاویہ کے پاس عرب کے تین نامور شعراء ‏طرماح طائى، ہشام مرادى اور محمّد بن عبداللَّه جمع ہوئے تو معاويه نے اپنی پاس ایک تھیلی (جس میں سونے کے سکہ تھے)رکھی اور کہا: اے ‏عرب کے شعراء!  علىّ بن ابى طالب‏ عليه السلام کے بارے میں اپنا منظوم نطریہ بیان کرو اور حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ میں (اپنے جد) صخر بن حرب سے اپنی نسل کا سلسلہ منقطع کر دوں گا کہ اگر میں اس تھیلی سے على ‏عليه السلام کے بارے میں حق‏گوئى کرنے والے کے علاوہ کسی اور کچھ عطا کرو۔

اسی دوران طرماح اٹھا اور اس نے (على سے بغض و عداوت اور معاویہ کی چاپلوسی کی وجہ سے) على ‏عليه السلام کی مذمت اور اہانت پر مبنی اشعار کہے۔

پس معاويه نے کہا: بیٹھ جاؤ؛ خدا نے تمہاری نیت جان لی اور على ‏عليه السلام کے بارے میں تمہارے موقف سے آگاہ ہو گیا۔

اس کے بعد ہشام مرادى کھڑا ہوا اور اس نے بھی على ‏عليه السلام کی مذمت میں اشعار کہے۔ معاویہ نے اس سے کہا: بیٹھ جاؤ؛ خداوند نے تم دونوں افراد کی نیت کو جان لیا اور على‏ عليه السلام کے بارے میں تمہارے نظریات سے آگاه ہو گیا۔

اس موقع پر عمرو عاص بھی اسی محفل میں موجود تھا کہ جس کا حميرى کے ساتھ ایک خاص تعلق تھا لہذا اس نے حمیری سے کہا: اب تم کچھ کہو اور على کے حق میں حق کے سوا  کچھ نہ کہنا۔

حميرى اپنی جگہ سے اٹھے اور کہا: اے معاویہ! تم نے یہ ارادہ کیا ہے کہ مال و زر کی یہ تھیلی على ‏عليه السلام کے بارے میں حق‏گوئى کرنے والے کے علاوہ کسی کو نہیں دو گے؟

معاويه نے کہا:ہاں! اگر میں یہ مال و زر على ‏عليه السلام کے بارے میں حق‏گوئى کرنے والے کے علاوہ کسی اور کو عطا کروں تو صخر بن حرب سے میرا رشتہ کی نفی ہو۔

پس محمّد بن عبداللَّه حميرى – جو ماں کی طرف سے سيّد مرتضى کے اجداد میں سے ہیں – کھڑے ہوئے اور آپ نے امير المؤمنین على‏ عليه السلام کی مدح میں ایک بہترین قصیدہ و منقبت کہی کہ جسے سن کا معاویہ بھی وجد میں آیا اور اس نے کہا: تم گفتار میں سب سے زیادہ سچے ہو، پس سونے کے سکوں سے بھری یہ تھیلی لے لو۔ معاویہ نے وہ تھیلی انہیں بطور انعام دی۔ (1) اور وہ قصیدہ یہ  ہے:

بحقّ محمّد قولوا بحقّ

فإنّ الإفك من شميم اللئام

أبعد محمّد بأبي واُمّي

رسول اللَّه ذي الشرف التهامى

أليس عليّ أفضل خلق ربّي

وأشرف عند تحصيل الأنام؟!

ولايته هي الإيمان حقّاً

فذرني من أباطيل الكلام

وطاعة ربّنا فيها و فيها

شفاء للقلوب من السِّقام

عليّ إمامنا بأبي واُمّي

أبوالحسن المطهّر من حرام

إمام هدى أتاه اللَّه علماً

به عرف الحلال من الحرام

ولو أنّي قتلت النّفس حبّاً

له ما كان فيها من أثام

يحلّ النار قوم أبغضوه

وإن صلّوا وصاموا ألف عام

ولا واللَّه لاتزكو صلاة

بغير ولاية العدل الإمام

أميرالمؤمنين بك اعتمادي

وبالغرِّ الميامين اعتصامي

فهذا القول لي دين وهذا

إلى لقياك يا ربّي كلامي

برأت من الّذي عادى عليّاً

وحاربه من أولاد الطغام

تناسوا نصبه في يوم »خمّ«

من الباري ومن خيرالأنام

برغم الأنف من يشنأ كلامي

عليّ فضله كالبحر طامي

وأبرأ من اُناس أخرّوه

وكان هو المقدّم بالمقام

علىّ هزّم الأبطال لمّا

رأوا في كفّه برق الحسام

 «فرائد السمطين» کی چاپ شدہ کتاب میں اس قصیدہ کے ذیل میں پانچ مزید اشعار بھی ذکر ہوئے ہیں لیکن «فرائد السمطين» کے خطّى نسخہ میں (جس سے علاّمه امينى نے (الغدير: 177/2) استفادہ کیا ہے) میں یہ قصیدہ 17 اشعار پر مشتمل ہے جسے اس کے مؤلف حموينى نے «خصائص العلويّة على ساير البريّة» حافظ ابوعبداللَّه محمّد بن احمد نطنزى سے روايت کیا ہے(2)

 


1) فرائد السمطين: 375/1، نيز بشارة المصطفى ‏صلى الله عليه وآله وسلم: 12، بحار الأنوار: 580/8 (چاپ كمپانى)، الغدير: 177/2.

2) الإمام اميرالمؤمنين على‏ عليه السلام از ديدگاه خلفاء: 197.

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

بازدید : 873