حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
(5) معاويه کا محمّد بن ابى بكر کو خط کا جواب

(5)

معاويه کا محمّد بن ابى بكر کو خط کا جواب

 معاويه نے محمد بن ابی بکر کے خط کا جواب کچھ یوں دیا:

   بسم اللَّه الرحمن الرحيم، معاوية بن ابى سفيان کی جانب سے اپنے باپ رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم کے خلیفہ کو ذلیل کرنے والے محمد بن ابی بکر کے لئے... امّا بعد، مجھے تمہارا خط ملا کہ جس  میں بیان کیا گیا کہ‏ خداوند نے اپنی عظمت و سلطنت اور قدرت سے  رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو منتخب کیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تم نے ایسی باتیں کیں کہ جو تمہاری رائے کی کمزوری، تمہارے باپ کی مذمت اور ابو طالب کے بیٹے کی فضیلت، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ان کی رشتہ داری اور خوفناک مواقع پر ان کی نصرت کو بیان کرتی ہیں۔

   تم نے میرے تمام عیب کسی اور کی فضيلت كو ثابت کرنے کے لئے بیان کئے نہ کہ اپنی فضیلت کے لئے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے تم سے یہ فضیلت دور رکھی اور دوسرے کے لئے فضیلت قرار دی۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں تمہارا باپ اور میں علی بن ابی طالب کے حق کو خود پر لازم سمجھتے تھے اور ہم ان کو خود سے افضل اور برتر سمجھتے تھے، یہاں تک کہ خداوند نے اپنے پیغمبر کی سرنوشت کو رقم کیا ، اپنے وعدہ کو متحقق کیا ، ان کی دعوت کو آشکار کیا اور ان کی حجت کو محکم کیا۔ اور پھر خدا نے ان کی روح کو قبض کیا۔

   سب سے پہلے جس نے اس (امیر المؤمنین علی علیہ السلام) کے حق کو زبردستی چھینا وہ تمہارا باپ اور اس کا فاروق تھا کہ جنہوں نے اس (امیر المؤمنین علی علیہ السلام) کی مخالفت کی اور اس کام میں انہوں نے آپس میں ہی اتفاق کیا اور امور کو مرتب کیا اور پھر اسے ( علی بن ابی طالب علیہما السلام) بلایا تا کہ وہ اس کی بیعت کریں لیکن اس نے بیعت کرنے سے گریز کیا اور بیعت کرنے کے لئے ان کے پاس نہیں گئے۔

   پھر انہوں نے اس کے بارے میں کچھ ارادہ کئے اور کچھ بڑے اقدامات کرنے کی منصوبہ بندی کی اور اس نے مجبورا ان کی بیعت کی اور تسلیم ہو گئے ۔ لیکن ان دونوں نے اسے امور میں شریک نہ کیا اور کبھی بھی اسے اپنے رازوں سے آگاہ نہ کیا اور اسی حالت میں ہی مر گئے اور اس کے بعد عثمان نے حکومتی امور سنبھالے اور اس نے بھی ان دونوں کی ہی راہ و روش کو جاری رکھا یہاں تک کہ نکالے گئے  گناہکاربھی عثمان سے وابستہ ہو گئے۔ لیکن تم دونوں (اس کی مراد محمد بن ابی بکر اور علی علیہ السلام ہے) نے اس کے پیٹ کو چیر دیا اور اس سے دشمنی کا اظہار کیا کہ جس کے نتیجہ میں وہ اپنے مقصد اور آرزو تک پہنچ گئے۔

   لیکن اے ابو بكر کے بیٹے! احتياط سے کام لو اور چادر دیکھ کر پاؤں پھیلاؤ اور کسی ایسے شخص سے نہ ٹکراؤ کہ جس کے حلم کا مقابلہ پہاروں سے ہوتا ہو اور کسی ایسے شخص کے عیب بیان نہ کرو کہ جس کی حکومت کے لئے تمہارے باپ نے زمینہ فراہم کیا ہو اور اس کی حکومت (بادشاہی) کے لئے مسند بچھائی ہو۔ اگر ہمارا کام درست ہے تو سب سے پہلے اس کام کی بنیاد تمہارے باپ نے رکھی اور تم اسی کی روش پر عمل پیرا ہیں۔ اگر تمہارے باپ اور فاروق نے وہ کام انجام نہ دیئے ہوتے تو اب ہم بھی كتاب خدا اور نصّ رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم کی ‏مخالفت نہ کرتے بلکہ اس کے سامنے تسلیم ہو جاتے اور اس کے گرد جمع ہو جاتے۔ پس تمہارے بیان کردہ یہ عیب خود تمہارے باپ کے لےئ ہیں۔ جس قدر چاہو اپنے باپ کے عیب بیان کرو یا اسے چھوڑ دو۔‏ و السّلام.(662)


662) نبرد جمل: 84.

 

منبع : معاویه : ج ... ص ...

 

مراجعین : 1032